حوصلے بھی ان پہاڑوں کی طرح بلند ہیں


پاکستان دنیا کی خطرناک اور بلند ترین پہاڑیوں کی سرزمین ہے اور اس میں کوئی غلط بات نہیں ہے کیونکہ سات ہزار فٹ سے بلند ایک سو آٹھ پہاڑ پاکستان میں واقع ہیں چھ ہزار فٹ سے بلند بھی اتنے یا اس سے بھی زیادہ پہاڑ پاکستان میں ہیں پانچ ہزار فٹ اور چار ہزار فٹ سے زیادہ بلند پہاڑوں کا تو پاکستان میں کوئی شمار ہی نہیں ہے ان کی تعداد بہت زیادہ ہے آٹھ ہزار سے بلند پہاڑوں کو دنیا کے بلند پہاڑوں میں مانا جاتا ہے اور دنیا کے بلند ترین چودہ پہاڑوں میں سے پانچ بلند ترین پہاڑ پاکستان میں واقع ہیں یہ قدرت کا کرشمہ ہے پاکستان پر اللہ کی رحمت ہے

کہ دنیا بھر کے سی ان پہاڑوں کو دیکھنے اور ان پہاڑیوں کو ان کی چوٹیوں کو سر کرنے کے لیے پاکستان آتے ہیں یا انہیں پاکستان آنا پڑتا ہے کیٹو دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی ہے جو ماؤنٹ ایورسٹ جو دنیا کی سب سے بڑی چوٹی نیپال میں واقع ہے اس سے صرف سات سو اٹھالیس فٹ چوٹی ہے تیس جولائی انیس سو چوبن کو پہلی مرتبہ کیٹو کی بلند ترین دوسری چوٹی کو فتح کیا گیا اس وقت اٹالین باشندہ تھا جس نے پاکستان کے ایک پورٹر کو ساتھ لیا اٹلی کے باشندہ ڈیوڈ رابرڈسن نے پاکستانی پورٹر آمیر مہدی کے ساتھ چھبیس ہزار پانچ سو پچھتر فٹ اونچی کیٹو پہاڑی سرکی اور یہ کا نام انجام دیا
پاکستان میں دوسری بلندی چوٹی نانگا پربت ہے جو دنیا کی نائنز ہائیسٹ یا ٹالسٹ پہاڑی چوٹی ہے اور اس کی بلندی 8126ڑی یا چوٹی گیشر برم ون ہے جسے کے فائف بھی کہتے ہیں یہ دنیا کی الیونتھ یعنی گیرمی بلند ترین چوٹی ہے اس کی بلندی چھبیس ہزار پانچ سو دس فیٹ ہے یہ پاکستان اور چین کے بورڈر پر واقع ہے پاکستان کی چوتھی بلند ترین پہاڑی چوٹی براؤڈ پیک ہے جسے دنیا میں بارویں بلند ترین چوٹی یعنی کی ٹویلتھ ہائیسٹ یا ٹولسٹ پہاڑی کا درجہ حاصل ہے اس کی بلندی 26,414 فٹ ہے پاکستان میں پانچویں نمبر پر بلند ترین پہاڑ گیشر برم ٹو جسے کی فور بھی کہتے ہیں
یہ دنیا کی تیرہویں بلند ترین پہاڑی چھوٹی ہے اس کی بلندی 26,362 فٹ ہے دوستو آپ کے لیے یہ بات جقیناً خوشی کا باعث ہوگی کہ ایک پاکستانی لڑکی سمینہ خیال بیک ماؤنٹ ایورسٹ سر کر چکی ہیں پاکستان سے تعلق رکھنے والی یہ بہادر لڑکی ان کا تعلق حمزہ گلگت کے شمال شمشال گاؤں سے ہے ان کے بھائی مرزا علی بھی ماؤنٹ ایورسٹ سر کر چکے ہیں یوں جو یہ بہن بھائی دنیا کی بلند ترین چوٹی سر کرنے اور وہاں سبزلالی پرچم لہرانے والے خوش نصیب پاکستانی ہیں ان کے اور بھائیوں میں محبوب علی گل محمد اور ظلفکار بھی پہاڑوں کو سر کرنے والے
لوگ ہیں یہ پورا خاندان ہی پہاڑوں کی چوٹیوں کو سر کرنے کا ماہر ہے اور یہی ان کا مشغلہ ہے مرزا علی سات برے عظموں کی بلند چوٹیوں سر کرنے والے پہلے پاکستانی بن چکے ہیں سمینہ بیگ کے بارے میں یہ بتانا ضروری ہے کہ انہوں نے بھارت کی دو لڑکیوں تاشی اور ننم شی مالک کے ساتھ مل کر ایک ٹیم بنائی تھی اور انہوں نے نیپال میں واقعہ دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایوریسٹ کو سر کیا اس مشن میں انہیں اٹھالیس دن لگے اور یہ پیس مشن تھا اور ایک طرف انڈیا کی کوپی ماں انڈین پرچم لہر آ رہی تھی ماؤنٹ ایبرس پر ان کے ساتھ دوسری طرف پاکستانی کوپے ماں سمینہ بیگ پاکستانی پرچم کو وہاں پر نصب کر رہی تھی
