لاڑکانہ کے شیخ زید وومن اسپتال کے یونٹ ون کی گائیناکالوجسٹ ڈاکٹرز کی مبینہ طور پر بڑی غفلت سامنے آ گئی، غیر حاملا خاتون کا ڈلیوری آپریشن کر کے پیٹ چاک کر دیا گیا

لاڑکانہ رپورٹ محمد عاشق پٹھان

لاڑکانہ کے شیخ زید وومن اسپتال کے یونٹ ون کی گائیناکالوجسٹ ڈاکٹرز کی مبینہ طور پر بڑی غفلت سامنے آ گئی، غیر حاملا خاتون کا ڈلیوری آپریشن کر کے پیٹ چاک کر دیا گیا

ضلع قمبر شھدادکوٹ کے علاقے میروخان کی رہائیشی متاثرہ خاتون امینا چانڈیو کے شوہر محب علی چانڈیو کا کہنا ہے میروخان کے ڈاکٹرز کی جانب سے انہیں کہا گیا کہ اہلیہ جڑواں بچوں سے حاملا ہے تاہم گھر پر ایک بچے کی ڈلیوری ہوئی اور دوسرے بچے کی ڈلیوری کے لیے شیخ زید وومن اسپتال لاڑکانہ بھیجا گیا جہاں شیخ زید اسپتال انتظامیہ نے چار گھنٹوں کے انتظار کے بعد اہلیہ کا آپریشن کر کے کہا کہ پیٹ میں کوئی بچہ نہیں ہے جبکہ اسپتال انتظامیہ نے اپنی غلطی پر منت سماجت بھی کی
تاہم ورثہ کا کہنا ہے کہ اگر دوسرا بچہ نہیں تھا تو آپریشن کیوں کیا گیا ڈاکٹرز کی غفلت پر کاروائی ہونی چاہئیے دوسری جانب متعلقہ واقعے کے متعلق ایڈیشنل میڈیکل سپرنٹنڈنٹ شیخ زید وومن اسپتال ڈاکٹر افروز وگن کی مبینہ آڈیو لیک بھی سامنے آئی ہے جس میں ڈاکٹر افروز وگن مبینہ طور پر کہہ رہی ہیں کہ متاثرہ خاتون کی سرجری سے پہلے اگر الٹراسائونڈ ہی کروا لیتے تو آپریشن کی نوبت نہ آتی اندھی ڈاکٹرز نے خالی یوٹرس سرجری کر کے کھول دیا
متعلقہ معالے پر شہید بے نظیر بھٹو میڈیکل یونیورسٹی اور چانڈکا اسپتال انتظامیہ کی جانب سے کوئی تحقیقات یا معقف سامنے نہیں آیا ہے، واقعے کو دبانے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ اسپتال کے متعلقہ یونٹ ون کی ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ پروفیسر شاہدہ مگسی کو چند روز قبل ہی وارڈ میں سب سے زیادہ مریض داخل کرنے پر ایوارڈ سے بھی نوازا گیا ہے۔