
کینڈی : روٹری کلب آف کراچی نیو سینٹرل، ضلع 3271 پاکستان کی چارٹر صدر پی اے جی شہناز رمزی نے روٹیرین ویمن لیڈرز 2024-2025 کے زیرِ اہتمام بین الاقوامی امن سیمینار اور فیلوشپ کا کامیاب انعقاد کیا۔ یہ اہم تقریب کینڈی کلب میں منعقد ہوئی جس کی میزبانی روٹری کلب آف کینڈی نے اپنے صدر اونتی کرونارتنا کی قیادت میں سرانجام دی۔اس بین الاقوامی سیمینار میں پاکستان سے ایک وفد شریک ہوا، جس میں روٹری کلب نیو سینٹرل سے پی اے جی آئی پی پی شہناز رمزی، روٹری کلب سنسیٹ ملینیم سے پی اے جی زینت بیات اور روٹرین شہلا ٹوٹا جبکہ روٹری کلب حیدرآباد گلیکسی سے پی اے جی امداد بگھیو شامل تھے۔ دوسری جانب سری لنکا کے مختلف شہروں بشمول کینڈی، کولمبو، بٹیکالور اور جافنا سے تعلق رکھنے والے روٹیرینز نے بھی اس سیمینارمیں بھرپور شرکت کی۔سیمینار میں اس اقدام کو آگے بڑھانے اور مستقبل میں سارک کے تمام ممالک کے ساتھ اسی طرح کی بات چیت کرنے کی قرارداد کے ساتھ دیگر اہم اور مسائل کو سامنے لایا گیا۔

سیشن کا آغاز روٹری کلب آف کینڈی کی صدر اونتی کرونارتنا کے پرتپاک استقبال کے ساتھ ہوا، جس کے بعد پی ڈی جی ارونی ملالہ سیکرا کا متاثر کن ویڈیو پیغام پیش کیا گیا‘ بعد ازاں ڈاکٹر لیونی سولومنز کی جانب سے تھیوری سے پریکٹس تک امن کے موضوع پر ایک انتہائی مفید سیشن کا انعقاد کیا گیا جس میں یہ ظاہر کیا گیا کہ کس طرح شکل کے اصولوں پر عمل کرکے کامیاب امن مذاکرات کیے جاسکتے ہیں۔ روٹری کلب کینڈی کی روٹرین این پی پی، سیپالیکا امونوگاما نے ایک مشترکہ مقصد کے لیے گلوبل کمیونٹیز کی تعمیر میں اپنے ذاتی سفر کو حاضرین کیساتھ شیئر کیا۔ اس کے بعدروٹیرین پی اے جی شہناز رمزی نے آب و ہوا کی تبدیلی، روٹرین خواتین کی صلاحیتوں اور کام کے جذبے کے حوالے سے بات کی۔ روٹری کلب آف سینامن گارڈن سے تعلق رکھنے والی نزرتھ بے نظیر نے امن کے راستے کے بارے میں بات کی۔ روٹری کلب حیدرآباد گلیکسی کے پی اے جی امداد علی بگھیو نے عالمی امن کے لئے پائیدار ترقیاتی اہداف کے حصول پر اظہار خیال کیا۔
سیمینار کا آغاز روٹری کلب آف کینڈی کی صدر اونتی کرونارتنا کی جانب سے مہمانوں کے پرتپاک استقبال سے ہوا، جس کے بعد پی ڈی جی ارونی ملالہ سیکرا کا ایک خصوصی ویڈیو پیغام پیش کیا گیا۔ اس موقع پر ڈاکٹر لیونی سولومنز نے “تھیوری سے پریکٹس تک امن” کے موضوع پر ایک بصیرت افروز سیشن منعقد کیا، جس میں انہوں نے جیومیٹری کے اصولوں کو امن مذاکرات میں کامیابی کے لیے بطور ماڈل پیش کیا۔بعد ازاں، روٹری کلب کینڈی کی سابق صدر سیپالیکا امونوگاما نے عالمی برادری میں امن کے قیام کے لیے اپنے ذاتی سفر اور تجربات کا اشتراک کیا۔ پی اے جی شہناز رمزی نے ماحولیاتی تبدیلی، امن اور خواتین کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی، جبکہ نزرتھ بے نظیر نے امن کے قیام کے لیے درکار عملی اقدامات پر روشنی ڈالی۔ مزید برآں پی اے جی امداد علی بگھیو نے پائیدار ترقیاتی اہداف اور عالمی امن کے درمیان تعلق پر اظہار خیال کیا۔
سیمینار کے دوران “آبی جنگیں: اسباب اور ممکنہ حل” اور “جنوبی ایشیائی ممالک کے امن کے فروغ میں کردار” جیسے حساس موضوعات پر ایک پینل مباحثہ بھی منعقد کیا گیا، جس کی صدارت پی اے جی راون وجئے رتنے نے کی۔ اس مباحثے میں پی اے جی امداد علی بگھیو، پروفیسر امل کرونارتنا، پی اے جی شہناز رمزی، نزرتھ بے نظیر اور زینت بیات نے شرکت کی۔ پینل کے شرکا نے میڈیا کے ذریعے پھیلنے والے منفی تاثرات کا ازالہ کرنے اور عوام میں بہتر آگاہی پیدا کرنے کے لیے تجاویز پیش کیں۔
تقریب کے اختتام پر روٹری کلبز کے درمیان فلیگس اور یادگاری نشانات کا تبادلہ کیا گیا، جبکہ روٹری فاؤنڈیشن کے ٹرسٹی پی ڈی جی عزیز میمن کی جانب سے تمام شرکائ میں پولیو کیپ اور پن تقسیم کیے گئے۔























