بحریہ یونیورسٹی کراچی کیمپس کا 20 واں کانووکیشن وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ کی بحیثیت مہمان خصوصی شرکت

کراچی
مور خہ ی02فروری 2025

سندھ حکومت کی طرف سے ہر سال ساڑھے سات ہزار طلباء کو سرکاری اور نجی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم کے لیے اسکالرشپ دی جاتیں ہیں۔ سید سردار علی شاہ

کراچی 02 فروری ۔وزیر تعلیم و ترقی معدنیات سندھ سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ سندھ حکومت نے نوجوانوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول میں مدد کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، ہر سال سندھ کے ساڑھے ساتھ ہزار سے زائد نوجوان حکومتی اسکالرشپ کے تحت ملک بھر کی بہترین یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، سندھ ایجوکیشن اینڈومینٹ فنڈ کی طرف سے دی جانے والی اسکالرشپ سرکاری و نجی یونیورسٹیز میں تعلیم حاصل کرنے کے لیے دی جاتی ہے، یہ اقدامات محنتی اور ضرورتمند طلباء کے لیے ایک موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو منوانے کے لیے پیچھے نہ رہ جائیں۔یہ بات انہوں نے آج بحریہ یونیورسٹی کراچی کیمپس کے 20 ویں کانووکیشن میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کے دوران اپنے خطاب میں کہی۔ بحریہ یونیورسٹی کراچی کیمپس نے پاکستان نیوی اسکول آف لاجسٹکس کے اشتراک سے 20 واں کانووکیشن شاندار انداز میں میری ٹائم میوزیم کے کنونشن ہال میں منعقد کیا۔ دو سیشنز پر مشتمل کانووکیشن میں یونیورسٹی اور اس کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات اور ان کے والدین نے شرکت کی۔ اس موقع پر وزیر تعلیم سندھ سید سردار علی شاہ اور پاکستان انجینئرنگ کونسل کے چیئرمین، انجینئر وسیم نذیر انہوں نے پی ایچ ڈی، پوسٹ گریجویٹ اور انڈر گریجویٹ پروگرامز کے فارغ التحصیل طلبہ و طالبات کو اسناد عطا کیں۔صوبائی وزیر تعلیم سید سردار علی شاہ نے اس موقع پر فارغ التحصیل طالبات و طالبات و ان کے والدین کا کو ڈگریز حاصل کرنے پر مبارکباد دی اور کہا کہ علم کا اصل سفر عمل سے شروع ہوتا ہے، انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ اپنے صلاحیتیں ملک اور عام لوگوں کی فلاح کے لیے بھی بروئے کار لائیں، وزیر تعلیم نے صوبائی حکومت کے اقدامات کے حوالے سے کہا کہ سندھ ایجوکیشن اینڈومینٹ فنڈ ملک میں صوبائی حکومت کی طرف سے ملنے والا واحد اسکالرشپ کا نظام سے جس کی مدد سے ملک بھر کی یونیورسٹیز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا موقع ملتا ہے جبکہ یہ اسکالرشپ بحریہ یونیورسٹی کے لیے بھی ہیں، ہمارا مقصد ضرورتمند اور محنتی طلباء کے سرکاری و نجی یونیورسٹیز میں یکساں مواقع پیدا کرنا ہے۔ صوبائی وزیر سید سردار علی شاہ کی پاک بحریہ کی ملکی سمندری حدود کی حفاظت کی خدمات کا اعتراف کیا اور کہا کہ قومی ادارہ تعلیم کے حوالے سے بھی اپنے خدمات کے سبب اعلیٰ مقصد حاصل کر رہا ہے۔ سید سردار علی شاہ نے استقامت اور مسلسل سیکھنے کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سیکھنے کا سفر کلاس روم سے باہر بھی جاری رہتا ہے۔بحریہ یونیورسٹی کے ریکٹر، وائس ایڈمرل (ریٹائرڈ) عاصف خالق ہلال امتیاز (ملٹری) نے اپنے استقبالیہ خطاب میں مہمانانِ خصوصی کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے اس تقریب کو رونق بخشی۔ انہوں نے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے انہیں پُراعتماد انداز میں اپنے مستقبل کی تعمیر کی تلقین کی۔ انہوں نے بحریہ یونیورسٹی کی علمی برتری اور جدید عالمی رجحانات، بالخصوص مصنوعی ذہانت (AI)، کو اپنانے کے عزم کو اجاگر کیا۔ ریکٹر نے یونیورسٹی کی انتظامیہ، فیکلٹی اور عملے کی انتھک محنت کی بھی تعریف کی، جنہوں نے ملک کے نوجوانوں کی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ اپنے خطاب میں انجینئر وسیم نذیر نے فارغ التحصیل طلبہ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: “بحریہ یونیورسٹی کے یہ فارغ التحصیل طلبہ روشن مستقبل کے علمبردار ہیں، جو علم، مہارت اور اعلیٰ اقدار سے آراستہ ہو کر ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔”تقریب میں مختلف شعبہ جات کے 1,791 طلبہ کو اسناد تفویض کی گئیں، جن میں 11 پی ایچ ڈی ڈگریاں بھی شامل تھیں۔ ڈگری حاصل کرنے والے طلبہ کا تعلق مندرجہ ذیل شعبوں سے تھا: مینجمنٹ اسٹڈیز، بزنس اسٹڈیز، ہیومینیٹیز اینڈ سوشل سائنسز، کمپیوٹر سائنسز، ارتھ اینڈ انوائرمینٹل سائنسز، میری ٹائم سائنسز، الیکٹریکل انجینئرنگ، سافٹ ویئر انجینئرنگ، کمپیوٹر انجینئرنگ، میڈیا اسٹڈیز، اور پروفیشنل سائیکالوجی۔ مزید برآں، شاندار تعلیمی کارکردگی کے اعتراف میں 46 گولڈ میڈلز اور 42 سلور میڈلز بھی نمایاں طلبہ کو دیے گئے۔ مہمانانِ خصوصی نے فارغ التحصیل ہونے والے طلبہ کی محنت اور لگن کو سراہا اور انہیں تلقین کی کہ وہ معاشرے اور ملک کی ترقی میں مثبت کردار ادا کریں۔

