یونیورسٹی میں مبینہ جنسی ہراسگی کے الزام میں پروفیسر گرفتار -پروفیسر نے طالبہ کو اغوا کرنے کی کوشش کی،ایف آئی آر

یونیورسٹی میں مبینہ جنسی ہراسگی کے الزام میں پروفیسر گرفتار -پروفیسر نے طالبہ کو اغوا کرنے کی کوشش کی،ایف آئی آر

یونیورسٹی میں مبینہ جنسی ہراسگی کے الزام میں پروفیسر گرفتار -پروفیسر نے طالبہ کو اغوا کرنے کی کوشش کی،ایف آئی آر

ملاکنڈ یونیورسٹی چکدرہ میں مبینہ جنسی ہراسگی کے الزام میں پروفیسرکیخلاف مقدمہ درج کرکے گرفتارکرلیا گیا۔ گورنر اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا نے نوٹس لے لیا۔ تحقیقات کیلئے کمیٹی بھی قائم کردی گئی۔

ایف آئی آر کے مطابق ملزم پروفیسرعبدالحسیب نے مبینہ طو پر طالبہ کے گھر میں داخل ہوکر اغوا کی کوشش کی اور سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

گورنرخیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیراعلیٰ علی امین گنڈا پور نے واقعہ کا نوٹس لے لیا۔ ایڈیشنل سیکرٹری ایڈمنسٹریشن اور اے آئی جی اسٹیبلشمنٹ پولیس کی نگرانی میں کمیٹی کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا۔

ملاکنڈ یونیورسٹی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد کی روشنی میں کیس کو منطقی انجام تک پہنچایا جائے گا ۔ ہراسمنٹ کمیٹی میں شکایت کنندہ کو اپنا موقف بیان کرنےکا موقع بھی دیا گیا ہے۔ جس کےبعد کمیٹی کی سفارشات کو تادیبی کارروائی کیلئے سینڈیکیٹ کو بھیجا جائیگا۔

ان کا کہنا تھا یونیورسٹی انتظامیہ نے ہراسمنٹ کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی اختیارکررکھی ہے اورمحفوظ تعلیمی ماحول کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جارہے ہیں۔

ملاکنڈ یونیورسٹی
جنسی ہراسگی
پروفیسر گرفتار
============================

شاعر آکاش انصاری کی موت حادثہ یا قتل؟ سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے
آکاش انصاری کو لے پالک بیٹے نے قتل کرنے کے بعد کمرے کو آگ لگا دی تھی،پولیس
شاعر آکاش انصاری کی موت حادثہ یا قتل؟ سنسنی خیز انکشافات سامنے آگئے
تازہ ترین خبروں اور تبصروں کیلئے ہمارا وٹس ایپ چینل جوائن کریں

سندھ کے معروف شاعر ڈاکٹر آکاش انصاری کے جھلس کرجاں بحق ہونے کےمعاملے نے نیارخ اختیارکرلیا۔

گذشتہ روز حیدرآباد کے علاقے سٹیزن کالونی میں ڈاکٹر آکاش انصاری کے گھر میں آتشزدگی کی اطلاع ملنے پر ریسکیو اور پولیس کی ٹیم پہنچی تو ڈاکٹر آکاش انصاری کی لاش نکال کرسول اسپتال حیدرآباد منتقل کر دیا۔

پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد ورثاء لاش کو لے کر بدین پہنچے۔ نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد قریبی قبرستان میں تدفین کی گئی۔ پولیس نے ورثاء اور ڈاکٹر کی جانب سے کی جانے والی باتوں پر آکاش انصاری کے لے پالک بیٹے وشال لطیف اورڈرائیور عاشق سیال کوحراست میں لے کرنا معلوم مقام پرمنتقل کردیا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ دوران تفتیش ڈرائیور نے اعتراف کیا ہے کہ آکاش انصاری کو وشال لطیف نے قتل کرنے کے بعد کمرے کو آگ لگا دی تھی۔ وشال آئس کا نشہ کرتا ہے اس وقت بھی نشہ کی حالت میں ہے۔

پولیس نے ڈرائیور کے انکشاف کے بعد ایک مرتبہ پھرکرائم سین کا دورہ کیا اور وہاں سے کچھ شواہد بھی اکٹھے کرلئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ آکاش انصاری نے اپنے بیٹے پرگذشتہ برس بھی بھٹائی نگر تھانے میں مقدمہ درج کروایا تھا جس کی بعد میں صلح ہوگئی تھی۔