
سچ تو یہ ہے،
ایک روز سنٹرل جیل کراچی میں۔۔ قیدی پر قیدی۔ درس گاہ ہے یا باغیچہ (آخری)
بشیر سدوزئی،
سنٹرل جیل کراچی کا اسپتال ویسا ہی پایا جیسا ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ سعید سومرو صاحب نے بتایا تھا۔ جب ہم وہاں پہنچے تو ڈاکٹر موجود اور پیرہ میڈیکل اسٹاف متحرک تھا۔ جب کہ صفائی ستھرائی بھی معیاری تھی۔ تاہم اسپتال میں ضروری سازوں سامان کی کمی ہے، ایکسرے مشین موجود نہیں اور دوائیوں کی شدید قلت ہے۔ لیبارٹری بھی موجود نہیں۔ اسی طرح کئی دیگر بنیادی سہولتوں کی بھی کمی ہے، ان سہولتوں کی کمی کی بظاہر کوئی وجہ سمجھ نہیں آئی۔ نہ ان پر زیادہ لاگت کا مسئلہ ہے، نہ ہمارا وزیر اعلی اتنا کنجوس ہے کہ اتنی سی رقم مہیا نہ کرے، اور نہ جیل کی انتظامیہ اتنی کاہل ہے کہ اس کا انتظام نہ سھنبال سکے۔ کراچی کے میمن سیٹھوں کی موجودگی میں کسی اسپتال میں ادویات کی کمی نہیں ہو سکتی، اللہ تعالٰی نے ہمارے میمن بھائیوں کو خوب دولت سے نوازا ہے اور اسے غریبوں کی مدد کے لیے خرچ کرنے کا دل اس سے بھی بڑا دیاہے، SIUT اور انڈس اسپتال کی ٹکر کے اسپتال ملک بھر میں نہیں ملیں گے وہاں کراچی کے مخیر حضرات اور ہمارے فراخدل وزیر اعلی سید مراد علی شاہ کی مہربانی سے لاکھوں لوگوں کا مفت علاج ہو رہا ہے۔ SIUT نے تو اب ساڑھے 14 ارب روپے میں فائیو اسٹار ہوٹل خریدا ہے جہاں مریضوں کے گردوں کا مفت علاج ہو گا اور انڈس اسپتال میں بستروں کی تعداد اب ہزاروں میں ہو گئی ہے۔ سنٹرل جیل کراچی کے اسپتال میں کیا خرچہ ہے؟
ہیومن رائٹس کونسل آف پاکستان کے چیئرمین جمشید حسین نے جیل انتظامیہ کو یقین دلایا کہ ایکسرے مشین یا ادویات مہیا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔ اسپتال کے بستر پر کچھ مریض آرام فرما رہے تھے، ہمارے ساتھیوں نے ان سے ملاقات کی اور ان کی خریت دریافت کی۔ کسی مریض نے بھی عدم توجہ کی شکایت نہیں کی لیکن یہ بھی نہیں کہا کہ سب اچھا ہے۔۔ سب اچھا تو جیل کے کسی قیدی نے بھی نہیں کہا حالاں کہ سب تو نہیں لیکن بہت کچھ اچھا بھی ہے پھر بھی “ڈھاک کے تین پات ” کے مصداق ہمیں خرابیوں پر ہی نظر جمانی پڑتی ہے اور بات بھی درست ہے کہ انسان تو ہے ہی اچھائی کے لیے اور حکومت فلاح و بہبود کے لیے، جہاں خامی اور کوتاہی ہو گی وہاں شکایت اور تنقید ہو گی۔ سنٹرل جیل کراچی کا اسپتال صفائی ستھرائی کے لحاظ سے واقعی شہر کے سرکاری اسپتالوں سے بہتر ہے۔ یہ اسپتال انگریزوں نے ہی تعمیر کیا تھا جب اس جیل کی تعمیر کی تھی۔ یہ جیل کب تعمیر ہوئی اس کا بھی بتاتے ہیں لیکن پہلے اسپتال کے بارے میں کہ صاف ستھرا تو ہے لیکن پرانی تعمیرات ہیں۔ اسی کے سامنے عبدالعلیم خان فاونڈیشن نے ایک اعلی شان عمارت کو تعمیر کر کے جدید بستروں اور سازوں سامان سے بھر رکھا ہے، لیکن ابھی اس کا افتتاح نہیں ہوا۔ یہ جدید اسپتال جیل میں ایک خوب صورت اضافہ ہو گا۔ ہمارا آخری پڑاو کیچن تھا جہاں بڑے بڑے دیگچو میں سالن پک رہا تھا۔ وہاں ہی سے نکال کر ہمارے وفد کو دیا گیا۔ بظاہر تو اس کو چکنے کا نام دیا گیا تھا لیکن دونوں کام ہو گئے۔ میں نے تو ایک نوالہ بھی نہیں لیا، لیکن ہمارے ساتھیوں کی جانب سے موقع پر یا بعد میں بھی کوئی شکایت موصول نہیں ہوئی لہذا سنٹرل جیل کراچی میں قیدیوں کو مہیا کیا جانے والے کھانے کا ذائقہ اور کوالٹی معیاری سمجھی جائے اس کی مقدار کا اندازہ نہیں کہ پوری دی جاتی ہے یا کمی بیشی ۔ہمارا کام تو چکنے تک ہی تھا اور اس سے ہم نے اپنا کام بھی پورا کر لیا۔ اس پر ایک پولیس اہلکار نے خوب تبصرہ کیا، جس نے دوسرے سے کہا کہ سات ہزار افراد کے کھانے سے 12 ،15 افراد نے کھا بھی لیا تو کیا فرق پڑتا ہے، اتنی تو گنجائش ہوتی ہے۔ میرے اس سوال کے جواب میں کہ اتنی بڑی تعداد کو بروقت اور ہر بیرک میں ہر قیدی تک پہنچانا مشکل نہیں ہوتا ہو گا؟ گولائی دار، بڑے توشہ دان دیکھائے گئے جن پر وارڈ نمبر ڈلے ہوئے تھے۔ اور بتایا گیا کہ ان میں سالن اور روٹیاں ڈال کر ہر وارڈ کے حوالے کی جاتی ہیں وہاں تقسیم کا ایسا نظام واضع ہے کہ مسائل نہیں ہوتے۔ کیچن کی دیوار پر کھانے کا روزانہ تین وقت کے حساب سے مینو بھی آویزاں کیا ہوا ہے کہ، اتوار کو کیا پکنا ہے اور پیر کو کیا، نہاری، پائے سے مٹن اور چکن، انڈے اور پراٹھے سے دال اور چنے، جو بھی خوراک ہماری روز مرہ کی استعمال میں رہتی ہے وہ سنٹرل جیل کراچی کے قیدیوں کو دی جاتی ہے۔ ہمارا آخری پروگرام جیل سپرنٹنڈنٹ سے ملاقات اور ان کا شکریہ ادا کرنا تھا۔ سو عبدالکریم عباسی صاحب سے ان کے دفتر میں ملاقات ہوئی ۔ ہم نے جیل کی صورت حال پر ان کی اور ان کی ٹیم کی تعریف کی، جو انہوں نے خاموشی سے سنی۔ بعد ازاں کہا کہ ہم ڈیوٹی سمجھ کر نہیں خدمت اور ان قیدیوں کو کار آمد انسان بنانے کی نیت سے کام کر رہے ہیں ورنہ وکیشنل ٹریننگ سینٹر کام کرنا ہماری ذمہ داری میں نہیں، خواتین و حضرات جیل سپرنٹنڈنٹ نے اور بھی کچھ کہا اور ہم نے بھی دیکھا لیکن جیل کی حساسیت اور خاص پروٹوکول اور سیکورٹی کے مد نظر اس کو از خود سینسر کرتے ہیں۔ جیل سپرنٹنڈنٹ عبدالکریم عباسی صاحب دفتر سے باہر آئے اور ان کے ساتھ ہم بھی جیل سے باہر نکلے تصویریں بنی اور صاحب بہادر دروازے سے واپس اندر چلے گئے اور ہمارے لیے جیل کا دروازہ بند ہو گیا۔ دن بھر کے اس دورے کے بعد جیل کے دروازے سے باہر نکلتے وقت اس بات پر ملال ہوا کہ اتنے خوب صورت خطہ زمین کو جہاں پاکستان قائم ہوا، قائد اعظم کے بعد کوئی ویژنری لیڈر نہیں ملا جو مسائل کا ادراک رکھتا اور ان کے حل کا کوئی طریقہ نکالتا۔ یا ہمارا نظام ہی ایسا ہے کہ کوئی باصلاحیت اور ویژنری لیڈر ہو بھی، مسائل کو حل کرنے پالیسیاں بنانے اور ان پر عملدرآمد کرانے میں ناکام رہتا ہے۔ خاص طور پر ضیاء الحق کے مارشل لاء کا اثر ابھی تک باقی ہے۔ اس کے بعد نہ سیاست باقی رہی نہ جمہوریت، نہ جمہوری معاشرہ باقی رہ نہ اخلاقی و جمہوری قدریں، حتی کہ کوئی لیڈر باقی رہا نہ اب تک پیدا ہوا۔ لیڈر پیدا بھی کیسے ہو ضیاء الحق نے جمہوریت کی نرسریوں پر جو تالے ڈالے تھے وہ اب تک پڑے ہیں۔ ہم پسماندگی، جہالت اور غربت میں بہت دور پہنچ چکے اگر اتفاق سے واپسی کا سفر شروع ہوتا بھی ہے تو منزل تک پہنچنے میں بہت وقت لگے گا۔ اس کی تصدیق جیل کی بیرکوں میں موجودہ نوجوانوں کو دیکھ کر باخوبی ہو جاتی ہے۔ دو چار نسلیں تو یہ بھول ہی جائیں کہ وہ دنیا کے ساتھ ہم قدم ہو سکتی ہیں، البتہ اشرافیہ کے مزے ہی مزے ہیں اور وہ لوگ جو اشرافیہ کے نٹ ورک میں ہیں ان کو بھی کوئی پریشانی نہیں، رہا مسئلہ غریب اور متوسط طبقے کا تو ان کی قسمت میں فاقہ کشی یا جیل کی بیرکیں ہیں۔ سنٹرل جیل کراچی کی بیرکوں کی جو حالت دیکھی قلیجہ منہ کو آتا ہے۔ ” قیدی، قیدی پر چڑھا ہے” کا محاورہ یہاں صحیح فٹ آتا ہے۔ جس بیرک میں 25 یا 30 افراد کی گنجائش ہے وہاں ایک سو سے زیادہ کو ٹھونسا گیا ہے، جو کروٹ بدلنا چائیے مشکل سے بدل سکے گا۔ کنارے پر چھوٹا سا ٹوائلٹ ایریا مختص ہے۔ بیرک کے فرش پر کمبل، کپڑے رکھے ہوئے تھے۔ چئیرمین جمشید حسین بیرک نمبر 3۔5 میں بھی گئے جہاں وہ دوران طالب علمی سیاسی سرگرمیوں کے باعث قید رہے ہیں۔ انہوں نے بیرک کے ہر حصے کو دیکھا اور باتھ روم کارنر کا بھی معائنہ کیا۔ انہوں نے وہاں قیدیوں سے پوچھا کہ آپ میں سب سے پرانہ قیدی کون سا ہے۔ جب صاحب نے ہاتھ اٹھایا ان کا دورانیہ قید چار ساڑھے چار سال تھی، تب ان کو اندازہ ہوا کہ ان کے دور اسیری کے سارے قیدی گھروں کو رانہ ہو چکے یا اللہ کو پیارے۔ سنٹرل جیل کراچی کی بیرکوں میں اکثریت 35 سال سے کم عمر جوانوں اور نوجوانوں کی ہے جو کسی قوم کا اثاثہ اعر قسمت بدلنے کا ذریعہ ہوتے ہیں، یہ نوجوانوں سرعام نشہ کرنے، نشہ آور اشیاء فروخت کرنے، چھینا چھپٹی اور چوری چکاری کے الزام میں گرفتار ہیں اور سب کا تعلق غربت اور جہالت سے ہے۔ جیل ہی میں نہیں سڑکوں پر بھی ایک ہجوم گھوم رہا ہے۔ کوئی حکمران ان کو گرفتار کرنے کے بجائے ان کی تعلیم و تربیت اور باعزت روزگار کا بندوبست کر دے تو یہ جرائم اور کرائم سے توبہ کر کے کام پر لگ جائیں اور ملک و قوم بھی معاشی اور معاشرتی طور پر ترقی کرے مگر یہ کام کرے کون۔ جس جیل میں آج ہمارے نوجوان بھرے ہیں انگریزوں نے اس کو سیاسی کارکنوں اور آزادی پسندوں کو قید و بند میں رکھنے کے لیے شہر سے دور 1899ء میں قائم کی تھی جس میں 591 قیدیوں کی گنجائش رکھی گئی تھی، جب کراچی کی آبادی تقریباً ایک لاکھ سے کچھ ہی زیادہ تھی۔ آج کراچی میں 7 اضلاع ہیں جن کی مجموعی آبادی 3 کروڑ سے زیادہ ہے۔ مبینہ طور پر صوبے کی 27 جیلوں میں لگ بھگ 19000 قیدی ہیں جن میں سے 10,000 سے زائد کا تعلق کراچی سے ہے۔ جو صرف دو جیلوں میں بند ہیں۔ جب کہ ہر ضلع میں کم از کم ایک ڈسٹرکٹ جیل کی ضرورت ہے تاکہ قیدیوں کو بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حقوق کے مطابق سہولت حاصل ہو۔ روز نامچہ چیک کر کے ہمیں بتایا گیا کہ آج سینٹرل جیل میں 7 ہزار ایک سو قیدی موجود ہیں۔ جیسا کہ پہلے لکھا گیا کہ
مختلف بیرکوں کے دورے کے دوران ان قیدیوں سے ملاقات ہوئی تو اندازہ ہوا کہ ان میں اکثریت 35 سال سے نیچے عمر کے ہیں جن کا تناسب 90 فیصد ہے گویا صرف سینٹرل جیل کراچی میں پاکستان کے لگ بھگ چھ ہزار سے زائد نوجوان بند ہیں جو پاکستان کا حال اور مستقبل ہیں۔ نوجوان نسل جو کسی معاشرے اور ملک و قوم کے لیے لازوال اثاثہ ہوتی ہے الٹا ملک اور معاشرے پر بوجھ بن گئی۔ ساتھ ہزار افراد کا تین وقت کے کھانے کے اخراجات اپنی جگہ قومی ترقی میں جو ان کا کردار اور حصہ ہونا چاہئے تھا ملک اور معاشرہ اس سے بھی محروم ہو گیا۔ اس دن ڈی آئی جی جیل خانہ جات کا دورہ بھی تھا جنہوں نے سپریٹیڈٹ جیل عبدالکریم عباسی کے ہمراہ ڈپٹی سپریٹیڈٹ سعید سومرو کے دفتر میں ہمارے ساتھ مختصر ملاقات کی اور جیل آمد پر خوش آمدید کہا۔ جیل میں لگائے گئے میڈیکل کیمپ کے افتتاح یا معائنہ کرنے ڈی آئی جی صاحب تشریف لائے تھے۔ انہوں نے جیل انتظامیہ کو ہدایت بھی کی کہ ہیومن رائٹس والوں کو ان کی خواہش کے مطابق سہولت دی جائے۔ لیکن ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ جیل محترم سعید سومرو اور ان کے ساتھی یوسف الدین اور اقبال خود بھی خوش اخلاقی میں مہارت رکھتے ہیں خاص طور پر سعید سومرو صاحب کے حسن اخلاق کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، جنہوں نے پورا دورانیہ ہمارے ساتھ گزارا اور ایک ایک بیرک اور اس میں موجود قیدیوں کے بارے میں بھر پور معلومات مہیا کی۔























