بندے جب خدا بنیں گے تو…

آسٹریلوی حکومت نے حال ہی میں ہزاروں جنگلی اونٹوں اورگھوڑوں کو ماردینے کا حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے مطابق ان کو آسمان سے ہیلی کاپٹرز سے گولیاں برسا کر ماردیا جانا ہے۔ حکومت کے خیال میں ان اونٹوں اور گھوڑوں کے پانی پینے سے انسانوں کے لیےپانی کے ذخائر کوخطرہ تھا۔ شنید ہے کہ
اب تک ہیلیکوپٹرز کے ذریعے نشانے باندھ کرہزاروں بے زبانوں پر آسمان سے موت برسائی گئی ہے۔
المیہ دیکھیے کہ جو پانی اونٹوں سے بچایا جانا تھا اس سے کہیں بڑھ کر آگ بجھانے پر لگ گیا۔
ساتھ ہی آدھی بلین جنگلی حیات سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ کئی اقسام کے چرند پرند کیڑے مکوڑے سانپ مویشی اور درندے مارے گئے۔
قیمتی انسانی جانیں الگ تلف ہوئیں۔ کئی گھر جل گئے۔ ملک کی فضا دھوئیں سے کثیف ہو گئی۔ سیٹلائیٹ کی تصویر کے مطابق پورا ملک ایک جلتے کوئلے کا منظر پیش کر رہا ہے۔اس کے ساتھ اخبارات اور دیگر میڈیا نے “جیتی جاگتی دوزخ” کا عنوان لگایاہے۔ فضائیں اتنی کثیف ہوگئی ہیں کہ جانداروں کے لیے سانس لینا مشکل ہو گیا۔۔ محکمہ ء جنگلات تباہ ہو گیا اور لکڑی حاصل کر نے کا ذرائع نیست ونابود ہوگئے
پورے ملک کاموسمی توازن بگڑ گیاہے۔

سنا ہے کہ اس سے قبل چین میں بھی اسی قسم کا مکافاتِ عمل ہوا تھا۔جب وہاں کے فرمانروا نے خدا بنتے ہوئے چڑیوں کی موت کا پروانہ جاری کردیا تھا کہ یہ ہمارے کھیتوں سے اجناس چن کر کھاجاتی ہیں جس سے ہماری عوام کی حق تلفی ہوتی ہے۔
پورے ملک میں اس معصوم جانور کو چن چن کر مارا گیا۔
اس سال فصلوں کو ایسا کیڑا لگا کہ ملک میں بدترین قحط پڑ گیا۔
پھر معلوم ہواکہ وہ چڑیاں جن کو بےدردی سے ماردیا گیا تھا اصل میں قدرت کی طرف سے ایک عطیہ تھیں۔ کیونکہ وہ کھیتوں سے وہ کیڑے بھی کھا جاتی تھیں جو فصلوں کو نقصان پہنچاتے تھے۔
تو رازق خدا ہے۔ اللہ تعالی نے اپنی ہر مخلوق کا رزق میں حصہ رکھا ہے۔ کسی کومحروم کرو گے تو نہ صرف خود محروم ہو جاو گے بلکہ مجرم بھی ٹھہرو گے
اسی طرح کا ایک اور واقعہ ضمنا لکھتا چلوں کہ ایک بادشاہ نے معاشی اصلاحات کے لیے اپنے محل کے ملازم کم کرنے کا فیصلہ کیا۔
اس رات اس نے خواب میں دیکھا کہ اس کے محل کے باہر بیل گاڑیاں کھڑی ہیں اور کچھ لوگ اجناس کی بوریاں اور دوسرا سامان ، کہیں لے جانے کے لیے ان پر لاد رہے ہیں۔
بادشاہ نے پوچھا کہ تم کون ہو اور یہ سامان کہاں لے جارہے ہو؟
انہوں نے بتایا کہ ہمیں خدا نے بھیجا ہے کہ جن لوگوں کو آپ نکال رہے ہیں ان کا رزق وہاں پہنچا دیں جہاں وہ جائیں گے۔
اس پر بادشاہ کی آنکھ کھل گئی۔
تب اس نے ملازموں کو نکالنے کا ارادہ بدل دیا۔ کیونکہ وہ جان چکا تھا کہ رازق خدا ہے۔


حضرت صالح علیہ السلام کی قوم کا واقعہ بھی ہمیں یہ بتاتا ہے کہ ان کی قوم نے بھی اونٹنی کو یہ کہہ کر قتل کردیا تھا کہ یہ ان کا سارا پانی پی جاتی ہے پھر کیا ہوا؟ وہ پوری قوم ﷲ کے عذاب سے ہلاک ہو گئی تھی۔
بحیثیت مسلمان ہمارا عقیدہ ہے کہ جس نے پیدا کیا وہ ہی ان کی خوراک کا ذمہ دار ہے, یہ سب بکواس ہے کہ یہ جانور سارا پانی پی جاتے ہیں, اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمایا ہے تو ان کے لیئے پانی اور خوراک کا بھی بندوبست فرمایا ہے لیکن یہ انسان ان معصوموں کے حصے کا پانی خود استعمال کرتے ہیں اور بے تحاشا ضائع کرتے ہ bیں, بے چارے جانور تو صرف پانی پیتے ہیں , یہ ظلم ہے اور اس عمل کی حمایت کرنے والے ظالم ترین ہیں کیونکہ ایسا کر کے وہ اللہ تعالیٰ کے بنائے نظام کو چیلنج کر رہے ہیں۔