
کنا عدلیہ، اسٹیبلشمنٹ اور اہم ترین سیاستدان ایک میز پر بیٹھ سکتے ہیں؟
تحریر: سہیل دانش
ایسا لگتا ہے کہ میڈیا قیدی نمبر804 کے روز مرہ بدلتے تیور اور گیٹ نمبر4 کے اشاروں اور آہٹوں پر بنا آنکھیں جھپکائے اور عقل و سماعت کے تمام انٹینا آن کرنے کے باوجود پورے یقین سے یہ Predictکرنے کے قابل نہیں کہ اب کیا ہونے والا ہے؟ جو بظاہر مسند پر براجمان ہیں۔ وہ تو اپنی بساط کے مطابق حکمرانی چاہتے ہیں۔ ہماری سیاست کے اپنے انداز ہیں اِس کے ہیروولن “سرکاری محکمہ موسمیات” کی پیشنگوئی کے مطابق بدلتے رہتے ہیں پاکستان کے حکمرانوں پر ایک اچٹتی نظر ڈالی جائے تو گورنر جنرل غلام محمد اور وطن عزیز کے پہلے صدر اسکندر مرزا بھی ذاتی اعتبار سے کسی سے کم ایماندار نہیں تھے۔ ایوب خان کے لئے بھی کہا جاتا ہے کہ وہ بھی ایوانِ صدر کی ایک ایک پائی کا حساب رکھتے تھے۔ جنرل ضیاء الحق اپنی شخصیت کے اعتبار سے منفرد تھے اِس طرح ان کا طرزِ حکمرانی بھی نظریہ ضرورت کے تحت اپنی مثال آپ تھا اُنہیں اُس وقت کے وزیراعظم جناب ذوالفقار علی بھٹو نے متعدد سینئر تھری اسٹارز جنرل صاحبان پر ترجیح دی۔ دونوں اِس فیصلے پر پھولے نہیں سماتے تھے۔ پیپلز پارٹی والوں کی زبان پر ایک ہی رٹ تھی کہ “ہمارا چیف آگیا ہے جمالو” جناب بھٹو نے اپنی پارٹی کی حالتِ زار کے باوجود عام انتخابات کا اعلان کردیا اِس کے بعد جو کچھ ہوا۔ وہ حقیقت اور عبرت کا سامان لئے ہوئے تاریخ میں رقم ہے لیکن بھٹو کا کارنامہ یہ ہے کہ اُنہوں نے عوام کو گہری نیند سے بیدار کیا۔ پھر ناجانے کیوں اس شعور کو جن سمجھ کر بوتل میں بند کرنے کی کوشش کرنے لگے۔ اِس فہرست میں سب سے دلچسپ کردار جنرل آغا محمد یحییٰ خان کا تھا۔ جن کے متعلق یہ روایات چونکادینے والی ہے وہ میجر جنرل کی حیثیت سے کیپٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی (سی ڈی اے) کے پہلے سربراہ تھے وہ چاہتے تو کم از کم ایک سیکٹر براہِ راست یا بالواسطہ طور سے اپنے لئے الاٹ کرالیتے لیکن حقائق، معلومات اور تحقیقات اِس کے برعکس میں درحقیقت مملکت اور حکومت کے سربراہان کی ایمانداری دیانتداری اور اہلیت کو پرکھنے کے لئے چند پلاٹ اور دو چار بنگلے کی ملکیت حتمی پیمانہ نہیں اہم ترین بات یہ ہے کہ موصوف کے دورِ اقتدار میں رعایا کو کس قسم کے سیاسی معاشی اور سماجی نظام کا سامنا تھا۔ محترم غلام اسحق خان کے دور میں سیاسی افراتفری اور سماجی تنزلی کے باعث عوام کا جینا دوبھر تھا۔ مرحوم اپنے تعلیمی اور سراپا ملازمتی پسِ منظر کے باعث قواعد و ضوابط کی من مانی تعبیر پر ہی زندگی بھر تکیہ کرتے رہے۔ جنرل مشرف اپنے “حقِ حکمرانی” کو حق بجانب ثابت کرنے کے لئے ہر قسم کی ڈیل کے لئے تیار رہتے تھے۔ نواز شریف کا خیال ہے۔ موسم کتنا ہی ابر آلود ہو، کڑی دھوپ ہو یا کپکپاتی ٹھنڈک۔ سیاست دھوپ اور چھاؤں کا کھیل ہے۔ یہ کتنی بڑی حقیقت ہے کہ بھٹو جیسے ڈیمو کریٹ اور مقبول لیڈر نے 1970 کے انتخابات کے بعد کہا تھا کہ پاکستان میں تین قوتیں ہیں۔ پیپلز پارٹی، عوامی لیگ اور فوج۔ ذرا پیچھے ماضی پر نظر ڈالیں۔ اِس حقیقت کو سمجھنے کے لئے دیکھیں تو وزیراعظم محمد خان جونیجو اور صدر جنرل ضیاء الحق کی اپروچ کا بنیادی فرق جمہوریت اور آمریت کا تھا۔ لیکن آپ اِس حقیقت کو بھی تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ اسلام آباد کا راستہ راولپنڈی سے ہوکر آتا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ اگر آپ فیلڈ مارشل ایوب خان سے لے کر جنرل پرویز مشرف تک پاکستان کے تمام فوجی حکمرانوں کی تاریخ کا مطالعہ کرلیں تو آپ کو ان کی نفسیات میں یہ پہلو مشترک ملے گا کہ وہ اپنے مخالف کی آواز کو دبانے کے لئے ہر حد تک جانے پر آمادہ رہے خواہ وہ محترمہ فاطمہ جناح ہوں، جناب ذوالفقار علی بھٹو، محترمہ بے نظیر یا جناب نواز شریف ہوں۔ بے نظیر نے حالات و واقعات سے یہ سیکھ لیا تھا کہ سیاست مواقع اور امکانات کا کھیل ہے۔ اُنہیں یہ بھی اندازہ ہوگیا تھا کہ کہاں ہاتھ بڑھانا ہے اور کہاں جھٹکنا۔ لیکن وہ سمجھتی تھیں کہ آخری فیصلہ میز پر ہوتا ہے۔ جنرل عبدالوحید کاکڑ سے لے کر جنرل مشرف تک اُنہوں نے چیلنج ضرور کیا لیکن خطرے کی آتشی لائن نہیں پھلانگی۔ یہ دُرست ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ سیاست کے اصولی اور اخلاقی معیارات میں بہت فرق آگیا ہے۔ لیکن بے نظیر بھٹو کے لئے 5 جولائی 1977 سے 4 اپریل 1979 تک یادداشت کا ایک ایک لمحہ انہیں ایسا لیڈر بناگیا۔ جس کے سبب اُن کا مخالف بھی اُنہیں عزت و تکریم کی نظر سے دیکھتا ہے۔ آج عمران خان اِس مخصمے کا شکار ہیں کرکٹنگ لیگویج میں کہ وہ کس گیند کو فرنٹ فُٹ پر کھیلیں اور کس کر بیک فُٹ پر۔ اُنہیں علم ہے کہ جیل اور ایوان اقتدار کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ اُنہوں نے چھاؤں کے مزے تو لوٹ لئے ہیں۔ آج وہ تپتی دھوپ میں بیٹھے ہیں لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ یہ “ریوالونگ گیم” ہے اُن کی باری بھی آئے گی۔ وہ ایک مقبول لیڈر ہیں پھر بھی وہ اپنے لئے راستہ نہیں نکال رہے۔ اس لئے کہ وہ سمجھتے ہیں کہ اُن کی کوئی معاملہ فہمی یا ہاتھ بڑھانے کا تاثر اُن کی اُس عوامی مقبولیت کو متاثر نہ کرے جو اُن کی اصل طاقت ہے۔ لیکن اُن کے لئے یہ سوچنے کا مقام ہے کہ کہیں وہ اپنے حمایتی ڈیجیٹل میڈیا کے نت نئے انداز کی سیاسی موسیقی سُن کر غیرضروری خود اعتمادی کا شکار تو نہیں ہورہے۔ کیا وہ کسی ایسی آفر کے منتظر ہیں جیسی ہالی ووڈ کی فلم گاڈ فادر میں مارلن برانڈو نے اپنے وکیل کے ذریعے اپنے مدِ مقابل کو دی تھی۔ مارلن برانڈو نے کہا تھا اُسے ایسی آفر دو جسے وہ “ناں” نہ کرسکے۔ لیکن اُنہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ اُنہیں کوئی ایسی آفر ہرگز نہیں ملے گی جو اُن کے مخالفین کے لیے Suicidal ثابت ہو۔ آخر وہ آفر کیا ہوسکتی ہے جو دونوں فریقوں کے لئے قابل قبول ہو۔ یہی ایک ملین ڈالر کا سوال ہے۔ لیکن یہ حقیقت ہے کہ غیرمعمولی حالات کو معمول پر لانے کے لئے کوئی غیرمعمولی فیصلہ کرنا پڑے گا۔ ایک آپشن یہ ہوسکتا ہے کہ ماضی کی سلیٹ کو مٹادیا جائے۔ اسٹیبلشمنٹ عدلیہ اور تمام اہم ترین سیاستدان ایک ٹیبل پر بیٹھ کر یہ طے کریں کہ مملکتِ خداداد کو آگے کیسے چلانا ہے۔ لیکن اِس کے لئے ذاتی انا اور مفاد سے اوپر اُٹھ کر نیلسن منڈیلا جیسے ایثار، ویژن اور اسپرٹ کی ضرورت ہے اگر یہ نہیں تو کوئی نہ کوئی راستہ تو ہوگا۔ دنیا کا کوئی ایسا مسئلہ نہیں جسے حل نہ کیا جاسکے۔ لیکن پھر سوال پیدا ہوگا کہ وہ ٹیبل کون بچھائے۔ جس کو بچھانے سے پہلے سب دو دو قوم پیچھے ہٹ جائیں۔ اپنی انا سے اوپر اُٹھ کر ملک کی خاطر حقیقت اور سچ کا سامنا کریں اپنی کمزوریوں کا ازالہ کرکے اُنہیں تسلیم کریں پریم پتر لکھنے سے اگر یہ مسئلہ حل ہونا ہوتا تو کب کا ہوچکا ہوتا صرف یہ سوچیں کہ یہ ہم سب کا ملک ہے یہ ہے تو ہم ہیں۔























