بیوروکریٹس کی بطور وی سی تعیناتی معاملہ -فریقین ایک میز پر بیٹھیں گے تو مسئلہ جلد حل ہو جائے گا ، غور کریں آگ پر تیل کون چھڑک رہا ہے

بیوروکریٹس کی بطور وی سی تعیناتی معاملہ -فریقین ایک میز پر بیٹھیں گے تو مسئلہ جلد حل ہو جائے گا ، غور کریں آگ پر تیل کون چھڑک رہا ہے

=================

فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈمک اسٹاف ایسوسی ایشنز (فپواسا) نے آج ہونے والے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ سندھ کی تمام سرکاری جامعات میں تعلیمی سرگرمیاں مزید دو دن کےلیے معطل رہیں گی۔

فپواسا کے آن لائن اجلاس میں سندھ حکومت کو سندھ کی سرکاری جامعات میں جاری بحران کا براہ راست ذمہ دار ٹھہرایا گیا اور کہا گیا کہ حکومت کے غیر سنجیدہ اور متکبرانہ رویے نے بحران کو مزید سنگین کردیا ہے۔

اجلاس میں کہا گیا کہ حکومت کی لاپرواہی اور اشتعال انگیز رویے کی وجہ سے اساتذہ کو تعلیمی سرگرمیاں معطل کرنے پر مجبور ہونا پڑا ہے۔ تدریسی برادری بیوروکریٹس کی بطور وائس چانسلر تعیناتی کی شدید مخالفت کرتی ہے کیونکہ اس طرح کے فیصلے تعلیمی معیار اور اداروں کی خود مختاری کو نقصان پہنچاتے ہیں۔

فپواسا سندھ شاخ وزیراعلیٰ سندھ کے اساتذہ اور اکیڈمی کے بارے میں توہین آمیز ریمارکس کی سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔ اس طرح کے بیانات تدریسی پیشے کے احترام کی کمی کو ظاہر کرتے ہیں اور اساتذہ کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں جس سے سندھ میں اعلیٰ تعلیم کا وقار خطرے میں پڑ جاتا ہے۔

اجلاس میں کراچی یونیورسٹی، سندھ مدرسۃ الاسلام یونیورسٹی کراچی، این ای ڈی یونیورسٹی، مہران انجینئرنگ یونیورسٹی جامشورو، سندھ یونیورسٹی جامشورو، گورنمنٹ کالج یونیورسٹی حیدرآباد، سندھ ایگریکلچر یونیورسٹی ٹنڈوجام، یونیورسٹی آف سوفزم اینڈ ماڈرن سائنسز، قائد عوام یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی نوابشاہ، شاہ عبداللطیف یونیورسٹی خیرپور، مہران یونیورسٹی کیمپس خیرپور، ٹیکنیکل یونیورسٹی خیرپور، شیخ ایاز یونیورسٹی شکارپور اور دیگر اداروں کے نمائندگان نے شرکت کی۔

سندھ کی جامعات میں آج بھی کلاسز کا بائیکاٹ

اجلاس میں طے کیا گیا کہ منگل، 28 جنوری کو، سندھ کی تمام سرکاری جامعات کی اساتذہ کی تنظیمیں، فپواسا سندھ شاخ کے بینر تلے، کراچی پریس کلب پر بڑے پیمانے پر احتجاج کریں گی۔

فپواسا سندھ شاخ دیگر تنظیموں، جیسے سندھ پروفیسرز اینڈ لیکچررز ایسوسی ایشن (سپلا)، کراچی بار ایسوسی ایشن اور سول سوسائٹی گروپس کو بھی احتجاج میں شرکت کی دعوت دے گی تاکہ تدریسی برادری کے مطالبات کی حمایت کی جا سکے۔

فپواسا سندھ شاخ نے فیصلہ کیا کہ فپواسا پاکستان کے صدر اور جنرل سیکریٹری کو گزارش کی جائے گی کہ وہ اپنے اسلام آباد میں ہونے والے پیر کے اجلاس اور پریس کانفرنس میں سندھ کی جامعات کے بحران کو اُجاگر کریں۔

مرکزی تنظیم سے یہ بھی درخواست کی جائے گی کہ وہ سندھ کی تدریسی برادری کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلیے پورے ملک میں ’یوم سیاہ‘ منانے کا اعلان کرے۔

یہ بھی پڑھیے
بیورو کریٹس کی بطور وی سیز تقرری، سندھ کی جامعات میں تدریسی عمل 5 دن سے معطل
فپواسا کی اساتذہ کے 25فیصد ٹیکس چھوٹ منسوخی کیلئے خطوط پر تشویش
مزید برآں فپواسا پاکستان سے کہا جائے گا کہ وہ صدر اور وزیراعظم پاکستان کو ایک خط ارسال کرے جس میں سندھ کی سرکاری جامعات کو درپیش سنگین مسائل پر روشنی ڈالی جائے، سندھ کی قیادت اسی نوعیت کا خط ارسال کرے گی۔

فپواسا سندھ چیپٹر نے فیصلہ کیا کہ سندھ کے معروف وکلاء سے مشاورت کی جائے گی تاکہ سرکاری جامعات کی خود مختاری اور مؤثریت کو خطرے میں ڈالنے والے مجوزہ ترمیمی بل کے خلاف قانونی درخواست دائر کرنے کا امکان تلاش کیا جا سکے۔

