اخوت فاونڈیشن اور ڈاکٹر امجد ثاقب جیسی شخصیت اندھیرے میں روشنی کی کرن ہے،گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری

کراچی( )گورنر سندھ کامران خان ٹیسوری نے کہا ہے کہ اخوت فاو¿نڈیشن اور ڈاکٹر امجد ثاقب جیسی شخصیت اندھیرے میں روشنی کی کرن ہے ،امجد ثاقب جو کام کررہے ہیں وہ 77 برس میں کوئی نہیں کرسکا،دولت مند افراد صرف 10 فیصد پیسے ضرورت مندوں پر خر چ کریں تو ملک میں کوئی غریب نہ رہے،وہ گورنر ہاو¿س میں اخوت فاو¿نڈیشن کے زیر اہتمام فنڈ ریزنگ کی تقریب سے خطاب کررہے تھے،اس موقع پر اخوت فاو¿نڈیشن کے بانی و چئیرمین ڈاکٹر امجد ثاقب اور اخوت فاو¿نڈیشن کراچی کے صدر دانش امان نے بھی خطاب کیا،تقریب میں موجود لوگوں نے بڑی تعداد میں عطیات دئیے ،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے گورنر سندھ نے کہا کہ 3 سو ارب روپے فراہم کر کے ڈاکٹر امجد ثاقب نے 3 کڑور افراد کے مسائل تو حل کردئیے ہیں،تاہم اب بھی 21کڑور لوگوں کے مسائل حل طلب ہیں،انہوں نے کہا کہ جس مقصد کے لئے پاکستان بنایا گیا تھا 77 برس گزرنے کے باوجود وہ مسائل حل نہیں کئے جاسکے ہیں،ہم آئی ایم ایف کے مقروض ہیں ،معیشت زبو حالی کاشکار ہے ،لوگوں میںمایوسیاں انتہا کو پہنچ چکی ہیں،جس کی وجہ سے جرائم میں اضافہ ہورہا ہے،اس صورتحا ل کے ہم سب ذمہ دار ہے،انہوں نے کہا کہ اسلامی برادر ملک سعودیہ عرب نے 15 برس تک اسٹیٹ بینک کے سربراہ ایک پاکستانی تھے اسی طرح قطر کی 60 فیصد ترکی میں پاکستانیوں کا حصہ ہے اور یو اے ای میں بھی 50فیصد ترقی پاکستانیوں کی بدولت ہوئی ہے،انہوں نے کہا کہ ہم دنیاوی معاملات میں اتنے الجھے ہوئے ہیں کہ ضرورت مندوں کی جانب توجہ نہیں ہے،اتنی دولت جمع نہ کی جائے اس کو سنبھالنا مشکل ہوجائے،آخرت میں دولت کا جواب دینا ہوگا،انہوں نے کہا کہ ڈھائی کڑور بچوں کا اسکول نہ جانا لمحہ فکریہ ہے،جو بچے اسکول جاتے ہیں ان میں بھی بڑی تعداد ان بچوں کی ہے جنہیں صبح گھر سے ناشتہ دستیاب نہیں ہوتا،انہوں نے کہا کہ ہر کامیابی کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے،اس کی عملی شکل اخوت فاو¿نڈیشن کے تحت خاتون کو پہلا قرضہ 10 ہزار روپے فراہم کرنے کی شکل میں دیکھا گیا،گورنر سندھ نے کہا کہ ڈھائی سال کے عرصے میں اکثر سننے میں یہ بات آتی رہی کہ مجھے ہٹایا جارہاہے ،یہ بات سن کر میں انجوائے کرتا ہوں،گورنر سندھ نے اپنی جانب سے اخوت فاو¿نڈیشن کو 20 لاکھ روپے کا عطیہ دیا،تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بانی و چئیرمین اخوت فاو¿نڈیشن ڈاکٹر محمد امجد نے کہا کہ 10 ہزار روپے سے جو سفر شروع کیا تھا آج وہ 3 کھرب روپے اور 60 لاکھ خاندانوں تک پہنچ چکا ہے،3 لاکھ لوگ ہمارے سفر میں شامل رہے،قرض کی واپسی کی شرح 99 فیصد ہے،ملک کے 400 شہروں میں اخوت فاو¿نڈیشن کے 800 دفاتر ہیں اور ان میں 8 ہزار ورکرز خدمات انجام دے رہے ہیں،ڈاکٹر امجد نے کہا کہ کراچی میں اخوت فاو¿نڈیشن کی صرف 2 برانچز ہیں وہ چاہتے ہیں کہ یہاں بھی100 دفاتر ہوں،انہوں نے کہا کہ لاہور میں قائم یونیورسٹی میں ملک کے ہر حصے سے آکر طلباءو طالبات تعلیم حاصل کررہے ہیں اور ان کی تعداد 15 تا20 ہزار ہے ،جنہیں بغیر کسی فیس تعلیم دی جاتی ہے،انہوں نے کہا کہ 50کڑور روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والی اس یونیورسٹی میں ایک بوہری خاتون نے 500 روپے عطیہ کئے تھے یہ بھی ایک مثال ہے،انہوں نے کہا کہ ہماری کوشش ہے کہ کوئی بھی طالبعلم فیس نہ ہونے کی وجہ سے تعلیم سے محروم نہ رہے،انہوں نے کہا کہ انڈس اسپتال ملکی طبی اداروں میں ایک مقام رکھتا ہے جہاں لاکھوں مریض علاج ومعالجہ کی سہولت حاصل کررہے ہیں،دانش امان نے لوگوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ لوگوں کا جذبہ دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ لوگ زیادہ سے زیادہ عطیات دینے میں حصہ لیں گے،تقریب کے اختتام پر گورنر سندھ کو ڈاکٹر امجد ثاقب نے شیلڈ پیش کی۔#