
فرحان احمد خان
جب کوئی قوم آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیتی ہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔ایران کے بارے میں میرا خیال یہ تھا کہ یہ بھی پابندیوں کا شکار دیگر ممالک کی طرح ایک پسماندہ ملک ہو گا لیکن ایران نے سائنس و ٹیکنالوجی کے میران میں حیران کن ترقی کی ہے۔ہم میڈیکل میں ایران کی ترقی دیکھیں تو حیرت ہوتی ہے۔ یہ ترقی متعدد شعبوں میں ہوئی ہے، جن میں ادویات کی تیاری، جراحی کی ٹیکنالوجی، طبی تحقیق اور صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو جدید بنانے کی کوششیں شامل ہیں۔ ایران نے پچھلے دو دہائیوں میں اپنے میڈیکل شعبے میں قابل ذکر پیشرفت کی ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف داخلی صحت کے نظام کو مستحکم کیا گیا ہے، بلکہ اس کے میڈیکل پروڈکٹس اور سروسز کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ اس ترقی کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ ایران نے صحت کے شعبے میں اپنی خود انحصاری بڑھانے کی کوشش کی ہے اور اس نے بیرون ملک سے آنے والی درآمدات پر انحصار کم کیا ہے۔
ایران نے میڈیکل سائنس میں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے دوا سازی کے شعبے میں قابل ذکر ترقی کی ہے۔ ایران میں دوا ساز کمپنیوں کی تعداد 50 سے زائد ہے اور یہ کمپنیاں دنیا کے کئی ممالک کو اپنی ادویات فراہم کرتی ہیں۔ 2020 میں ایران کی دوا سازی کی صنعت کا حجم 3.5 ارب ڈالر تھا، اور اس کا مقصد دنیا بھر میں اپنے دوا سازی کے شعبے کو مزید ترقی دینا ہے۔ ایران نے کینسر، ذیابیطس، دل کی بیماریوں اور نیورولوجیکل بیماریوں جیسے امراض کی ادویات کی تیاری میں اہم پیشرفت کی ہے۔ ایران نے اپنے مقامی ادویات کے شعبے میں خود انحصاری حاصل کرنے کے لیے عالمی معیار کے معیارات کو اپنایا ہے اور اس کی وجہ سے ایران نے غیر ملکی ادویات پر انحصار کم کیا ہے۔
2020 میں، ایران نے “مشن پراجیکٹ” کے تحت COVID-19 ویکسین کی تیاری کے لیے تحقیقات کا آغاز کیا، اور اس نے پہلی ایرانی COVID-19 ویکسین “کوو ایران برکت” کو 2021 میں متعارف کرایا۔ یہ ویکسین 10 لاکھ سے زائد ایرانی شہریوں کو فراہم کی گئی، اور اس کی تیاری میں ایران کی دوا ساز کمپنیوں نے نمایاں کام کیا۔ ایران کے میڈیکل سائنس کے محققین نے دنیا کے مختلف ممالک کے ساتھ شراکت داری کی اور عالمی ویکسین ساز کمپنیوں کے ساتھ مل کر اپنی ویکسین کی کامیاب تیاری اور کلینیکل ٹرائلز مکمل کیے۔
ایران نے جراحی کے شعبے میں بھی قابل ذکر ترقی کی ہے، خصوصاً نیوروسرجری، کارڈیو تھوراسک سرجری اور کینسر کی جراحی کے شعبوں میں۔ ایران کے اسپتالوں میں جدید ترین جراحی کی تکنیکوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ایران نے روبوٹک سرجری کے میدان میں بھی قدم رکھا ہے، اور اس نے 2015 میں روبوٹک سرجری کی تکنیکیں اپنے اسپتالوں میں متعارف کرائیں۔ ایران کے جراحوں نے دنیا بھر میں پیچیدہ جراحی کے کیسز کامیابی سے کیے ہیں، جس سے ان کا عالمی سطح پر پہچان حاصل ہوئی ہے۔
