ترجمان سندھ حکومت سیدہ تحسین عابدی کا امیر جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس پر ردعمل۔

سندھ میں تعلیم کا مسئلہ بلکل نہیں ہے،ترجمان سندھ حکومت سیدہ تحسین عابدی

سندھ حکومت نے میرٹ کی بنیاد پر اساتذہ کو بھرتی کیا ہے،سیدہ تحسین عابدی

کراچی:ترجمان سندھ حکومت سیدہ تحسین عابدی کا امیر جماعت اسلامی کی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سندھ میں تعلیم کا مسئلہ بلکل نہیں ہے۔سندھ حکومت کا امیج خراب کرنے کے لیے صرف الزام تراشیاں کی جا رہی ہیں۔وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ ہر چیز کی خود مانیٹرنگ کرتے ہیں۔ہر محکمے کی کارکردگی کا بغور جائزہ بھی لیتے ہیں۔سندھ حکومت نے میرٹ کی بنیاد پر اساتذہ کو بھرتی کیا ہے۔اس سے قبل بھی سن حکومت کی کارکردگی پر کئی بار انگلیاں اٹھائی گئی ہیں مگر انگلیاں اٹھانے والوں کو اپنے منہ کی کھانی پڑی ہے۔ترجمان سندھ حکومت سیدہ تحسین عابدی کا مزید کہنا تھا کہ دیگر صوبوں کے مقابلے میں سندھ میں تعلیمی نظام بہت اچھا ہے۔پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے بھی اسکولوں میں بچوں کو جدید تعلیم دی جا رہی ہے۔وقت بہت بدل چکا ہے سب کو اپنی سوچ تبدیل کرنی ہوگی۔نفرت اور جلن کی سیاست کو ختم کرنا ہوگا ملک اور قوم کے لیے سب کو مل کر کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔وزیر تعلیم سندھ سید سردار شاہ کی تعلیم کے نظام میں بہتری لانے کے لیے بہت محنت کی ہے۔سرکاری اسکولوں میں بھی نجی اسکولوں سے بہتر تعلیم دی جا رہی ہے۔سندھ حکومت ہر سال تعلیمی بجٹ کے لیےایک بڑا حصہ مختص کرتی ہے۔اس بات کی یقین دہانی کرتی ہے کہ طلبات کو ہر قسم کی سہولیات سے آراستہ کیا جائے۔سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے بچوں میں مفت کتابیں اور کاپیوں کے ساتھ ساتھ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔وہ دن دور نہیں جب والدین اپنے بچوں کو فخر سے سرکاری اسکولوں میں تعلیم دلوائیں گے۔

سندھ حکومت کے زیر اہتمام 21 ویں صدی کے نوجوانوں کے مسائل اور ان کے مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لئے 3 روزہ صوبائی یوتھ کانفرنس کا وزیر کھیل نے افتتاح کردیا

سندھ حکومت کے وزیر کھیل نے سندھ کے کرکٹرز کو میرٹ کی بنیاد پر حق نہ ملنے پر صوبائی کرکٹ بورڈ بنانے کا اعلان کردیا.

