
پرنس کریم آغا خان کا سفرِ زندگی تمام ہوا!
تحریر سہیل دانش
پرنس کریم آغا خان اسماعیلی فرقے کے پیشوا ہونے کے ساتھ ساتھ ایک باکمال انسان تھے۔ زندگی کی 88 بہاریں دیکھنے والے مسلم اسماعیلی فرقے کے49ویں امام کا تعلق کے بابت اُن کے پیروکاروں کا ماننا ہے کہ وہ پیغمبرِ اسلام حضرت محمدﷺ کی صاحبزادی خاتونِ جنت حضرت فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا کے سلسلہ نسب سے امامت کے اس اہم ترین منصب پر فائز تھے۔ دنیا کے 15 ویں امیر ترین شخص کی حیثیت سے وہ دنیا بھر میں اپنے پیروکاروں کے ساتھ ضروتمندوں کے لئے زندگی کے مختلف شعبوں میں اُمید کا درجہ رکھتے تھے۔ پاکستان سمیت کئی افریقی ممالک میں اُنہوں نے صحت اور تعلیم کے شعبے میں گرانقدر خدمات انجام دیں۔ ملکہ الیگزیبتھ نے اُنہیں ہائی نیس کا خطاب دیا۔ ہوٹلز اور گھڑ ریس کے علاوہ وہ متعدد کاروباری شعبوں میں ایک غیرمعمولی مقام رکھتے تھے۔ یہ کیسا عجیب اتفاق ہے کہ اسماعیلی فرقہ کے 48 ویں امام اغا خانIII کی پیدائش کراچی میں ڈفنس میں واقع ایک پہاڑی پر واقع مینشن میں ہوئی۔ وہ قائداعظم کے قریبی ساتھی اور تحریکِ پاکستان کا ایک اہم ترین ڈونر کی حیثیت سے بہت اعلیٰ مقام رکھتے تھے۔

پرینس کریم آغا خان IVنے دو شادیاں کیں جن سے اُن کی چار اولادیں ہیں۔ تین بیٹے پرنس علی آغا خان۔ پرنس رحیم آغا خان اور پرنس حسین آغا خان اور بیٹی پرنس سارہ علی آغا خان شامل ہیں۔ کراچی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ پرنس کریم آغا خان IVکی باضابطہ تاجبوشی اسی شہر میں ہوئی 1936میں آنکھ کھولنے والے پرنس کریم آغا خان نے 20سال کی عمر میں اسماعیلی فرقے کے49ویں امام کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ اُنہوں نے کراچی میں جدید صحت عامہ کے حوالے سے آغا خان ہسپتال کی بنیاد رکھی۔ ساتھ ساتھ ایک جدید میڈیکل کالج قائم کرکے پاکستانی نوجوانوں کے لئے ایک مثالی ادارہ بھی قائم کیا۔ میں آج کل پرنس کریم آغا خان کی زندگی پر ایک کتاب تحریر کررہا ہوں۔ جس میں اُن کی زندگی کے اوراق پلٹنے اور اُن کی خدمات پر ایک مکمل تھیسس شامل ہوگا۔ تاکہ عام لوگوں کو معلوم ہو کہ پرنس کریم آغا خان کتنے انمول اور قیمتی انسان تھے اُن کی بامقصد زندگی کے واقعات پڑھ کر آپ حیران رہ جائیں گے 4فروری2025کو اُن کا سفرِ زندگی تمام ہوا۔ دُعا ہے کہ وہ دنیا کی طرح آخرت میں بھی سرخرو ہوں۔























