
اسلام علیکم میں ہوں ارباب چانیو میں نے کل آپ کو ایک بلوچستان کی سیاسی صورتار اور انتظامی صورتار کے حوالے سے خبر دی تھی میں نے آپ کو بتایا تھا کہ فریال ٹالپر کے ہاں زرداری ہاؤس میں بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جن کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے ہے ان کی کل ایک لمبی بیٹھک ہوئی ہے اور اس بیٹھک کے دوران جو باتیں سامنے آئیں ہیں وہ آپ کو بتانا بہت ضروری تھا کیونکہ آپ اس بات کا انتظار کر رہے تھے کہ آخر اس بیٹھک میں ہوا کیا ایک تو میں آپ کو بتاؤں گے کل تقریباً پانچ گھنٹے زرداری آوس میں بلوچستان کے عراقین سوبائی اسیملی جن کا تعلق پاکستان پیپلس پارٹی سے
ہے ماں سوائے وزیر علا کے یعنی وزیر علا وزیر علا اس بیٹھک میں نہیں جائے پانچ گھنٹے تک جاری رہے اس پانچ گھنٹے کی بیٹھک میں یہ بیٹھک جو ہے ٹکڑوں ٹکڑوں میں ہوئی ہے ایک ساتھ بیٹھک نہیں ہوئی یعنی سب کو ایک ساتھ بلایا نہیں گیا ان سب کو ٹکڑوں ٹکڑوں میں کسی کو چار کسی کو تین کسی کو دو کی ٹولیوں میں کل جو ہے وہ بلایا گیا وہاں پر دو لوگ کامن تھے ایک فریال تارپورت صاحبہ اور ایک جو بلوچستان امور کو اس وقت پاکستان پیپرس پارٹی کی طرف سے ایڈیشنل دیکھ رہے ہیں وہ تھے رکنے قومی اسیمبلی جو ہے ایجاد جکرانی وہ وہاں پر موجود تھے اور ان کو
الگ الگ بلا کر جو ہے بلوچستان کے وزیرعالہ کے بارے میں پوچھا گیا ہے اب دو میں نے دونوں طرف سے موقف لیا اور دونوں موقف میں آپ کو دے رہا ہوں اس کے بعد تیسرا اوپینن ہمارا اور آپ کا ہوگا ایک اوپینن یہ تھا کہ کل جو ہے ماہ سوائے دو تین ایم پی ایس کے باقی تمام ایم پی ایز نے فریال تالپر کو اور ایمین ایجاز جکرانی کو یہ بتایا کہ ہمیں کوئی بھی وزیر علا بلوچستان سے مسئلہ نہیں ہے کیا ہمیں وزیر علا بلوچستان سرفراز بگٹی سے کوئی مسئلہ نہیں ہے اگر اسے آپ کنٹینیو رکھتے ہیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن دوسری جانب دو سے تین ایسے عراقین تھے جن میں بشمول علی حسن زہری جنہوں
نے وہاں پر وزیر علا سرفراز بگٹی کے خلاف شکایات کے دفاتر بھی کھول دیئے اور وہاں پر انہوں نے بہت ساری شکایتیں کی اور ان کا یہ زور تھا کہ انہیں مزید وزیر اعلیٰ کے طور پر چلنے کی مولت نہ دی جائے جب یہ اجلاس ختم ہوا تو پہلا رابطہ میرا جو ہوا لادمی ہے وہ علی حسن زہری کی سائٹ سے ہوا ان سے میں نے پوچھا تو انہوں نے یہوزیر اعلیٰ کو مولت ہے جبکہ دوسری جانب جو موقف سامنے آیا ہے یہ سرفراد
