حضرت محمد عبدالغفار المعروف پیر مٹھا سائين رشد و ھدایت کے روشن چراغ

تحریر محمد عاشق پٹھان

سندھ کی سرزمین نے ہر دور میں عظیم لوگوں کو جنم دیا ہے، کچھ لوگ میدان جنگ میں تلواروں اور تیروں سے جنگیں جیتتے ہیں لیکن وہ لوگ جن کی شخصیت کے سحر سے انسانیت کے دل میں روحانیت کی شمع روشن ہوتی ہے اور اللہ کے نام کی برکت سے اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اور ان کا مقام اس لیے بلند ہے کہ وہ اپنے آپ کو مار ڈالتے ہیں اور زندگی کی آسائشوں اور زندگی کی لذتوں کے بجائے اپنے رب کی رضا کے لیے نگر نگر میں انسانیت کی بھلائی اور فلاح و بہبود کے لیے نیکی کی دعوت پھیلانے نکل پڑتے ہیں۔ بنی نوع انسان کی بقا و سلامتی اپنے رب العزت کی رضا اور اپنے محبوب حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی خوشنودی کے لیے صوفی بزرگوں کی رہنمائی ہے۔ جو بزرگان دین رب العزت کیلئے عاجزی، انکساری کرتے ہیں اور نہ صرف پانچ وقت کی نماز، بلکہ ان کی تہجد کی نمازیں بھی نصیب ہوتی ہیں وہ بڑے خوش نصیب ہیں، ایسے بزرگ بندوں کی عبادتیں اور پکارنے والوں کی آوازیں ہمارے عام آدمی کیلئے خیر و برکت ہیں، بلکہ وہ اپنے حلقہ احباب یعنی امت کی فلاح و بہبود میں جاری و ساری ہیں، یعنی سب سے پہلے اپنے آپ کو کھونا یعنی دنیا کی بے رنگی سے آزاد ہو کر رب العالمین کی رضا پر راضی رہنا اور عارضی زندگی کو اپنا نصب العین نہیں بنانا ہے اور پھر جو رب تعالیٰ چاہتا ہے وہ اپنی رحمت، بخشش اور عنایات کا کھلا ثمر ہے

اور اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، سندھ کے اندر اگر آپ اولیاء اللہ کے حوالے سے نظر ڈالیں تو حضرت سورہیہ بادشاہ رح، مخدوم محمد سرور نوح رح، حضرت محمد عبدالغفار المعروف پیر مٹھا سائیں نقشبندی فضلی رحمتہ اللہ علیہ (لاڑکانہ رحمت پور) صوبہ سندھ میں سب سے زیادہ ہزاروں لاکھوں میں سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کا مرکز و محور پیر مٹھا سائين رح کا لاڑکانہ درگاھ خانقاھ رحمت پور ہے۔ حضرت پیر مٹھا سائين رح کے مریدین معتقدین کی عراق، شام، جرمنی، کوریا، ہندوستان،


بنگلہ دیش و دیگر ممالک میں مریدیں معتقدیں ہیں، جماعت اهلسنت غفاری کے نوجوان بچے بوڑھے شریعت و طریقت میں جامع علم و عمل رکھتے ہین، حضرت پیر مٹھا سائين رح کی مادری زبان سرائیکی تھی وہ اصل میں پرانے سندھ ملتان کے ضلع جلال پور پیر والا کے رھائشی تھے۔ ان کی دینی روحانی شاعری میں حمد باری تعالی ، نعت رسول مقبول ﷺ اور منقبت سمیت مختلف چیزیں ہیں، وہ اپنے پیر و مرشد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ نہ صرف رب تعالی کے راستے پر گامزن و پابند رہے بلکہ اپنے مرشد کے دکھائے ہوئے طریقے سے دین کی تبلیغ میں خدمات انجام دے رہے ہیں اور یہ عظیم ہستی حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ تصوف کی راہ پر چلتے رہے اس کے علاوہ صوبہ سندھ، اجمیر، دہلی، احمد آباد ھندستان و دیگر شہروں میں اسلام کی خدمت کی اس کے بعد مستقل طور پر سندھ کے مشہور شہر لاڑکانہ میں رشد و ھدایت کا مرکز بنانے کے بعد وہاں پر ہی مستقل رھائش اختیار کرلیں، پھر نہ صرف سندھی لوگ بڑی تعداد میں عقیدت مند تھے، بلکہ دوسرے صوبوں سے بلوچ، پختون، پنجابی، کشمیری، ایرانی، عراقی بھی حلقہ