ایران نے اپنے اسپتالوں میں جدید ترین مشینری جیسے کہ ایم آر آئی (MRI)، سی ٹی اسکین، اور ایگزامینیشن سسٹمز کے استعمال کی بھی کوشش کی ہے۔ ایران کے اسپتالوں میں 2019 میں تقریباً 50,000 کامیاب سرجریاں کی گئیں، جن میں سے بہت ساری پیچیدہ اور نایاب نوعیت کی تھیں۔ اس ترقی کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ ایران نے جراحی کی تعلیم اور تربیت کے معیار کو بھی بہتر بنایا ہے، اور اس کے ڈاکٹروں اور سرجنز نے بین الاقوامی معیار کی تربیت حاصل کی ہے۔
ایران نے اپنے صحت کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات کی ہیں۔ 2014 میں، ایران نے “صحت سب کے لیے” پروگرام کا آغاز کیا، جس کا مقصد ملک کے تمام شہریوں کو صحت کی سہولتیں فراہم کرنا تھا۔ اس پروگرام کے تحت، ایران نے 70 فیصد آبادی کو مفت صحت کی خدمات فراہم کیں اور بیماریوں کی ابتدائی تشخیص کے لیے خصوصی پروگرام شروع کیے۔ اس کے علاوہ، ایران نے ایک وسیع ای-ہیلتھ پروگرام شروع کیا جس کے ذریعے مریضوں کو آن لائن طبی مشاورت کی سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
2019 تک، ایران نے اپنے صحت کے نظام میں 6,000 نئے اسپتالوں کی تعمیر کی اور اس کے نتیجے میں 30 فیصد اضافی بیڈز فراہم کیے۔ ایران کا صحت کا بجٹ 2020 میں تقریباً 10 ارب ڈالر تھا، جو کہ ملک کے مجموعی قومی پیداوار کا 7 فیصد ہے۔ اس بجٹ کا زیادہ تر حصہ صحت کی بنیادی سہولتوں اور بیماریوں کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ ایران کی حکومت نے پبلک ہیلتھ کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری کی ہے اور بیماریوں کی روک تھام کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں ویکسینیشن پروگرامز اور صحت کی تعلیم شامل ہیں۔
ایران کی میڈیکل سائنس میں تحقیق کا شعبہ بھی مسلسل ترقی کر رہا ہے۔ ایران نے دنیا بھر میں ہونے والی میڈیکل تحقیق میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا ہے، اور اس کی طبی تحقیق میں عالمی سطح پر نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ 2020 میں، ایران نے عالمی میڈیکل تحقیقاتی اداروں میں 3,000 سے زائد مقالے شائع کیے، اور اس کی میڈیکل تحقیق نے کئی عالمی جرنلز میں جگہ پائی۔ ایران کے سائنسدانوں نے مختلف بیماریوں کے علاج کے نئے طریقے دریافت کیے ہیں اور مختلف شعبوں میں ان کے تحقیقی کام کو عالمی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ایران کی طبی تحقیق نے 2019 میں 1,500 سے زائد پیٹنٹس درج کرائے، جو کہ دنیا میں ایران کی سائنسی صلاحیت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ایران کی میڈیکل یونیورسٹیاں دنیا کے مختلف حصوں میں تعاون کے ذریعے عالمی سطح پر علم کے تبادلے کا حصہ بن رہی ہیں۔ اس کے علاوہ، ایران نے مختلف ممالک کے ساتھ طبی تحقیق کے منصوبوں میں بھی حصہ لیا ہے، جن میں کینسر کی تحقیق، جینیاتی امراض کی تحقیق اور نیورولوجیکل بیماریوں کی تحقیق شامل ہیں۔مسلسل پابندیوں اور دھمکیوں کے باوجود ایران مسلسل آگے بڑھ رہا ہے یہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ اگر قیادت قوم سے مخلص ہو تو منزل مل ہی جاتی ہے۔