بگٹی کے جو سرفراد بگٹی کو وزیر اعلیٰ رہنا چاہتے ان کی طرف سے یہ موقف آیا ہے کہ ہم نے بھی وہاں یہ بات کیے کہ سرفراد بگٹی کو رہنے دیا جائے اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ ہم نے فریال تالپر کے سامنے یہ بھی بات کی کہ جو علیہ السندھ زہری کی سائ� سے جیسے وہ اپنے حلقے میں مداخلت برداشت نہیں کرتے ایسے ہم بھی چاہیں گے کہ ہمارے حلقوں میں یا ہماری منسٹریوں میں علیہ السلام بروئی کی جانب سے یا ان کی سائیڈ کی جانب سے یا ان کے لوگوں کی جانب سے مداخلت نہ کی جائے ایک رکنے اسیملی نے یہ بھی واضح کیا کہ اگر یہ مداخلتوں کا سسلہ جاری رہا
یعنی علیہ حسن زہری کے طرف سے وزیر اعلیٰ یا وزیر اعلیٰ کی جانب سے ہمارے حلقوں میں یا کسی نہ کسی طرح سے کوئی نہ کوئی کسی کے حلقوں میں مداخلت کرے گا تو ایک رکن نے کہا کہ پھر میں پارٹی کے ساتھ نہیں رہوں گا کیونکہ پارٹی میں میں اپنے ہی بلبوتے پر منتخب ہو کر آیا ہوں پارٹی کے بلبوتے پر منتخب ہو کر نہیں آیا اب نتیجہ کیا نکلا نتیجہ یہ نکلا کہ فوری طور پر سرفراز بکی جو ہے وہ تو وزیر اعلیٰ کے طور پر کہیں جا نہیں رہے کیونکہ کل کی میٹنگ کا جو نتیجہ ہے اس میں یہ ہے کہ انتظار کرو دیکھو اور بعد میں جو کچھ ہوگا اس کے حوالے سے
ایک فوری خبر یہ آئی ہے کہ جی آہ فریال ٹالپر نے دونوں فریقوں کو بیان بازی کرنے سے روک دیا ہے اور یہ کہا ہے کہ آپ بیان بازی نہ کریں اور پارٹی ڈسیپلین کا خیال رکھیں یہ جو معاملہ شروع ہوئے تھے یہ کیسے شروع ہوئے ان میں ایک جو معاملہ شروع ہوا وہ یہ کہ آہ آہ علی حسن زہری کی سائٹ سے یہ تجویز تھی کہ آہ پاکستان پیپلس پارٹی کے جیالوں اور ورکروں کو ملازمتیں دینے کے لیے چار اکنی ایک کمیٹی بنائی جائے اور وہ کمیٹی جو ہے اس پوری صورتحال کو دیکھے اور آہ جو ہے وہی سارے فیصلے کریں لیکن یہ بات جو ہے آہ رت کر دی گئی وہاں پر اور یہ کہا گیا کہ نہیں جو فوکل
پرسن ہے آہ وہاں کے پرانے جو ہے اقبال شاہ ہے وہی اس پوری صورتحال سورتال کو مانیٹر کرنے کے لیے پھر ایک اور بھی جو ہے وہ آج وہاں پر ایک آہ ملک صاحب ہیں انہیں بھی جو ہے جو کہ امینے ہیں انہیں اس
پوری سورتال کو مانیٹر کرنے کے لیے دیا گیا اب وہ طاقت کا توازن جو ہے وہ بلوچستان میں بگڑتا ہوا جا رہا ہے آپ کو پتا ہے کہ سرفراد بگٹی کو کن طاقتوں کی حمایت حاصل ہے اور اس یہ آخر آیا کیسے پاکستان پیپس پارٹی میں یہ قصہ بتانا آپ کو بہت ضروری تھا یہ ہوا کہ انتخابات کے پہلے پہلے دنوں میں ہی وہاں پر جو ہے وہ نواز شریف بھی آئے ہوئے تھے اور پاکستان پیپلز پارٹی کی لیڈرشپ بھی بلوچستان کے مسلسل دورے کر رہی تھی اسی دوران جو ہے سرفرات بکٹی کا یہ تھا کہ وہ نون لیگ جوائن کریں لیکن پیغام یہ آیا کہ صبح سب سے پہلے جو گاڑیاں آپ کے پاس پہنچے آپ نے انہی اٹھایا گیا ان کا ملازم اٹھا اور ان کو بولا کہ جی سرفرات بگٹی صاحب کو ہم نے اپنے ساتھ لے کر جانا ہے سرفرات بگٹی صاحب سوئے