ہینڈآؤٹ نمبر142۔۔۔ اے وی
کراچی
مور خہ ی02فروری 2025

کراچی 02 فروری ۔سندھ حکومت کے محکمہ کھیل کی جانب سے3 روزہ یوتھ کانفرنس اختتام پذیرہوگئی.اس سے پہلے اس کانفرنس کے دوران نوجوانوں کو کراچی کی تاریخی اور ثقافتی اہمیت کی حامل جگہوں کا دورہ بھی کروایا گیا، جس میں ماہوٹہ پلیس، قائداعظم رہائش گاہ، چوکنڈی قبرستان، فیریئر ہال کا دورہ کرایا گیا، اس کے علاوہ کانفرنس کی اختتامی تقریب فیریئر ہال میں منعقد ہوئی،ماہر آثار قدیمہ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے یوتھ کانفرنس میں شرکت کرنے والے نوجوانوں سے خطاب کرتے ہوئے تاریخی ورثے کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے نوجوانوں کو اپنے ماضی سے آگاہ رہنے اور تاریخی مقامات کی حفاظت کرنے کی ترغیب دی۔ ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری نے کہا کہ نوجوان کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں اور انہیں اپنے تاریخی ورثے کے بارے میں جاننا بہت ضروری ہے، تاریخی مقامات ہماری شناخت ہیں اور ہمیں ان کی حفاظت کرنی چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں سے کہا کہ وہ تاریخی مقامات کی سیر کریں اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کریں. ڈاکٹر کلیم اللہ لاشاری کا خطاب نوجوانوں کے لیے بہت حوصلہ افزا تھا اور انہوں نے تاریخی ورثے کی اہمیت کو سمجھنے میں مدد کی. یوتھ کانفرنس کی تقریب میں نوجوانوں نے اپنی شاعری بھی پیش کی.اس موقع پر سیکریٹری کھیل و امور نوجوانان عبدالعلیم لاشاری نے اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد نوجوانوں کو ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا، نوجوانوں نےکھل کر اپنے خیالات کا اظہار کیا اور مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کیا۔ کانفرنس میں مختلف موضوعات پر بحث و مباحثہ ہوئے جن میں تعلیم، صحت، روزگار اور سماجی مسائل شامل تھے، نوجوانوں نے شاعری بھی پڑھی جس میں انہوں نے اپنے جذبات اور احساسات کو بیان کیا. محکمہ کھیل کے مطابق، یہ کانفرنس نوجوانوں کے لیے ایک بہت مفید ثابت ہوئی اور اس سے ان کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوا۔ محکمہ کھیل آئندہ بھی اس طرح کی کانفرنسوں کا انعقاد کرتا رہے گا. اس کانفرنس میں نوجوانوں کو تعلیم، صحت، روزگار، سماجی مسائل اور دیگر اہم موضوعات پر ماہرین کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے کا موقع ملا، نوجوانوں نے ماہرین سے سوالات پوچھے اور ان سے رہنمائی حاصل کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنے خیالات اور تجربات کا بھی اظہار کیا۔ ماہرین نے نوجوانوں کے سوالات کے جوابات دیئے اور انہیں مفید مشورے دیئے،اس ڈائیلاگ سے نوجوانوں کو بہت فائدہ ہوا۔ ان کی معلومات اور اعتماد میں بھی اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ انہیں مختلف شعبوں میں اپنے مستقبل کے بارے میں بھی رہنمائی ملی، نوجوانوں کا کہنا تھا کہ محکمہ کھیل کی جانب سے یوتھ کانفرنس کا انعقاد ایک بہت اچھا اقدام تھا، اس سے ہم نوجوانوں کو اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کرنے اور اپنے مستقبل کے لیے تیار ہونے کا موقع ملا. اس کے علاوہ یوتھ کانفرنس میں سندھ بھر کے تمام اضلاع سے 120 نوجوان لڑکے اور لڑکیوں نے شرکت کی، اختتامی تقریب میں تمام نوجوانوں میں تعریفی سرٹیفکیٹس بھی تقسیم کئے گئے.

