
کراچی:ماہرین ذیابیطس نے کہا ہے کہ شوگر کے مریض اپنے ڈاکٹر کے مشورے سے روزہ رکھیں تاکہ ان کی زندگی کو خطرہ نہ لاحق ہو اوراگر اگر کسی وجہ سے روزہ نہیں رکھ پاتے تو کسی احساس گناہ میں مبتلا نہ ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بیماری یا کسی شرعی عذر کی موجودگی میں روزہ نہ رکھنے کا حکم دیا ہےاس کے لیے قضا یا فدیے کی رعایت دی گئی ہے، یہ باتیں انہوں نے ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے اوجھا کیمپس میں نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ڈائبیٹیز اینڈ اینڈو کرائنولوجی (نائیڈ) میں” ذیابیطس اوررمضان” کے عنوان سے منعقدہ سیمینار میں کہیں، ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کالج کے پرنسپل ڈاکٹرافتخار احمد، ڈائریکٹر نائیڈ ڈاکٹر مسرت ریاض، ڈپٹی ڈائریکٹر نائیڈ ڈاکٹر محمد عمر خان،ڈاکٹر سید محمد حسن ، ڈاکٹر فریدالدین ، ماہر غذائیت مس تہمینہ، مفتی فرخ ، نے آگاہی سیمینار سے خطاب کیا، اس موقع پر حامد سلیم جعفری ، محمد عامر،ڈاکٹروں اور ذیابیطس کے مریضوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی،آگاہی سیمینار سے خطاب میں ڈاؤ انٹرنیشنل میڈیکل کےپرنسپل ڈاکٹرافتخار احمد نے کہا کہ دین میں زبردستی ، تکلیف بالکل نہیں ہے، رسول ﷺ ہمارے پاس آسانیاں لے کر آئے اور اللہ تعالیٰ ایک ماں سے بھی ستر گنا زیادہ ہم سے محبت کرتا ہے، تو وہ کیوں چاہے گا کہ ہمارے گردے خرا ب ہوجائیں، ہماری صحت خراب ہوجائے، ڈاکٹر افتخار احمد نے کہا کہ اگر آپ خود کو صحت مند

رکھیں گے،متوازن غذا لیں گےتوذیابیطس ویسے ہی دور رہتی ہے،انہوں نے کہا کہ اگر کسی وجہ سے روزہ نہیں رکھ پاتے تو رمضان کا احترام کریں، اوراحساسِ جرم میں مبتلا نہ ہوں کہ بیماری کی وجہ سے روزہ نہیں رکھ رہے، سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے ڈائریکٹر نائیڈ پروفیسر مسرت ریاض نےکہا کہ اس پروگرام کا مقصدمریضوں کو آگاہی اور سہولت فراہم کرناہے، وہ لوگ جو روزہ رکھنا چاہتے ہیں وہ احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے کیسے روزہ رکھ سکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام

خاص طور پر ذیابیطس کے مریضو ں کے لیے منعقد کیا گیا ہے اور ڈاکٹرز کے علاوہ مذہبی نقطہ نظر سے بھی رہنمائی فراہم کی جائے گی، بعدازاں سیمینار سے خطاب میں ڈپٹی ڈائریکٹر نائیڈ ڈاکٹر محمد عمر خان نے بتایا کہخطرات کے حوالے سے ذیابیطس کو 3 کیٹیگریز میں تقسیم کیا گیا ہے کم خطرے، متعدل اور زیادہ خطرے والی ذیابیطس ہیں، انہوں نے کہا کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس اور وہ مریض جو دن میں ایک مرتبہ انسولین لگاتے ہیں وہ روزہ رکھنے پر کم خطرے کا شکار