ہوتے بہرحال ان کو اٹھایا گیا کیونکہ ان کو یہ پیغام تھا کہ جو پہلے گاڑی آئیں گی اسی میں وہ انہوں نے بیٹھ کے جانا ہے سرفرات بگٹی اسی گاڑی میں بیٹھ گیا بیٹھنے کے بعد پھر انہیں کہا گیا کہ آپ اپنا فون یعنی موبائل سوچ آف کر دے اس کے بعد انہوں نے اپنا موبائل سوچ آف کیا اور بعد میں جو ہے انہیں کہا گیا کہ آپ پاکستان پیپلز پارٹی کو شمولیت کر لے اور پاکستان پیپلز پارٹی میں شمولیت کرانے والوں نے ہی انہیں وزیر اعلیٰ بنایا ہے تو لہذا یہ بات کے جو سرفراز بگٹی ہے وہ کوئی لا وارث نہیں ہے اس کے وارث ہے سرفراز بگٹی کے بھی وارث ہے اور ادھر علی حسن زہری بھی جو ہے وہ لا وارث نہیں ہے
اس کے بھی وارث ہے اب دو وارثوں کے درمیان یہ جو لا وارث بیچ میں ہیں ان کا وہ آپس میں جو ہے وہ ایسا نہ ہو کہ دو بڑے لڑ جائیں اور بیچ میں جو ہے ہلکے پھلکے ادھر ادھر ہو جائیں تو لہذا بلوچستان کی سیاست کو سمجھنے کے لیے اور خصوصاً بلوچستان کی اقتداری سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ دیکھا جائے کہ طاقت کا توازن کہاں پر ہے مزید یہ کہ یہ بات ثابت ہو گئی کہ سرفرات بگٹی اب کہیں نہیں جا رہے میں نے بتایا کہ سرفرات بگٹی کی پاکستان پیپلز پارٹی میں کس طرح انٹری ہوئی اور اسے انٹری دلانے والے جو ہلکے ہیں آپ کو بتا ہے کہ جو کاکر صاحب ہے وہ اور جو ہے جو سرفراد بگٹی صاحب ہیں وہ ایک ہی مطلب گلی سے گزر کے ہوئے جاتے ہیں لہذا ان کے اثر اصو کا آپ کو بہت بھی اندازہ ہو گیا ہوگا کہ وہ کتنے بہاثر ہیں اور ادھر بھی آپ کو بتا ہے کہ علی سنگھ زہری کو لاکر ایم پی اے بنا کر وزیر بنا کر اسے چانہ لے جا کر پھر اسے اتنا آگے لے کر آنے والے بھی جو ہے وہ بھی برال طاقتور ہیں
اور اب طاقتوں کے درمیان جو ہے دیکھنا یہ ہے کہ فلال تو ان کی جو ہے وہ ایک عارضی طور پر کہا جائے کہ سیس فائر ہوا ہے لیکن یہ مزید سیس فائر چلے گا نہیں یہ بات نکلے گی ضرور اور ایک آنے والے وقتوں میں ایک اور آپ کو اسی طرح کی لڑائی جو ہے وہ ایوانوں میں نظر آئے گی اور وہ لڑائی اس سے زیادہ شدید اور شاید زیادہ جو ہے وہ پاورفل ہو جائے کیونکہ ایک دفعہ آپ نہ کسی کے سامنے کھڑے ہو جائے اور اوتے کا لحاظ نہ کریں تو پھر یہ کھڑے ہونے کی روایت رہتی ہے برال برستان کی سورتال کا کل کا جو حالہ حال ہے میں نے آپ کو بتایا مزید اپ ڈیٹ ہوگی میں آپ کو بتاؤں گا خدا حافظ






















