جہادی کلچر، اسلحہ کی نمائش، ٹرمپ مودی ملاقات پاکستان نشانہ پر۔۔

سچ تو یہ ہے،

بشیر سدوزئی،

وزیراعظم انوار الحق کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر میں جہادی کلچر کے فروغ کا اعلان اور 5 فروری یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر راولاکوٹ میں پرانے شربت کی نئی بوتل میں نمائش کے مترادف، کالعدم مذہبی تنظیموں کی جانب سے اسلحہ کھلے عام لہرانے کے نتائج واشنگٹن ڈی سی سے برآمد ہوئے جہاں صدر ٹرمپ، وزیرِ اعظم نریندرا مودی نے پاکستان کو نشانے پر لیا، اور ایک مرتبہ پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں لا کھڑا کیا جب بھارت نے جموں و کشمیر کے مجاہدین کی حمایت کرنے پر پاکستان کو دہشت گرد ملک ثابت کرنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر اس جارحانہ سفارت کاری میں کامیاب ہوا، جس کے بعد تحریک کو لپیٹ لیا گیا ۔ تازہ ترین صورت حال کے مطابق پاکستان کے مسائل کم نہیں ہوئے بلکہ عالمی ساہوکار ابھی بھی پرانے ڈگر پر چل پڑھے ہیں۔ سوچنا ہو گا کہ مودی نے انوارالحق کے اعلان اور راولاکوٹ ایکشن کا رہی ایکشن تو نہیں دیا کہ تم وہ کرو گے، ہم یہ کریں گے، مجھے تو مودی کو یہ ایکشن بھاری لگتا ہے جس کا بوجھ چوہدری انوارالحق صاحب کے لیے اٹھانا دشوار ہو گا۔ واشنگٹن میں دونوں عالمی رہنماؤں کی مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران پاکستان سے ایسے ہی یک طرفہ مطالبات کئے گئے جو پرویز مشرف سے کئے گئے تھے کہ پاکستان کی سرزمین سے سرحد پار دہشت گردی روکی جائے۔ یہ سیدھا سادہ جموں و کشمیر میں حریت پسندوں کی کارروائیوں کی طرف اشارہ ہے جو حق خود ارادیت کے لیے لڑ رہے ہیں۔ جس کو بھارت دہشت گردی سے تعبیر کرتا اور الزام پاکستان پر دھرتا ہے۔ گو کہ پاکستان کی وزارت خارجہ نے سفارتی زبان میں اس کا جواب دیا لیکن واشنگٹن پریس کانفرنس سفارتی آداب کے برخلاف عالمی برادری کی سوچ بدلنے اور گمراہ کرنے کی کوشش تھی۔ ون آن ون ملاقات کے بعد پریس کانفرنس کی گئی لہذا اس میں دو رائے نہیں کہ مودی نے ٹرمپ کو اس حوالے سے بریف کر کے یہ کھلایا ہو گا، اور یہی مودی کی سفارت کاری کا مہور ہے۔ پرویز مشرف کے دور اقتدار میں کشمیریوں کی تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے بھارت نے تحریک کو دنیا بھر میں بدنام کیا تھا۔ اس میں کچھ غلطیاں اپنی بھی ہیں۔ 1989ء میں قوم پرستوں نے گوریلا کارروائیوں کا آغاز کیا تو بھارت کے پاس اس کے کنٹرول اور بین الاقوامی برادری کو گمراہ کرنے کے لیے کچھ نہ تھا۔ ہم نے خود مودی کو موقع دیا، تحریک کو جہاد کا نام دے کر غزوہ ہند شروع کر دی، اسلامی فوبیا والوں کو یہ نام گوارا نہیں۔ جب کہ مسلمان حکمران اس کی درست تشریح کر سکتے ہیں نہ دنیا کو قائل کر سکنے کی طاقت رکھتے ہیں۔ آج کی دنیا سے کٹ کر کوئی بھی ملک کامیابی حاصل نہیں کر سکتا ۔ بلآخر پاکستان کو عالمی دباؤ کے باعث اپنے موقف سے پیچھے ہٹنا پڑا۔ تحریک آزادی کشمیر کے لیے مقامی افراد کی شروع کی گئی گوریلا جدوجہد دہشت گردی کے زمرے میں شامل کی گئی جسے ڈاکٹر اسرار احمد اور کئی جید علماء کی مخالفت کے باوجود جہاد کا نام اور غزوہ ہند کہا گیا تھا۔ ماہرین ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ مذہبی جماعتیں اس بات پر کیوں باضد ہیں کہ تحریک آزادی کشمیر کو غزوہ ہند ہی کا نام دینا ہے اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جدوجہد کرنے والوں کو مجاہد اور حریت پسندوں کی کارروائیوں کو جہاد ہی کہنا ہے۔ جموں و کشمیر ریاست کی مختلف اکائیاں اور مختلف مذاہب ہیں جن کی زبان و ثقافت اپنی اپنی ہے، ہر کوئی اپنے مذہب اور زبان و ثقافت سے پیار کرتا ہے۔ اس لیے کسی ایک علاقے کی ثقافت اور مذہب کی بات کرنے سے دوسری اکائیوں میں شبہات پیدا ہوتے ہیں۔ غزوہ ہند کے نعرے نے مذہبی رنگ دے کر ریاست گیر تحریک کو وادی کے چند اضلاع تک محدود کر دیا۔ جموں ریجن وادی چناب، کٹھوعہ لداخ سمیت غیر مسلم آبادی کے اضلاع کو اس تحریک سے الگ کر کے وہاں کی آبادی کو نہ صرف بھارت کی حمایت کرنے پر مجبور کر دیا گیا بلکہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کو آسانی سے دانستہ یا نادانستہ راستہ مہیا کیا گیا، جہاں کے عوام وطن پرست، بھارت سے علیحدگی اور آزادی چاتے تھے آج ان علاقوں کی نمائندہ جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ہے۔ جہاد سے خوف زدہ ہو کر پنڈت ہی وادی سے کیا نکلے ریاست کے ہندوں نے بھی جن کی اکثریت 40 فیصد سے زیادہ ہے بھارتیہ جنتا پارٹی کی چھتری تلے پناہ لینے میں ہی آفیت جانی۔۔۔ جس کی آج اسمبلی میں 29 نشستیں ہیں۔ اس وقت جب مقبوضہ جموں و کشمیر میں جہاد شروع کرنے کی منصوبہ بندی کی جا رہی تھی، کے ایچ خورشید اور روشن خیال سنجیدہ حلقوں نے مضبوط سفارت کاری کے بغیر گوریلا کاروائیاں شروع کرنے کی مخالفت کی تھی بلکہ جید علماء کرام کا موقف تھا کہ جہاد جہاد قتال قتال کی نعرے بازی کے بجائے اسے تحریک آزادی جموں و کشمیر کا نام دے کر عالمی طاقتوں تک پیغام پہنچانے کے لیے جنگی محاذ کے ساتھ سفارتی محاذ کو بھی گرم کیا جائے اس کے لیے کشمیریوں کو ہی اختیار ہونا چاہیے کہ جہاں وہ گوریلا جنگ شروع کریں وہاں اپنے مقدمے کی سفارت کاری بھی خود کریں تاکہ اقوام عالم اس جہاد اور وقتال کو قبول کرے۔ لیکن معلوم نہیں اس وقت انوارالحق کی جگہ کس نے سھنبال رکھی تھی، جس کی سمجھ میں یہ بات نہیں آئی کہ آج کی دنیا اور ماضی بعید کے زمانے میں بہت فرق ہے۔ آج کی دنیا میں اسلحہ کاری کے ساتھ مضبوط سفارت کاری ضروری ہے ورنہ خالی اسلحہ کاری سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ وزیراعظم انوارالحق نے جہاد کلچر کی بحالی کا اعلان اور راولاکوٹ میں اس کا ٹرائلر دیکھا کر کچھ مولویوں اور ان کے ہم نوائوں سے داد تو وصول کر لی، لیکن اب واشنگٹن میں وارد ہونے والے بے لگام گھوڑے کو نتھ کون ڈالے گا جس کو آئے ابھی چند ہفتے ہوئے کہ فلسطین خالی کرنے اور کشمیر کو بھول جانے کا عندیہ دے دیا۔ اب کوئی مسلم رہنماء نہیں جو مودی کے جواب میں اس سفید ہاتھی سے ملے اور ان فیصلوں کو تبدیل کرائے جو مسلمانوں پر تھوپنے کے اعلانات ہو رہے ہیں۔ راولاکوٹ میں اسلحہ کی نمائش پر مولوی مائنڈ سیٹ کی سوشل میڈیا پر واہ واہ جاری تھی کہ 11 فروری کو قوم پرستوں نے بھی راولاکوٹ میں ایک کامیاب شو کر ڈالا جس سے اندازہ ہوا کہ قوم واضح طور پر دو حصوں میں تقسیم ہے۔ انوارالحق صاحب کا دعوی ہے کہ میرے قول و فعل میں تضاد نہیں۔ ترقیاتی منصوبوں کے علان کا مسئلہ ہو تو ہم اعتبار بھی کر لیں، جہادی کلچر یعنی مولویوں کو کھلے عام اسلحہ لہراتے ہوئے گھومنے کی اجازت، جہادیوں کے لیے سرحد عبور کرنے کی آسانی اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں جہاد اور قتال کی ذمہ داری قبول کرنا انوارالحق صاحب کے لیے مشکل ہو جائے گا، کیوں کہ اب عالمی حکمران جوبائنڈن نہیں ٹرمپ ہے، جو تاجر ہے، 170 ارب ڈالر اور ایک ارب 40 کروڑ انسانوں کی مارکیٹ اس کے سامنے ہے، انہی وسائل کو دیکھتے ہوئے ٹرمپ نریندرا مودی کو دوست اور بھارت کو اسٹریٹیجک پارٹنر کہتا ہے۔ اس بات کو بھی سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ٹرمپ نے اپنے بغل بچہ بنجمن نتن یاہو کے بعد مودی واحد عالمی رہنماء ہے جس کو واشنگٹن آنے کی دعوت دی۔ اس صورت حال میں وزیراعظم انوارالحق بَبانْگِ دُہل یہ اعلان کر سکیں گے کہ مجاہدین جو مقبوضہ جموں و کشمیر میں لڑ رہے ہیں میں نے بھیجے ہیں، میں کشمیری ہوں اور وطن کی آزادی کے لئے جہاد کر رہا ہوں۔ انوارالحق کا جہاد شروع ہونے سے پہلے ہی مودی واشنگٹن پہنچ گیا ہے اور ماضی کا تجربہ یہی ہے کہ جو پہلے واشنگٹن پہنچ جائے کامیابی اسی کی ہے۔ پیچھے رہ جانے والے اپنی عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے اپنی ہی سرزمین پر نعرے بازی اور تقریریں کرتے رئیں۔ جو ہم 78 برسوں سے سن رہے ہیں۔پریس کانفرنس میں پاکستان پر زور دیا گیا کہ وہ یقینی بنائے کہ اس کی سرزمین سرحد پار دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہو۔ دونوں عالمی رہنماؤں نے پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ممبئی حملوں اور پٹھان کوٹ واقعے میں ملوث مجرموں کو جلد انصاف کے کٹہرے میں لائے۔ اس ملاقات میں ایک اور پیش رفت ہوئی کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی جیل میں بند ممبئی حملوں کے مبینہ منصوبہ ساز پاکستانی نژاد امریکی تہور حسین رانا کی بھارت حوالگی کی حمایت کی، گویا تہور حسین رانا کو اب بھارت کے حوالے کیا جائے گا۔ یہ خدشہ موجود ہے کہ بھارت تہور حسین رانا سے پاکستان کے خلاف کوئی منفی بیان لے کر دنیا کو گمراہ کرنے کے لیے استعمال کرے۔ امریکہ اور بھارت کی سفارت کاری اس وقت عروج پر ہے اور دونوں ممالک نے 2030 تک اپنی دو طرفہ تجارت کو 500 ارب ڈالر تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ یہ کہنا تھا وزیراعظم نریندرا مودی کا۔ اس ملاقات میں دوسرا خطرے ناک فیصلہ یہ ہوا کہ واشنگٹن بھارت کو “کئی ملین ڈالر” کے فوجی ساز و سامان کی فروخت میں اضافہ کرے گا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ 21 ویں صدی کے لیے امریکہ اور بھارت کا تعاون ایک تاریخی قدم ہے جو ہماری شراکت داری اور دوستی کے ہر پہلو کو مضبوط کرے گی۔ بھارت کو رواں برس سے ہی دفاعی سازو سامان کی فروخت بڑھا دی جائے گی جس کے نتیجے میں نئی دہلی کو ‘ایف 35’ لڑاکا طیارے فراہم کرنے کی راہ ہموار ہو سکے گی۔ مودی نے کہا کہ ہمارا روز اول سے ہی یہ موقف ہے کہ امن ہونا چاہئے۔ تنازعات کا حل جنگوں سے نہیں مذاکرات کے ٹیبل پر ہی نکلتا ہے۔ لیکن مودی کشمیریوں کے تسلیم شدہ حق خودارادیت کے حوالے سے مذاکرات کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس کا جواب مودی کو کون دے کا انوارالحق یا شہباز شریف، وقت بتائے گا۔۔ قوم کو خبر ہے ذرا ذرا۔