کراچی 31 جنوری ۔ سندھ حکومت کے وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر نے سندھ کے کرکٹرز کو میرٹ کی بنیاد پر حق نہ ملنے پر اپنا کرکٹ بورڈ بنانے کا اعلان کردیا.سندھ کے وزیر کھیل سردار محمد بخش مہر نے کہا ہے کہ سندھ کے کرکٹرز کو میرٹ کی بنیاد پر حق نہ ملا تو اپنا کرکٹ بورڈ بنائیں گے، کرکٹ پنجاب سے کے پی کے تک نہیں سندھ میں بھی ہے، قومی ٹیم تک جانے والے سندھ کے کرکٹرز ڈک آوٹ میں ہی بیٹھے رہتے ہیں، چیمپئنز ٹرافی کا شایان شان طریقے سے استقبال کریں گے، امید ہے کہ قومی ٹیم چیمپئنز ٹرافی میں اپنے اعزاز کا دفاع کرنے میں کامیاب ہوگی. وزیر کھیل سندھ نے محکمہ کھیل کی جانب سے تین روزہ یوتھ کانفرنس کے افتتاح کے موقع پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ یوتھ کانفرنس کا ضلعی سطح تک انعقاد کیا جائے گا، تین روزہ یوتھ کانفرنس میں تمام اضلاع کے 120 نوجوانوں نے حصہ لیا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ فورم ایک تقریب نہیں بلکہ ہمارے نوجوانوں کو تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے لئے تیار کرنے کی ایک تحریک ہے، ہماری کوشش سے نوجوان اکٹھا ہورہے ہیں، یوتھ پاور کی اکثریت زیادہ ہے، سندھ میں دیگر صوبوں سے زیادہ اچھے میدان اور ٹیلنٹ موجود ہے.اس سے پہلے یوتھ کانفرنس میں سیکریٹری کھیل عبدالعلیم لاشاری،نامور صحافی وسعت اللہ خان، امبر شمسی، انیلا امبر ملک، نامور دانشور نصیر میمن، گلوکار سیف سمیجو، وحیدہ مہیسر نے یوتھ کانفرنس میں نوجوانوں کے مسائل اور ان کے حل کے لئے مختلف تجاویز پیش کیں اور اظہار خیال کیا.کراچی کے علاقہ گلستان جوہر میں یوتھ کلب میں اکیس ویں صدی کے نوجوانوں کے مسائل اور ان کے حل کے عنوان سے ہونے والی صوبائی یوتھ کانفرنس کے پہلے روز نوجوانوں کو مرکزی حیثیت حاصل رہی، کانفرنس میں نوجوانوں نے تعلیم، روزگار، ٹیکنالوجی، سماجی تبدیلی اور سندھ کی ترقی میں نوجوانوں کے کردار جیسے اہم مسائل پر بات کی.یوتھ کانفرنس سے نامور صحافی وسعت اللہ خان نے نوجوان صحافیوں کو درپیش آنے والے مسائل پر منعقد سیشن میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ روایتی میڈیا کا استعمال عوام کے لیے کھلا نہیں تھا، جس کی وجہ سے عوام نے سوشل میڈیا کا رخ کیا، زبان کا استعمال ہونا صحافت میں مقام بنانے کے لیے ضروری ہے تاکہ اطلاعات با آسانی کسی بھی زبان میں منتقل ہوجائے ،ارد گرد کےموجودہ معاملات کی سمجھ ہونا بھی ضروری ہے، صحافت میں آج کل کے نوجوانوں کے لیے نوکری سے متعلق ایڈورٹائزنگ اور فری لانسنگ سمیت کافی مواقع موجود ہیں، نوجوان ان میں بھی دلچسپی لیں. میوزک ڈائریکٹر سیف سمیجو نے سندھ یوتھ کانفرنس میں نوجوانوں سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں آگے بڑھنے کے لئے بدقسمتی سے قوم کو چاپلوسی کا سہارا لینا پڑتا ہے، یہ سب ہمارے سسٹم کا حصہ بن چکا ہے۔ دانشور نصیر میمن نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ نوجوانوں کو اسکالرشپ اور تعلیم کی سہولیات فراہم کرے، ایک بڑی آبادی ٹیکنالوجی کی فیلڈ میں جائے گی جو کہ ہماری زندگی کا حصہ بن چکی ہے، زندگی گزارنے کا طریقہ اب بدل چکا ہے، اس لیے ٹیکنالوجی کی تعلیم ضروری ہے، مستقبل میں روبوٹ کا استعمال بڑھ جائے گا. سیکریٹری محکمہ کھیل سندھ عبدالعلیم لاشاری نے کراچی میں جاری یوتھ کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شروعات میں پورے سندھ سے نوجوانوں کو بلایا ہے، یہ نوجوان جو کہ ہر مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں، ہماری کوشش ہے کہ تھر سے کشمور تک نوجوانوں کو یہاں لائیں اور اس کانفرنس کا حصہ بنائیں. تقریب میں ڈائریکٹر کھیل سندھ امداد علی ابڑو، چیف انجنیئر کھیل اسلم مہر اور تمام ڈسٹرکٹ اسپورٹس افسران نے بھی شرکت کی.

