
ون پوائنٹ
نوید نقوی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ دنوں ایران پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے ایک حکم نامے پر دستخط کیے ہیں جس کا مقصد نہ صرف اسلامی جمہوریہ کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے بلکہ پابندیوں اور تیل کی برآمدات پر پہلے سے عائد پابندیاں مزید سخت کر کے ایران پر اقتصادی دباؤ ڈالنا ہے۔ اقتصادی دباؤ کا مطلب ایران کی پہلے سے مشکلات کا شکار معیشت کو مزید تنزلی کی طرف دھکیلنا ہے۔ ایران نے ان کے اس اقدام کی مذمت کی ہے اور اسے بحری قزاقی قرار دیا ہے۔ یاد رہے کہ یہی ڈونلڈ ٹرمپ تھے جن کے پہلے دور اقتدار میں 2 جنوری 2020 کو بغداد میں رات 12 بج کر 47 منٹ پر العدید ایئر بیس سے اڑان بھرنے والے ریپئر ڈرون نے ہیل فائر میزائل داغے اور پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کو لے جانے والی گاڑی کو اُڑا دیا تھا، اس کے نتیجے میں جنرل قاسم سلیمانی اور عراقی ملیشیا کے سربراہ ابو مہندس شہید ہو گئے تھے۔ اب جبکہ ان کا دوسرا دور صدارت شروع ہو چکا ہے، وہ ایران کو دباؤ میں ڈال کر ، پیچھے دھکیل کر اسرائیل کے لیے ایک نئے مواقع کی تلاش میں ہیں؟ امریکی صدر نے گزشتہ دنوں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے ساتھ وائٹ ہاؤس میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے یہ کہہ کر پوری دنیا کو حیران کر دیا کہ ہم غزہ پر قبضہ کر سکتے ہیں اور فلسطینیوں کو مصر اور اردن میں بیدخل کر دیں گے۔ ہم غزہ کی تعمیر نو کریں گے اور اسے ایک ترقی یافتہ علاقہ بنا دیں گے لیکن اس میں فلسطینی نہیں ہوں گے۔ ان کے اس اعلان کے بعد جب اسرائیلی وزیراعظم سرشار واپس اسرائیل پہنچے تو انہوں نے ایک ایسا بیان دیا جس کی وجہ سے پوری مسلم دنیا میں نہ صرف تشویش کی لہر دوڑ گئی بلکہ سخت اشتعال بھی پایا جاتا ہے۔ اسرائیل کے جو یورپی اتحادی ممالک ہیں، وہ بھی ششدر رہ گئے۔ اسرائیلی وزیراعظم نے کہا کہ سعودی عرب ایک بہت بڑا ملک ہے اگر وہ دو ریاستی حل چاہتے ہیں تو اپنی سرزمین پر فلسطین نام کی ریاست قائم کر دیں، اسرائیلی وزیراعظم کے اس مضحکہ خیز بیان پر پاکستان سمیت، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، مصر، ایران اور ترکیہ نے بھی مذمت کی اور اسے ایک ناقابل قبول اور اشتعال انگیز بیان قرار دیا۔ اسرائیل نے پچھلے سوا ایک سال میں دنیا کی تاریخ میں مختصر وقت اور مختصر جگہ پر سب سے زیادہ بارود استعمال کرنے کا نام نہاد عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے، 85000 ٹن خطرناک گولہ بارود کے استعمال سے کم وبیش 50000 فلسطینیوں کو بیدردی سے قتل کرنے کے باوجود بھی اسرائیلی وزیراعظم یا قیادت کے دل میں ذرا سی انسانیت بیدار نہیں ہوئی۔ بلکہ اب تو یوں لگتا ہے کہ جب سے اسرائیل نے غزہ جنگ شروع کی ہے ان کے رہنماؤں کے ایسے بیانات آرہے ہیں جن سے یہ لگتا ہے کہ اسرائیل نے شروع سے ہی ایک خاص پالیسی بنائی ہوئی تھی، جس کا مقصد یہ تھا کہ غزہ کی پٹی کو ہتھیانا، فلسطینیوں کی نسل کشی کر کے ان کو ان علاقوں سے نقل مکانی پر مجبور کرنا اور مشرق وسطیٰ کا نقشہ تبدیل کرنا۔ صدر ٹرمپ اور ان کے دوست نیتن یاھو جو نیا ارینج منٹ قائم کرنا چاہتے ہیں، اس میں فلسطینیوں کی ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی کوئی جگہ نہیں ہے۔ بلکہ غزہ پر امریکہ براہ راست خود کنٹرول رکھنا چاہتا ہے تاکہ مشرق وسطیٰ اور بحریہ روم کی تجارت کو کنٹرول کیا جا سکے۔ یاد رہے کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فلسطین کو عرب اور یہودی دو ریاستوں میں تقسیم کرنا ہے لیکن اب طاقت کے بل پر امریکہ اور اسرائیل ان قراردادوں کا مذاق اڑاتے ہوئے مظلوم فلسطینیوں کو ان کے جائز حق سے محروم کرنے کے اپنے منصوبے پر عملدرآمد چاہتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ کے ماہر اس بات پر متفق ہیں کہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد ان کا ہر قدم اسی منصوبے کی تکمیل تھا۔ پہلی جنگ عظیم میں جب برطانیہ نے سلطنت عثمانیہ کو شکست دے کر فلسطین پر جو ایک عثمانی صوبہ تھا ، پر قبضہ کیا تو یہاں یہودیوں کی آبادی ڈیڑھ لاکھ سے زائد نہ تھی۔ دوسری طرف فلسطینیوں کی آبادی 90 فیصد سے زیادہ تھی اور ان کے پاس زمین بھی اسی تناسب سے تھی۔ لیکن آج یہودی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے اور اہل فلسطین اسرائیل جبر اور ظلم وستم سہتے ہوئے، مختلف ممالک میں کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ جو نقل مکانی کرنے سے قاصر ہیں، اسرائیل عرصہ دراز سے ان کی نسل کشی کرنے میں مصروف ہے اور وہ ببانگ دہل امریکی آشیرباد سے عالمی قوانین کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ اب جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ اور نیتن یاہو کھل کر اپنے مذموم مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے اعلان کر رہے ہیں، اقوام متحدہ سمیت انسانی حقوق کے علمبرداروں کا یہ امتحان ہے کہ کس طرح ان کو روکا جائے گا۔ ٹرمپ کے آنے سے قبل یہ کہا جا رہا تھا کہ شاید طاقتور صدر کے آنے سے دنیا میں جاری تنازعات کا خاتمہ ممکن ہوگا اور امریکہ کی قیادت میں دنیا میں جاری جنگیں ختم ہوں گی، لیکن ان کے اشتعال انگیز اور مضحکہ خیز بیانات اور اقدامات سے ایسا لگ رہا ہے کہ ان کا دور صدارت دنیا کے لیے نئی جنگیں اور تنازعات لائے گا۔ لیکن ایک امید کی کرن اب بھی موجود ہے، وہ ہے خود امریکی عوام، جن کی انسان دوستی اور انسانی حقوق کے لیے آواز کبھی خاموش نہیں ہوئی






