فیڈریشن تمام متعلقہ فریقین، بشمول وفاقی حکومت، عدلیہ اور سول سوسائٹی سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بحران کو فوری طور پر حل کرنے اور سندھ میں اعلیٰ تعلیم کے مستقبل کو محفوظ بنانے کےلیے فوری مداخلت کریں۔
================

کئی ممالک میں یونیورسٹی کے صدور یا وی سی کیلئےپی ایچ ڈی لازمی نہیں،سندھ حکومت
26 جنوری ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
کراچی (اسٹاف رپورٹر)حکومت سندھ کے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈپارٹمنٹ نے کہا ہے کہ سندھ یونیورسٹیز اینڈ انسٹیٹیوٹس لاز ترمیمی بل 2025کا مقصد جامعات میں وائس چانسلرز کی تقرری کے لئے اہلیت کے معیار کو وسیع کرنا ہے ۔ پاکستان کے چند قابل ترین وائس چانسلر سابق سرکاری ملازمین رہے ہیں جنہوں نے جامعات میں اعلیٰ تعلیم کے لئے بہترین کردار ادا کیا، یہ فیصلہ بین الاقوامی طریقوں سے بھی مطابقت رکھتا ہے۔ امریکہ اور یورپ سمیت کئی ممالک میں یونیورسٹی کے صدور یا وائس چانسلرز کے لیے پی ایچ ڈی کرنا لازمی نہیں ہے، یہ معیار تدریسی فیکلٹی کے لیے مخصوص ہیں، وی سی کی موجودہ اہلیت کے معیار جامعات میں متنوع اور تخلیقی قیادت کے امکانات کو محدود کرتے ہیں۔ آکسفورڈ یونیورسٹی کے چانسلرلارڈ پیٹن اورہاورڈ یونیورسٹی کے سابق صدرڈریو فاسٹ بھی غیر پی ایچ ڈی تھےجو یہ ظاہر کرتا ہے کہ تعلیمی ادارے بہترین مہارت اور پیشہ ورانہ پس منظر رکھنے والے افراد کے تحت ترقی کر سکتی ہیں ۔ فیڈریشن آف آل پاکستان یونیورسٹیز اکیڈیمک اسٹاف ایسوسی ایشن سندھ چیپٹر (فپواسا) کے جامعات ترمیمی بل کے خلاف احتجاج اور بائیکاٹ کےحوالے سے جاری وضاحت میں حکومت سندھ کے یونیورسٹیز اینڈ بورڈز ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہےکہ اس بل میں ایسی ترامیم شامل ہیں جن کا مقصد وائس چانسلرز کی تقرری کے لیے اہلیت کے معیار کو وسیع کرنا ہے۔ اس کے تحت 21گریڈ کے حاضر اور ریٹائرڈ (یا اس سے اوپر) کے ایسے افسران کوشامل کرنا جو متعلقہ شعبے میں ماسٹر ڈگری رکھتے ہیں کا مقصد امیدواروں کے پول کو بڑھانا ہے۔ اس سےتکنیکی تعلیم اور انتظامی تجربہ رکھنے والے انتظامی ماہرین، پیشہ ور افراداور انٹیلیکوچئلز کو بھی وائس چانسلر کے عہدوں کے لئے زیر غور لایا جائے گا۔ وائس چانسلر کی موجودہ اہلیت کے معیار جامعات میں متنوع اور تخلیقی قیادت کے امکانات کو محدود کرتے ہیں۔پاکستان کے چند قابل ترین وائس چانسلرزسابق سرکاری ملازمین رہے ہیں جنہوں نے اعلیٰ تعلیم میں تبدیلی کا کردار ادا کیا۔ سندھ میں ایسی قابل ذکر مثالوں میں شیخ ایاز، مظہر الحق صدیقی، نثار صدیقی، سید غلام مصطفیٰ شاہ اور سید مظفر حسین شاہ شامل ہیں۔

===============

وزیر اعلیٰ نے وڈیرانہ لہجہ اختیار کرکے ذہنی پستی کا اظہار کیا،منعم ظفر
26 جنوری ، 2025FacebookTwitterWhatsapp
کراچی(اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے وزیر اعلیٰ سندھ کے صوبے کی سرکاری جامعات اور وائس چانسلرز کے بارے میں ریمارکس کے حوالے سے شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ نے تعلیم سے وابستہ معزز شخصیات کے بارے میں وڈیرانہ لب و لہجہ اختیار کر کےاپنی پست ذہنی سطح کا اظہار کر دیا۔ انہوں نے اپنے بیان میں کہا کہ اصل مسئلہ جامعات کی خودمختاری کو ہدف بنا کر اپناتابع کرنا اور اساتذہ کی مستقل تقرری کی بجائے انہیں کنٹریکٹ پر بھرتی کرنا ہے اور جامعات میں تسلیم سے وابستہ سینئر اساتذہ، وائس چانسلرز کو مقرر کرنے کے بجائے بیورو کریٹ کو تعینات کرنا ہے جب کہ یہ بات ہر محقق اچھی طرح جانتا ہے کہ بیورو کریٹس نے پاکستان کے دیگر شعبوں کا کیا حال کیا ہے۔ اس ساری حقیقت کے سامنے ہونے کے باوجود وزیر اعلیٰ سندھ، بیورو کریٹس کو سرکاری جامعات کا وائس چانسلربنانے پر مصر ہیں۔