ہینڈآؤٹ نمبر 129۔۔۔آئی ایس

ڈائریکٹو ریٹ آف پریس انفارمیشن

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401

کراچی

مور خہ 31جنوری 2025

سندھ حکومت نے سب رجسٹرار دفاتر میں بدعنوانی کی تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطحی کمیٹی قائم کردی*

کراچی ڈویژن میں 5 سال سے زیادہ عرصہ گزارنے والے سب رجسٹرار کو دیگر ڈویژن میں ٹرانسفر کیا جائے۔

چیف سیکریٹری سندھ

محکمہ ریونیو ناانصافیوں کا ازالہ کرے، لوگوں کو عدالتوں سے انصاف دلوائے۔ آصف حیدر شاہ

چیف منسٹر کی انسپیکشن ٹیم (سی ایم آئی ٹی) کی جانب سے جمع کرائی گئی انکوائری رپورٹ کے نتائج کی روشنی میں، سندھ حکومت نے سب رجسٹرار دفاتر میں بدعنوانی کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے ایک اہم فیصلہ کیا ہے۔ اس انکوائری میں کراچی کے سب رجسٹرار دفاتر میں پچھلے پانچ سے دس سالوں کے دوران ہونے والی وسیع بدعنوانیوں کو اجاگر کیا گیا، جس کے نتیجے میں ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جسے اس بدعنوانی کی مکمل تحقیقات کا ٹاسک دیا گیا ہے۔کمیٹی، جس کی تشکیل وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی منظوری اور چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی ہدایات کے تحت کی گئی ہے، ریکارڈ کا جائزہ لے کر بدعنوانی کی شدت کو بے نقاب کرے گی اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرائے گی۔ اس تحقیقی کمیٹی کو 90 دنوں میں اپنی تحقیقات مکمل کرنے اور بورڈ آف ریونیو سندھ کے سینئر ممبر کو ایک جامع رپورٹ اور قابل عمل سفارشات پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کے ابتدائی انکوائری رپورٹ پر کمینٹس ” انکوائری رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد یہ بات پریشان کن ہے کہ صرف 29 رجسٹرڈ ڈیدز کی جانچ پڑتال سے اہم فراڈ سامنے آیا ہے، جو کہ کسی بڑے مسئلے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ کراچی کے بدنام سب رجسٹرار دفاتر کے ریکارڈ کی تحقیقات پچھلے پانچ سے دس سالوں میں مزید بدعنوانی کو بے نقاب کر سکتی ہیں۔ بورڈ آف ریونیو کو مکمل تحقیقات کرنی چاہیے اور ذمہ داروں کو جوابدہ ٹھہرانا چاہیے۔ اس کام کو 90 دنوں میں مکمل کیا جانا چاہیے، اس کے بعد انکوائزیز اینڈ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (E&ACE) کے حوالے مناسب قانونی کارروائی کے لیے ریفرنسز بنائے جانے چاہیے۔ یہ بھی ضروری ہے کہ بورڈ آف ریونیو اپنے صحیح اور جائز عنوان رکھنے والوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کا ازالہ کرے، اس کے لیے ریاست کی طرف سے متعلقہ عدالتوں سے رجوع کیا جائے اور تمام قانونی طریقہ کار کو مکمل کیا جائے۔ بورڈ آف ریونیو کو انکوائری کمیٹی کی مشاورتی سفارشات پر غور کرنا چاہیے اور وزیراعلیٰ کے جائزے کے لیے ایک جامع سمری تیار کرنی چاہیے۔ بورڈ آف ریونیو کو ریکارڈ کی اصلاح کرنی چاہیے اور سب رجسٹرار دفاتر کے ریکارڈ کی مکمل تحقیقات کرنی چاہیے۔ ایک پالیسی کے طور پر بورڈ آف ریونیو کو یہ ہدایت دی جانی چاہیے کہ وہ تمام سب رجسٹرار کو کراچی ڈویژن سے دیگر ڈویژنز میں منتقل کرے جنہوں نے پانچ سال سے زیادہ کا عرصہ کراچی ڈویژن میں گزارا ہے تاکہ اصل مالکان کو اس منظم جرم سے بچایا جا سکے۔” انکوائری کمیٹی کی صدارت محترم عمر فاروق بلو، ممبر گوٹھ آباد ونگ، بورڈ آف ریونیو سندھ کریں گے، اور اس میں محترم احسان علی قریشی، چیف انسپکٹر اسٹیمپس، بورڈ آف ریونیو سندھ، محترم غلام قادر خان تالپور، انسپکٹر جنرل رجسٹریشن، بورڈ آف ریونیو سندھ، محترم خادم حسین جروار، ڈپٹی چیف انسپکٹر اسٹیمپس، بورڈ آف ریونیو سندھ، اور محترم خالد حسین چوہان، ڈسٹرکٹ رجسٹرار، بورڈ آف ریونیو سندھ، میرپور خاص ڈویژن کو بطور کوآپٹڈ رکن شامل کیا گیا ہے۔ یہ فیصلہ سندھ حکومت کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے تاکہ بدعنوانی کا خاتمہ کیا جا سکے اور عوامی دفاتر میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔ سب رجسٹرار دفاتر میں ہونے والی بے قاعدگیوں کا سدباب کر کے حکومت عوام کا اعتماد بحال کرنے اور نظام کی کارکردگی کو بہتر بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