ہینڈآؤٹ نمبر141۔۔۔آئی ایس

کراچی
مور خہ ی02فروری 2025

حکومت سندھ ، محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے سماجی انصاف کے دن کے موقع پر آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا

کراچی 02 فروری ۔ وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے انسانی حقوق راجویر سنگھ سودھا نے کہا ہے کہ حکومت سندھ صوبے میں انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہےاور انصاف کو یقینی بنانا اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔حکومت سندھ ، محکمہ انسانی حقوق کے زیر اہتمام سماجی انصاف کے عالمی دن کے موقع پر انسانی حقوق سے متعلق آگاہی واک کا انعقاد کیا گیا۔تقریب کی قیادت وزیراعلیٰ سندھ کے معاون خصوصی برائے انسانی حقوق وزیر راجویر سنگھ سودھا نے کی۔ڈبلیو ایچ او نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یہ مہم ایک ایونٹ سے آگے بڑھے گی اور اسی طرح کے اقدامات پورے سندھ میں کیے جائیں گے۔انہوں نے اسکولوں، کالجوں اور عوامی مقامات پر آگاہی سیشن منعقد کرنے کی اہمیت پر زور دیا تاکہ کمیونٹیز کو ان کے حقوق اور ذمہ داریوں کے بارے میں آگاہ کیا جاسکے۔محکمہ انسانی حقوق کی سیکریٹری محترمہ تحسین فاطمہ نے کہا کہ یہ اقدام انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کی جانب ایک اہم قدم ہے۔انہوں نے کسی بھی خلاف ورزی کی اطلاع دینے کے لئے افراد کی حوصلہ افزائی کی اور محکمہ کی طرف سے صوبے میں تمام شہریوں کو مفت قانونی امداد کی خدمات کی فراہمی کے ذریعے مکمل حکومتی تعاون کی یقین دہانی کرائی۔واک میں ڈپٹی کمشنر ملیر، ونگ کمانڈر سلیم اللہ انار،جناب افضل بھٹی، ایس ایس پی (جینڈر، کرائم اینڈ ہیومن رائٹس سیل)، محترمہ شہلا قریشی، چیئرپرسن سندھ ہیومن رائٹس کمیشن، جناب اقبال دیتھو،ایس ایچ او کلیم، ڈی ایس نذیر خاصخیلی، کمیونیکیشن اسپیشلسٹ ٹی آئی سی، محترمہ کرن زبیر اور لاجوانتی، ایس او ڈییو، جناب اسیک ابڑو، ایس او جی اے، جناب سعید سومرو، ریسرچ اسسٹنٹ، محترمہ نازیہ ناز، نمائندہ 1122 محکمہ صحت، ڈی ای او، ٹی ای،علامہ اقبال کالج ضلع ملیر کے اساتذہ، سرکاری سکولوں اور کالجوں کے طلباء، سول سوسائٹی کے ممبران اور یونیورسٹی کے طلباء نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی۔”حق کی آواز سب کے ساتھ” کے نعرے کے ساتھ، واک میں سب کے لئے بنیادی حقوق کو یقینی بنانے کے لئے ریاست کی ذمہ داری پر زور دیا گیا۔یہ نہ صرف آگاہی کی ایک کوشش تھی بلکہ لوگوں کو اپنے حقوق کی وکالت کرنے کی ترغیب دیتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ بھی تھا۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ڈپٹی کمیشن آفس کے سینئر افسران نے کہاکہ محکمہ پولیس اور ہیومن رائٹس ڈپارٹمنٹ نے انسانی حقوق کی پاسداری اور خلاف ورزیوں سے نمٹنے کے اقدامات پر عمل درآمد کے عزم کا اعادہ کیا۔تقریب میں پرجوش شرکت دیکھنے میں آئی اور طلباء نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے تاکہ سماجی انصاف کا پیغام پھیلایا جا سکے۔سول سوسائٹی کے ارکان نے اس اقدام کا خیر مقدم کیا اور اسے انسانی حقوق کی آگاہی کو مضبوط بنانے کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔مختلف تقاریر اور مظاہروں نے اپنے حقوق کے لئے کھڑے ہونے اور سب کے لئے انصاف کو یقینی بنانے کی اہمیت کو اجاگر کیا۔تقریب کے اختتام پر صوبائی وزیر راجویر سنگھ سودھا نے یقین دلایا کہ حکومت سندھ صوبے میں انسانی حقوق کے فروغ اور تحفظ کے لئے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ انصاف کو یقینی بنانا اور شہریوں کے حقوق کا تحفظ اولین ترجیح ہے۔انہوں نے نوجوانوں کو ان کے حقوق کے بارے میں آگاہ کرنے کے لئے اسکولوں اور کالجوں میں خصوصی لیکچرز کا اہتمام کرکے اس مہم کو جاری رکھنے کے منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔مزید برآں، اس اقدام کو دیہی علاقوں تک بڑھایا جائے گا تاکہ وسیع پیمانے پر رسائی اور آگاہی کو یقینی بنایا جا سکے۔

ہینڈآؤٹ نمبر140۔۔۔