
خیال تھا کہ خاندان کا سنہرہ مستقبل بنگال میں اس کا انتظار کر رہا ہے لیکن انیس سو سنتالیس میں قیام پاکستان کے باعث واپس یہ خاندان پنجاب آ گیا انیس سو سنتالیس میں ہی اس خاندان میں ایک بچے کی پیدائش ہوئی جسے آج دنیا پاکستان کے دولت مندرین شخص کی حصیت سے جانتی ہے یہ بات ہو رہی ہے میاں محمد منشا کی جو پاکستان کے ہم عمر ہیں لیکن پاکستان سے بھی زیادہ دولت مند ہیں ان پر اتنے برسوں میں کوئی کرزہ نہیں چڑھا لیکن پاکستان کرزوں میں ڈوب چکا ہے وہ تو دوسروں کو بلکہ خود حکومت پاکستان کو کرزہ دینے والے بینک کے مالک بھی بن چکے ہیں

لیکن سب سے زیادہ ٹیکس دینے والوں میں بھی نمائع ہیں اس لیے ان کی شخصیت کے مصبت اور منفی دونوں پہلو زیر بحث رہتے ہیں ان کی حمایت کرنے والے ان کے گنگانے والے اور ان کی تعریفیں کرنے والے بہت ہیں اور ان پر تنقید کرنے والے اور ان سے خائف اور ان کی کامیابی سے جلنے والے بھی کم نہیں ہیں بے حساب دولت رکھنے والے میاں محمد منشاہ کی سب سے بڑی پہچاند نشات گروپ ہے نشات ٹیکسٹائل مل سے کامیابی کا سفر آگے بڑھانے والا یہ ایک چنیوٹی خاندان ہے اس وقت کون سا بڑا بزنس ہے جس میں یہ خاندان اپنا کمال نہیں دکھا رہا ایک مالدار چنیوٹی گھرانے میں فیصل آباد میں ہوش سنبھالنے والے
میاں محمد منشاہ نے ابتدائی تعلیم فیصل آباد پنجاب اور آلہ تعلیم لندن برطانیہ سے حاصل کی نشات ملز کا آغاز ویسے تو انیس سو کیاون میں میاں منشاہ کے والد اور ان کے انکلز نے کیا تھا لیکن جب میاں منشاہ لندن میں زیر تعلیم تھے اور ان کے والد کا انتقال ہو گیا تو پھر ایک سال بعد انہوں نے اپنے انکل سے بزنس کو الگ کر کے خود بزنس کی باغ دور سنبھالی یہ انیس سو سر سٹھ اٹھ سٹھ کی بات ہے انیس سو انتر میں انہوں نے فیملی بزنس کے بٹوارے کے بعد خود بزنس کو لیٹ کیا نشات ٹیکسٹائل میلز کو پاکستان کی سب سے بڑی فیبرک ملز بنانے کا عزاز انہیں حاصل ہوا
انیس سو ناسی میں انہوں نے نشات آباد فیصل آباد میں سات فیکٹریوں کا سب سے بڑا تیکسٹائل کمپلیکس قائم کیا یہ اپنی طرز کا ایک منفرد تجربہ تھا ایسا ہی تیکسٹائل کمپلیکس انہوں نے بعد میں چونیاں اور پھر لاہور میں قائم کیا کہا جاتا ہے کہ انیس سو نوے کی دہائی ان کی زندگی میں انقلاب لے کر آئی جب پاکستان میں نجکاری کا دور شروع ہوا تو سب سے بڑے بینفشری میاں منشاہ ہی قرار دیے جاتے ہیں انہیں آدم جی انشورنس میں کنٹرول حاصل ہو گیا ایم سی بی بینک ان کے پاس آ گیا ڈی جی سیمنٹ کے قریب واقعہ تھرمل پاور بھی ان کو مل گیا
دو تھرمل پاور کا کنٹرول حاصل کر کے نشات گروپ کے لیے بلا تاتل بجلی کی فراہمی یقینی بنا لی گئی دوہزار دس میں فوربیز میکزین کے مطابق پاکستان کا پہلا اور دنیا کا نو سو سنتیس ماہ امیر ترین شخص کوئی اور نہیں میاں محمد منشاہ تھے وہ اس وقت سات سو ملین ڈالرز کے تقریباً حساب لگائے گئے تھے کہ انہوں نے ملیشیا میں بینکنگ انڈونیشیا اور میڈل ایسٹ میں بینکنگ اور پھر کذاکستان میں آٹو لیزنگ کمپنی قائم تھے اور اس کے مالک بن گئے ایک دہائی پہلے ان کی دولت کا اندازہ دو سو ارب روپے پاکستانی لگایا گیا تھا ان کا بزنس جس تیزی سے مختلف شعبوں
03:49
اور مختلف ملکوں میں پھیل رہا ہے اسی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ان کی دولت کا حجم کس تیزی سے بڑھ رہا ہوگا یا بڑھ چکا ہوگا وہ امریکی بزنسمن دوستوں سے لے کر بھارتی بزنسمن دوستوں تک اکثر امیر ترین لوگوں سے صلاح مشورہ کرتے رہتے ہیں ظاہر ہے امیمن دوستوں تک اکثر امیر ترین لوگوں سے صلاح مشورہ کرتے رہتے ہیں ظاہر ہے امیر لوگوں کے دوست بھی امیر ترین ہی ہوں گے دوستوں کے مشورے پر ہی انہوں نے خود کو ائر لائن بزنس سے دور رکھا ونہ پی آئی اے کے حوالے سے ان کا نام لیا جاتا رہا کہ وہ کسی بھی وقت پی آئی اے خریدنا چاہتے ہیں
04:20
لیکن ایسا عملی طور پر نہیں ہوا اور ان کے دوستوں نے بتایا کہ ائر لائن کے بزنس سے نقصان زیادہ ہے فائدہ کم میاں منچہ کی اہلیہ اور تین بچے ہیں لیکن انہوں نے خود کو اور اپنے خاندان کو براہ راست سیاست میں ملوث نہیں ہونے دیا البتہ سیاستدانوں کی دوستی کو ضرور انجوائے کیا ہے ان کے خلاف مختلف حوالوں سے تنقید ہوتی رہی الزامات لگتے رہے نیب سمیت مختلف سرکاری اداروں میں شکایات بھی آتی جاتی رہتی ہیں خوچ گھج بھی ہو چکی ہے لیکن میاں منشاہ سب پر بھاری ہیں مجھے اجازت دیجئے