ہینڈآؤٹ نمبر 130۔۔۔ایف آئی جے

ڈائریکٹو ریٹ آف پریس انفارمیشن

محکمہ اطلاعات حکومت سندھ فون۔99204401

کراچی

مور خہ 31جنوری 2025

کراچی 31 جنوری ۔ایم کیو ایم کے رہنما علی خورشیدی کے بیان کے ردعمل میں سندھ حکومت کے ترجمان مصطفیٰ عبداللّٰہ بلوچ نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم نے کراچی میں امن و امان کو تباہ کیا اور شہر کے بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچایا۔مصطفیٰ عبداللّٰہ بلوچ نے کہا کہ ایم کیو ایم نے کراچی میں امن و امان کو تباہ کیا اور شہر کے بنیادی ڈھانچے اور تمام اہم اداروں کے ڈی اے، کے ایم سی اور واٹر بورڈ کو بھی ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ۔ اس کے برعکس پیپلز پارٹی نے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی قیادت میں کراچی میں امن و امان قائم کیا اور تمام اداروں کو دوبارہ بحال کیا ہے ۔ اپنے ایک بیان میں مصطفیٰ عبداللّٰہ بلوچ نے کہا کہ کراچی میں امن و امان کی فضا قائم ہے اور سندھ حکومت عوامی خدمت کے لئے پر عزم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی کراچی کی ترقی اور عوام کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنا کام جاری رکھے گی ۔ترجمان سندھ حکومت مصطفیٰ عبداللّٰہ بلوچ نے کہا کہ سندھ حکومت عوامی خدمت کے لئے پر عزم ہےاور پیپلز پارٹی کراچی کی ترقی اور عوام کو بہترین سہولیات فراہم کرنے کے لیے اپنا کام جاری رکھے گی۔

ہینڈآؤٹ نمبر 131۔۔۔