ھدایت میں آنا شروع کردیا۔ جبکہ غیر ملکی عقیدت مند بھی صحبت بابرکت میں رہے اور اس کامل ولی اللہ سے فیض یاب ہوئے، جو کہ حلقہ عقیدت میں آنے کے بعد اٹھتے بیٹھتے، گھومتے پھرتے، یعنی زندگی کے ہر پہلو میں شریعت اور طریقہ کے علم سے مالا مال زندگی بسر کرنے لگے اور آپ کی صحبت میں رہنے والے بھی بڑے قد کاٹھ کے عالم بننے لگے، حضرت پیر مٹھا سائين رح کے علمی و روحانی فیض کو دیکھ کر بڑے بڑے علماء کرام، پیر صاحبان دنگ رہ جاتے تھے اور ان کی نگاھ قربت کے اسیر ہو جاتے تھے۔ سندھ میں ذکر والی یعنی ذکری پیر کے نام سے شناخت ہونے لگی، نقشبندی سلسلے میں اس درگاہ کے عقیدت مند حضرت پیر مٹھا سائیں رحمت پور لاڑکانہ کی درگاہ کے فیض کی تلاش میں دور دراز کے بزرگ ہستیاں مالا مال ہوگئیں اور اس درگاہ کے فیض سے سندھ کے مشہور درگاہوں کی بزرگ کامل ھستیاں قبلہ سائیں سید غلام حسین شاہ بخاری قمبر شریف ، حضرت قبلہ اللہ بخش سہنا سائیں کنڈیارو رح، حضرت نور محمد رح نور پوری خیرپور میرس، پیر کرم اللہ الٰہی ماتلی شریف،

حضرت محمد طاہر سجن سائیں کنڈیارو و دیگر شامل ہیں ۔ دوسرے بتائے جاتے ہیں، جس میں نقشبندیہ مجددیہ غفاریہ فیض کے ایسے 140 سے زائد خلفاء بتائے جاتے ہیں، نگر نگر بستی بستی میں اللہ اور اللہ کے نام سے دلوں کو منور کرتے ہیں، ان کی اولاد میں سے حضرت خواجہ محمد خلیل الرحمن نقشبندی غفاری رحمتہ اللہ علیہ ہیں ، جو کہ عظیم عالم دین اور صوفی بزرگ رہے ہیں، جنہوں نے لاکھوں بے نمازوں کو نمازی بنا دیا اور دین سے دور لوگوں کو دین دار بنایا۔ وہ 7 ذی القعد 1396 ہجری مطابق 21 اکتوبر 1976 کو اپنے حقیقی مالک سے جا ملے۔ اس کے بعد ان کے صاحبزادے محمد مظہر جان جانان رحمۃ اللہ علیہ نے دین اسلام کی خدمات دیں اور اس طرح حضرت محمد عبدالغفار المعروف پیر مٹھا سائیں رحمت اللہ علیہ 8 شعبان 1384 ہجری بمطابق 12 دسمبر 1964 بروز اتوار رات اس فانی دنیا سے خالق حقیقی سے جا ملے۔ ان کی اولاد میں سے حضرت خواجہ محمد خلیل الرحمن نقشبندی غفاری رحمت اللہ علیہ اور پوتا حضرت محمد مظہر جان جاناں رحمت اللہ علیہ اور اب ان عظیم ھستیوں کی اولاد میں قبلہ سائیں حضرت محمد عبدالغفار المعروف پیر مٹھا ثانی اور انکے صاحبزادگان صاحبزادہ محمد خلیل الرحمٰن اور صاحبزادہ محمد معصوم ہیں. جو کہ اپنے اسلاف صالحین کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ذکر اعظم اللہُ ھو کی تلقین کرتے سندھ سمیت پنجاب، بلوچستان، خیبر پختون خواہ، آزاد کشمیر و دیگر ممالک میں رشد و ہدایت کی تبلیغ کرتے ہیں. جس سے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ غفاری کی تعلیمات اسم اعظم الله ھو ہر جگہ پہنچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں. اسی لیے ہی اس جماعت کو ذکر والی جماعت سے جانا پہچانا جاتا ہے اور یہ ذکر کی برکت سے جماعت اہلسنت غفاری پاکستان کے صوبہ سندھ سمیت ہندوستان میں بھی اللہ پاک کے ذکر کی بدولت یکساں مشہور ہے.