
ون پوائنٹ
نوید نقوی
پاکستان اور بھارت کم وبیش چار جنگیں لڑ چکے ہیں اور ہر سال اپنے دفاعی بجٹ پر اربوں ڈالرز کی خطیر رقم خرچ کرتے ہیں۔ یہ دونوں پڑوسی ملک ایٹمی ہتھیاروں سے لیس ہیں اور دنیا کی آبادی کا بیس فیصد سے زائد ان دونوں پر مشتمل ہے۔ پاکستان 24 کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ دنیا کا پانچواں بڑا ملک ہے، جبکہ رقبہ 796096 مربع کلومیٹر ہے۔ دوسری طرف بھارت ایک ارب بیالیس کروڑ سے زائد آبادی کے ساتھ دنیا کا سب سے بڑا ملک بن چکا ہے اور اس کا رقبہ 3287263 مربع کلومیٹر ہے۔ پاکستان کا دفاعی بجٹ اکیس کھرب بیس ارب ارب روپے یعنی 7.5 ارب ڈالر ہے اور بھارت کی بات کریں تو یہ دنیا کا تیسرا بڑا ملک ہے جو اپنے دفاع پر سب سے زیادہ خرچ کرتا ہے یعنی 75 بلین ڈالرز سے زائد، اس طرح آپ دونوں ملکوں کی آبادی اور وسائل کا موازنہ کریں تو بھارت ہر لحاظ سے بڑا ملک ہے۔ پاکستان دفاعی اخراجات کی عالمی درجہ بندی میں 30ویں نمبر پر ہے لیکن فوجی طاقت کے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا ملک ہے۔ اب جبکہ کشمیر کا مسئلہ ابھی تک حل طلب ہے اور 5 اگست 2019 میں مودی سرکار کے یک طرفہ فیصلے کے بعد جس میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارت میں ضم کر دیا گیا، دونوں ممالک کے تعلقات پاکستان کی امن کی بحالی کی کوششوں کے باوجود تاحال کشیدہ ہیں۔ مودی سرکار کا جنگی جنون عروج پر ہے اور ہر گزرتے دن کے ساتھ بھارتی فوج کے چیف اور وزیراعظم مودی کی زبان سے دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ پاکستانی آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر نے 5 فروری یوم یک جہتی کشمیر کے موقع پر مظفر آباد میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مودی سرکار اور بھارتی ٹڈی دل افواج پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان کشمیر کو بھول نہیں سکتا اور قائد اعظم محمد علی جناح کے فرمان کے مطابق کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ دوسری طرف وزیر اعظم پاکستان جناب شہباز شریف نے بھی دوٹوک انداز میں اقوام عالم پر واضح کر دیا ہے کہ امن کی کوششوں کو پاکستان کی کمزوری نہ سمجھا جائے اور کشمیر کا مسئلہ کشمیریوں کی مرضی کے مطابق اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں استصواب رائے سے حل کیا جائے۔ سفارتی سطح پر کشمیر کا مقدمہ پاکستان اپنی پوری طاقت سے لڑنے کے ساتھ ساتھ جنگی صلاحیتوں میں بھی بھارت کا مقابلہ کر رہا ہے۔ اس کا میزائل پروگرام بھارت سے دہائیوں آگے ہے۔ لیکن اب جبکہ میدان جنگ میں جدید ڈرون بازی پلٹنے کی صلاحیت کی وجہ سے دنیا بھر کی افواج میں مقبولیت حاصل کر رہے ہیں، اس میدان میں بھی پاکستان اپنے پڑوسی ملک سے کافی آگے ہے۔ بھارت اربوں ڈالرز خرچ کرنے اور سالوں کی محنت کے باوجود آرمڈ ڈرون تیار کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکا ہے دوسری طرف پاکستان کم وسائل ہونے کے باوجود بھارت کو مات دے چکا ہے۔ بھارت سرتوڑ کوشش کر چکا ہے لیکن مقامی سطح پر ایک بھی ایسا جنگی ڈرون تیار نہیں کر سکا جسے بھارت کی بری، فضائی اور بحری افواج اعتماد سے استعمال کر سکیں۔ بھارتی ماہرین پچھلے پندرہ سال سے 201-BH-TAPAS اور کم وبیش دس سال سے CATS یعنی combat air teaming system نامی اسلحہ بردار ڈرون تیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، مگر کامیاب نہیں ہوسکے ہیں۔ یہ عسکری سائنس اور ٹیکنالوجی میں ان نام نہاد ماہرین کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ اب بار بار کے ناکام تجربات کے بعد مودی سرکار سٹھیا گئی ہے اور گیدڑ بھپکیوں پر اتر آئی ہے۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ بھارت کا علاقائی طاقت بننے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا، بھارتی سورماؤں کو پاکستان کے سائنس دانوں نے مات دے دی ہے کجا وہ چین یا امریکی سائنسدانوں کا ہم پلہ ہونے کا خواب دیکھ رہا تھا۔ یاد رہے کہ پاکستانی سائنسدان تین قسم کے جدید جنگی ڈرون مقامی سطح پر تیار کر چکے ہیں جن میں میں سے براق ڈرون 2013 میں بنا تھا، شہپر دوم 2021 اور شہپر سوم پاکستانی ماہرین نے حال ہی میں بنائے ہیں۔ سٹیٹ آف دی آرٹ شہپر سوم مسلح ڈرون میزائل کے علاوہ دشمن پر بم اور راکٹ فائر کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ ڈرون جدید امریکی ڈرون طیاروں سے بھی بہتر جنگی صلاحیتوں کے حامل ہیں۔ پاکستانی ڈرون ہمارے کم وسیلہ ماہرین کی محنت شاقہ، محنت اور پیش بینی کا نمایاں ثبوت ہیں، جنہوں نے قومی دفاع مضبوط بنایا۔ حال و مستقبل پر نظر رکھنے والی عسکری قیادت کی بدولت پاکستان جنگی میدان میں ہمیشہ بھارت سے دو قدم آگے رہتا ہے اور وہ دن دور نہیں جب جموں و کشمیر پاکستان کا حصہ بن جائے گا