(04:31) یہ پاکستانی پرچم لہر آ رہی تھی یہ پاکستان اور انڈیا جن کے درمیان بہت ساری جنگیں لڑی جا چکی ہیں بہت سارے تنازات ہیں کشیدگی ہے ان کے درمیان ان کی خواتین نے یہ پیس مشن اور دوستی کے نئے سفر کی بنیاد رکھی اور انہوں نے یہ چھوٹی سر کی یہ بات ہے دوہزار تیرہ کی جب انہوں نے ماؤنٹ ایبرس سر کی تھی سمینہ خیال بیگ انیس ستمبر انیس سو نوے میں پیدا ہوئی دوہزار چودہ تک وہ سات بلند چھوٹیاں سر کر چکی تھی یہ ازاد حاصل کرنے والی پہلی پاکستانی اور مسلم خاتون ہیں جنہوں نے ماؤنٹ ایبرس سر کی اور صرف اکیس سال کی عمر میں انہوں نے دنیا کی
(05:08) بلند سرین چوٹی کو سر کرنے کا قانون جان دیا یہ بھی ان کا ایک ریکارڈ ہے دوہزہ دس میں پاکستان میں چھ ہزار میٹر بلند چوٹی چاشکین سر کو بھی انہوں نے سر کر لیا تھا اس کا نام پھر سمینہ پیک کے نام پر سمینہ پیک رکھ دیا گیا اور یہ بھی ان کے لئے ایک عزاس کی بات ہے دوہزار گیارہ میں انہوں نے کوہ برابر بھی سر کر لیا تھا پاکستان میں کوہ پیماؤں کی کوئی کمی نہیں ہے پاکستان میں کوہ پیماؤں کا بہت پوٹنچل ہے پاکستان انچے بلند پہاڑوں کی سرزمین ہے اس لئے پاکستان کے لوگوں کے حوصلے بھی ان پہاڑوں کی سرزمین ہے اس لیے پاکستان کے لوگوں
(05:45) کے حوصلے بھی ان پہاڑوں کی طرح بلند ہیں اور پاکستان اب دنیا کے لیے ڈسکور ہونے جا رہا ہے ٹورزم کے حوالے سے حکومت اس پر بہت کام کر رہی ہے اور آنے والے برسوں میں یقینی طور پر پاکستان ٹورزم انڈسٹری کو فروغ دے گا تو دنیا کو پتہ چلے گا کہ پاکستان میں قدرت کے کون کون سے انمول خزانے موجود ہیں کتنے حسین مناظر ہیں وادیاں ہیں پہاڑیاں ہیں آبشارے ہیں دریاں ہیں تو ان سب چیزوں کو قدرت کے حسین نظاروں کو دیکھنے کے لیے جب دنیا پاکستان آئے گی یقینی طور پر پاکستان اس حوالے سے ذرہ مبادلہ بھی کمائے گا پاکستان میں کچھ حالی بھی آئے گی پاکستان میں روزگار
(06:22) کے نئے مواقع بھی آئیں گے پاکستان میں ٹوریزم انڈسٹری بڑھے گی تو ہوتلنگ بڑھے گی ایلائنز روزگار کے نئے مواقع بھی آئیں گے پاکستان میں ٹورزم انڈسٹری بڑھے گی تو ہوتلنگ بڑھے گی ایلائنز کو فروغ حاصل ہوگا کاروبار چلیں گے ہوتلز بڑھیں گے تو بہت سارے کام اس پر جڑے ہوئے ہیں حکومت اس پر توجہ دے رہی ہے اور ہم سب کو چاہیے کہ ہم پاکستان سے جڑی ہوئی ٹورزم اور پاکستان کی جو اچھی حبریں ہیں دنیا تک پہنچائیں اسی سلسلے کی یہ کڑی ہے اور ہم آنے والی ویڈیوز میں اس حوالے سے مزید معلومات اپنے دوستوں تک پہنچاتے رہیں گے تاں کہ آپ انہیں اور آکے شیئر کرتے رہیے
(06:50) آج کے نشید کے لیے اتنا ہی اب اجازت چاہتا ہوں اللہ نگے بان