ہیں،ٹائپ ون،ہائپو گلیسیما ، ڈائیلائسز کے مریض کو روزے کے دوران طبیعت بگڑنے کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے، انہوں نے کہا کہ روزے کے دوران اگر شوگر کی سطح 70 سے کم یا 300 سے زیادہ ہوتی ہے تو روزہ کھول دینا چاہیے، اس سلسلے میں علما کی رہنمائی بھی دستیاب ہے،انہوں نےکہا کہ رمضان کے دوران شوگر کنٹرول کرنے کے لیے ڈاکٹر کے مشورے سے دوا کی خوراک ایڈجسٹ کرنا ضروری ہے، ان کاکہنا تھا کہ عموماً ڈوز اس طرح تبدیل کیا جاتاہےکہ عام دنوں میں ناشتے سے قبل لی جانے والی دوا کو افطار سے قبل اور رات کی دوا کو سحری کے بعد لینے کا کہا جاتا ہے، اس کے ساتھ ساتھ مریض کے لیے ضروری ہے کہ وہ شوگر کو مانیٹر کرے تاکہ طبیعت زیادہ خراب نہ ہو،اسسٹنٹ پروفیسر ڈاکٹر سید محمد حسن نے کہا کہ ذیابیطس کے وہ مریض جنہیں ڈاکٹر نے روزہ رکھنے کا مشورہ دیا ہے وہ پانی سے افطار کریں ، ایک کھجور کھائیں اور نماز کے وقفے کے بعد وہ گولی کھائیں جو صبح ناشتے سے قبل لیتے ہیں اور افطار کریں، ماہر غذائیت مس تہمینہ نےسیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ متوازن غذا اپنانے سے ذیابیطس پر قابوپاسکتے ہیں، انہوں نے کہا کہ عموماً ایسا ہوتا ہے کہ لوگ دیر سے کھانا کھاتے ہیں جس کی وجہ سے سحری نہیں کرتے تو سحری لازمی کرنی چاہیے اور اذان سے 15 سے 20 منٹ قبل سحری ختم کرلیں، انہوں نے کہا کہ رعشہ دار اشیا کا استعمال کریں کیونکہ اس سے شوگر کا لیول مستحکم رہتا ہے،صرف چائے پراٹھا نہ کھائیں بلکہ کم تیل کے پراٹھے کے ساتھ کوئی دال سبزی یا انڈہ بھی ساتھ میں کھائیں تاکہ شوگرکی سطح کم نہ ہو،سحری کے وقت دہی بھی کھائی جاسکتی ہے،ڈاکٹر فرید الدین نے اپنے خطاب میں کہا کہ اب باقاعدہ رمضان ڈائٹ پر عمل کیا جاتا ہے تاکہ مریضوں کو زیادہ سے زیادہ رہنمائی فراہم کی جاسکے کہ کون سا مریض روزہ رکھ سکتا ہے اور کون نہیں، انہوں نے کہا کہ اگر کسی مریض کی شوگر بہت زیادہ یا کم ہوتی ہے، اسے ماضی میں دل کا دورہ بھی پڑ چکا ہے تو ایسی صورت میں ڈاکٹر روزہ رکھنے سے منع کریں گے کیونکہ اگر ڈاکٹر مریض کی صحت دیکھتے ہوئے رو زہ رکھنے سے منع کررہا ہے اور وہ پھر بھی روزہ رکھتا ہے تو اسے تکلیف کا سامنا ہوگا اور اللہ نے صحت مند لوگوں سے روزے رکھنے کا کہا ہے بیماروں سے نہیں اور اگر شرعی عذر ہے تو فدیہ دینے سے اتنا ہی ثواب ملتا ہے، پروگرام میں مفتی فرخ نے بھی شرکت کی اور اسلامی تعلیمات کا حوالہ دیتے ہوئے مریضوں کو بتایا کہ اگر ذیابیطس سے ان کی جان کو خطرہ ہے کہ ان کی شوگر کا لیول خطرناک حد تک بڑھ جاتا ہے یا کم ہوجاتا ہے تو وہ روزہ نہ رکھیں ، انہوں نے کہا کہ اللہ نے قرآن میں فرمایا ہے کہ جو مریض ہے وہ روزہ نہیں رکھ سکتا اور اس لحاظ سے مریض وہ ہے جس کی زندگی یا جسم کے حصے کو نقصان کا خدشہ ہو،انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر نے کہہ دیا کہ مریض روزہ نہیں رکھ سکتا کہ وہ طبیعت ٹھیک ہونے کے بعد رکھے تو یہ روزہ نہ رکھنا اس کے لیے باعثِ اجر ہوگا،انہوں نے یہ بھی بتایا کہ روزے کے دوران شوگر چیک کی جاسکتی ہے اور یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ مریض کی جان کو خطرہ نہ ہو، پروگرام کے بعد مریضوں کے مختلف ٹیسٹس کیے گئے اور ذیابیطس کے حوالے سے مفت طبی معائنہ اور مشاورت بھی فراہم کی گئی۔























