وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے دورہ ڈیووس نے سوشل میڈیا پر مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے

خبرنامہ نمبر546/2025
ڈیووس، سوئزرلینڈ، 23 جنوری۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کے دورہ ڈیووس نے سوشل میڈیا پر مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کر دیے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم X (سابقہ ٹوئٹر) پر ہیش ٹیگ #CMBalochistanAtDavos ٹاپ ٹرینڈ بن گیا، جس میں دنیا بھر سے صارفین نے وزیر اعلیٰ کے اقدامات اور بلوچستان کے مثبت تشخص کو اجاگر کیا جمعرات کو وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے سوئزرلینڈ کے شہر ڈیووس میں جاری ورلڈ اکنامک فورم کے 53ویں اجلاس میں شرکت کی۔ اس موقع پر پاکستان پویلین کے زیر اہتمام “بلوچستان بریک فاسٹ” تقریب منعقد کی گئی، جس میں وزیر اعلیٰ نے بطور مہمانِ خصوصی خطاب کیا اپنے خطاب میں میر سرفراز بگٹی نے بلوچستان کے قدرتی وسائل، سرمایہ کاری کے مواقع، اور حکومت کے ترقیاتی منصوبوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے اوورسیز پاکستانیوں اور بین الاقوامی مبصرین کو بلوچستان میں سرمایہ کاری اور سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے شراکت داری کی دعوت دی۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بلوچستان دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لیے ایک پرکشش منزل بن رہا ہے، اور ہم اسے مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہیں تقریب میں اوورسیز پاکستانیوں، بین الاقوامی مبصرین، اور دیگر معززین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ شرکائ نے بلوچستان کے بارے میں دی گئی معلومات اور ترقیاتی ویڑن کو سراہا وزیر اعلیٰ بلوچستان کے دورہ ڈیووس کے اس مثبت اثر نے نہ صرف سوشل میڈیا پر عوامی توجہ حاصل کی بلکہ عالمی فورم پر بلوچستان کی نمائندگی کو مزید تقویت دی “بلوچستان بریک فاسٹ” میں وزیر اعلیٰ کے خطاب کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہیں، جہاں لوگوں نے ان کے اقدامات کی تعریف کی اور بلوچستان کے روشن مستقبل کے لیے نیک تمناوں کا اظہار کیا بلوچستان حکومت کے ترجمان شاہد رند نے بتایا کہ میر سرفراز بگٹی کا یہ دورہ نہ صرف بلوچستان بلکہ پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے لیے اہم ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر547/2025
سوئٹزرلینڈ 23 جنوری۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں سرمایہ کاری کے بے پناہ مواقع موجود ہیں یہ خطہ عالمی برادری کے لیے ایک مثالی اقتصادی مرکز بن سکتا ہے بلوچستان دنیا بھر کے سرمایہ کاروں کے لئے ایک پرکشش منزل بن رہا ہے ہم اسے مزید ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے پرعزم ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعرات کو یہاں سوئٹزرلینڈ میں پاتھ فائنڈر گروپ کے زیر اہتمام منعقدہ بین الاقوامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا اس تقریب میں وزیر اعلیٰ بلوچستان مہمان خصوصی کی حیثیت سے مدعو تھے تقریب میں دنیا بھر کے کاروباری اور ترقیاتی ماہرین نے شرکت کی وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی 24 کروڑ آبادی میں نوجوانوں کی بڑی تعداد شامل ہے جو ملک کی ترقی کے لیے ایک اہم اثاثہ ہے بلوچستان اس ضمن میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے جو 44 فیصد رقبے پر مشتمل ہے اور بے پناہ قدرتی وسائل، اسٹریٹجک محل وقوع، اور وسیع اقتصادی مواقع سے مالا مال ہے بلوچستان بلا شبہ پاکستان کے علاقائی اور عالمی تجارت کے دروازے کی حیثیت رکھتا ہے گوادر پورٹ چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے سنگ بنیاد کے طور پر مرکزی حیثیت رکھتی ہے انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے قدرتی وسائل جن میں ریکوڈک کاپر گولڈ مائن، کرومائیٹ، سنگ مرمر، اور قدرتی گیس کے وسیع ذخائر شامل ہیں عالمی سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے بے مثال مواقع فراہم کرتے ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ بلوچستان کی زراعت اور ماہی گیری کے شعبے بھی سرمایہ کاری کے لیے پرکشش ہیں یہاں اعلیٰ معیار کی کھجور، سیب، انار اور انگور کی پیداوار ہوتی ہے جبکہ ساحلی علاقوں میں ماہی گیری اور آبی زراعت کے شعبے سرمایہ کاروں کے لیے وسیع روشن امکانات ہیں میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ان کی حکومت نے خصوصی اقتصادی زونز جیسے گوادر فری زون، قائم کیے ہیں، جو ٹیکس چھوٹ، ڈیوٹی فری مشینری کی درآمد، اور سرمایہ کاری کے لیے دیگر سہولیات فراہم کرتے ہیں اس کے علاوہ، صوبے میں انفراسٹرکچر کی ترقی کے ذریعے منڈیوں اور کمیونٹیز کو آپس میں جوڑنے کے لیے کام کیا جا رہا ہے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ترقی کا مطلب صرف اقتصادی ترقی نہیں بلکہ عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانا ہے موجودہ صوبائی حکومت تعلیم، صحت، اور روزگار کی فراہمی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے اور مقامی کمیونٹیز کو ترقیاتی منصوبوں میں شریک کر رہی ہے تاکہ ترقی کے فوائد سے منصفانہ طور پر تمام مقامی لوگ استفادہ کرسکیں وزیر اعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے عالمی سرمایہ کاروں کو بلوچستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ یہ صوبہ ترقی کے ایک نئے دور کے دہانے پر کھڑا ہے بلوچستان میں سرمایہ کاری کے ان مواقعوں کو بروئے کار لا کر نہ صرف بلوچستان بلکہ پورے پاکستان اور عالمی برادری کے لیے ترقی کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں تقریب سے سابق وزیر اعظم پاکستان انوار الحق کاکڑ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 548/2025
اسلام آباد 22 جنوری۔ صدر مملکت آصف علی زرداری سے بلوچستان کے وزیر برائے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سردار عبدالرحمن کھتیران نے ایوان صدر میں ملاقات کی۔ ملاقات میں صوبائی وزیر سردار عبدالرحمن کھتیران نے صدر آصف علی زرداری کی صحت کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا،اور بلوچستان کی مجموعی سیاسی، معاشی اور سیکورٹی صورتحال پر گفتگو ہوئی۔اس موقع بلوچستان کے وزیر برائے زراعت حسن زہری ،اورنگ زیب کھتیران بھی موجود تھے صدر مملکت آصف علی زرداری نے صوبائی حکومت کے ترقیاتی پروگرام اور امن کے قیام کے لیے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ اس موقع پر صوبائی وزیر برائے پی ایچ ای سردار کھتیران نے کہا کہ بلوچستان کی ترقی و خوشحالی اور عوامی فلاح و بہبود ہماری اولین ترجیحات میں شامل ہیں جس کیلیئے تمام تر اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 549/2025
کوئٹہ 23 جنوری۔ وزیر اعلیٰ بلوچستان کی مشیر برائے محکمہ ترقی نسواں ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے عالمی یوم تعلیم کے موقع پر اپنے ایک خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی ترقی اور خوشحالی کا بنیادی ستون ہے۔ ایک تعلیم یافتہ فرد نہ صرف خود بہتر زندگی گزار سکتا ہے بلکہ دوسروں کے لئے بھی مشعل راہ کا کردار ادا کرتا ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (AI) اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کی تیز رفتار ترقی نے تعلیمی شعبے میں بھی بے شمار مواقع پیدا کیے ہیں۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے اور طلبہ کو ایسی مہارتیں فراہم کرنے پر توجہ دینی ہوگی جو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں۔انہوں نے خواتین اور بچیوں کی تعلیم کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ کسی بھی معاشرے کی ترقی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک خواتین کو تعلیم کے مساوی مواقع فراہم نہ کیے جائیں۔ تعلیم کے فروغ کے لئے صوبائی حکومت کی جانب سے اٹھائے گئے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے کہا کہ تعلیم کے فروغ کے لیے اصلاحات، بجٹ میں اضافہ، اور جدید تعلیمی منصوبے ہماری اولین ترجیحات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج کثیر تعداد میں بلوچستان کے طلبہ و طالبات BEEF اسکالرشپس سے مستفید ہورہے ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ موجودہ صوبائی حکومت صوبے میں تعلیم کے فروغ کے لئے خلوص نیت سے کام کررہی ہے۔ ڈاکٹر ربابہ خان بلیدی نے مزید کہا کہ عالمی یوم تعلیم ہمیں اس بات کی یاد دلاتا ہے کہ علم کے بغیر ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا، اور ہمیں اجتماعی طور پر ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کے لیے کام کرنا ہوگا جہاں تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق ہو۔انہوں نے اس موقع پر والدین، اساتذہ، اور سماجی رہنماو ں سے اپیل کی کہ وہ بچوں کی تعلیم، خاص طور پر بچیوں کی تعلیم کو یقینی بنانے کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
Quetta (23 January 2025): Dr. Rubaba Khan Buledi, Advisor to the Chief Minister of Balochistan for the Women Development Department has emphasized the fundamental role of education in the development and prosperity of any society. In her special message on the International Day of Education, Dr. Rubaba Khan Buledi stated that an educated individual not only improves their own quality of life but also serves as a guiding light for others.Dr. Rubaba Khan Buledi highlighted the rapid advancements in artificial intelligence (AI) and other modern technologies, which have created numerous opportunities in the education sector. She stressed the need to align the education system with modern requirements and equip students with skills that would help them tackle future challenges effectively.Underscoring the importance of education for women and girls, she said that no society can truly progress unless women are provided with equal opportunities for education. She mentioned the initiatives taken by the provincial government to promote education, such as reforms, budget increases, and modern educational projects, as top priorities. Dr. Rubaba Khan Buledi added that a significant number of students in Balochistan are currently benefiting from BEEF scholarships, a clear testament to the provincial government’s sincere efforts to advance education in the region.Dr. Rubaba Khan Buledi further remarked that the International Day of Education serves as a reminder that the dream of progress cannot be realized without knowledge. She urged collective efforts to build a society where education is recognized as every child’s fundamental right. On this occasion, she appealed to parents, teachers, and community leaders to fulfill their responsibilities in ensuring access to education, particularly for girls.
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 550/2025
گوادر 22 جنوری۔ڈائریکٹر جنرل گوادر ڈویلپمنٹ اتھارٹی شفقت انور شاہوانی نے جی ڈی اے پاک چائنا فرینڈشپ ہسپتال میں بلڈ بینک کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر بلڈ ڈونیشن کیمپ کا بھی انعقاد کیا گیا۔ افتتاح کے دوران ڈائریکٹر جنرل نے ہسپتال کے مختلف شعبوں، بلڈ بینک، بلڈ کیمپ، اور لیبارٹری کا جائزہ لیا اور ان کی کارکردگی کو سراہا۔ اس موقع پر ڈائریکٹر جنرل نے بلڈ ڈونیشن کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ خون کا عطیہ دینا ایک عظیم انسانی خدمت ہے، جو ضرورت مندوں کی زندگیاں بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ بلڈ ڈونیشن کے عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ خون کی قلت کو دور کیا جا سکے اور ہنگامی حالات میں ضرورت مند مریضوں کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اکثر ایک تاثر دیکھنے کو ملتا ہے کہ جی ڈی اے ہسپتال میں کسی مریض یا خاتون کو خون کی اشد ضرورت ہے اور لوگوں سے فوری مدد کی اپیل کی جاتی ہے۔ بلڈ بینک کے قیام کے بعد یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے گا، کیونکہ ہسپتال میں خون کی فراہمی کا موثر نظام موجود ہوگا، جس سے فوری طور پر مریضوں کو خون مہیا کیا جا سکے گا۔ ڈائریکٹر جنرل نے اعلان کیا کہ جی ڈی اے کے افسران اور عملہ بھی بلڈ ڈونیشن کیمپ میں بھرپور شرکت کرے گا تاکہ اس کارِ خیر میں انکا بھی حصہ شامل ہو جائے۔ انہوں نے ہسپتال کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ جی ڈی اے پاک چائنا فرینڈشپ ہسپتال نہ صرف گوادر بلکہ پورے مکران کے عوام کے لیے کسی نعمت سے کم نہیں۔ یہاں پر لوگوں کو معیاری اور مفت صحت کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں، جن میں کنسلٹنسی، سرجری، ادویات، اور لیبارٹری خدمات شامل ہیں۔ ڈائریکٹر جنرل نے کہاکہ ہسپتال کی توسیع کے منصوبے جاری ہیں، جن میں ایک جدید میڈیکل کالج کا قیام بھی شامل ہے، جو نہ صرف علاقے کی ترقی بلکہ طبی تعلیم اور صحت کے شعبے میں سنگ میل ثابت ہوگا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 551/2025
ژوب 23جنوری۔ضلعی انتظامیہ ژوب کی جانب سے کلی تکی میں کھلی کچہری کا انعقاد ژوب وزیر اعلی بلوچستان کی احکامات چیف سیکرٹری بلوچستان کی ہدایت پر ضلعی انتظامیہ ژوب نے کلی تکئی مندوخیل میں کھلی کچہری کا انعقاد کیا۔ جس کی صدارت اسسٹنٹ کمشنر ژوب محمد نوید عالم و ونگ کمانڈر ایف سی ژوب 167 نے کی۔ اس موقع ضلع ژوب آل لائن ڈیپارٹمنٹ کے افسران و مقامی مشران و لوگوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر کھلی کچہری میں علاقہ مکین نے علاقے میں اسکولوں کی مرمت، اساتذہ کی کمی، ہیلتھ بی ایچ یو کے فنکشنلائزیشن اور سلیزا واٹر چینل پر پل کی تعمیر سمیت کئی اہم مسائل سے افسران کو آگاہ کیا۔مقامی لوگوں نے سیلیازہ کلی تکی پل کی تعمیر میں تیزی لانے اور اساتذہ کی کمی کو دور کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس موقع پر ضلعی انتظامیہ کے افسران نے نے بعض معاملات کو فوری حل کرنے کی ہدایات جاری کیں اور متعلقہ محکموں کو دیگر مسائل کو حل کرنے کے احکامات دیئے کھلی کچہری کے ذریعے ضلعی انتظامیہ نے مقامی لوگوں کو اپنے تحفظات کا اظہار کرنے کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کیا۔ ضلعی انتظامیہ ژوب اپنے لوگوں کے مسائل حل کرنے اور معیار زندگی بہتر بنانے کے لیے پر عزم ہیں۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 552/202
23 جنوری خضدار۔ ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی سے ان کے آفس میں تحصیل زہری کے سیاسی رہنماوں کی ملاقات اور زہری میں عوام کو درپیش مسائل سے متعلق بات چیت کی۔ تحصیل زہری سے مالیاتی ادارے ، نادرا آفس کی منتقلی اور دیگر ایشوز کے بارے میں ڈپٹی کمشنر خضدار کو چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کیا۔ وفد میں حاجی عبدالنبی زہری عبدالحمید زہری حاجی راوت خان زہری حضور بخش زہری حاجی محمد امین عزیز اللہ شیر احمد علی اکبر علی احمد شامل تھے۔ اس موقع ملاقات میں اسسٹنٹ کمشنر خالد بھی موجود تھے۔ ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی کا کہنا تھا کہ عوامی مسائل عوام کی خواہشات کے مطابق حل کیئے جائیں گے دفاتر یا مالیاتی ادارے اور نادرا آفس کی منتقلی کا کوئی پلان نہیں ہے یہ تمام سہولیات عوام کو ان کے علاقے میں مہیائ کیئے جائیں گے اس متعلق تحصیل زہری کے شہری بے فکر رہیں،۔ وفد نے یقین دھانی پر ضلعی انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 553/2025
خضدار23جنوری۔ کمشنر قلات ڈویژن محمد نعیم خان بازئی کی زیر صدارت اجلاس۔ ٹاون شپ کے قبضہ کردہ 56 ایکڑ کو واگزار کرانے کا فیصلہ۔اجلاس میں ڈپٹی کمشنر خضدار یاسر اقبال دشتی ایڈیشنل کمشنر قلات ڈویژن اعجاز احمد جعفر سیٹلمنٹ آفیسر سبحان دشتی نے شرکت کی۔ اجلاس گورنمنٹ اسکیم ٹاون شپ سے متعلق بلائی گئی تھی۔ اس موقع پر اجلاس کو بتایا گیا کہ ٹان شپ خضدار 437 ایکڑ پر مشتمل ہے اور 381 ایکڑ گورنمنٹ کے قبضے میں ہے۔ جب کہ بقایا ایکڑز پر غیر قانونی طور پر قبضہ کرلیا گیا ہے جو کہ 56 ایکڑ بنتے ہیں. اس متعلق حکومت نے فیصلہ کرلیا ہے کہ گورنمنٹ کی زمین واگزار کرائی جائیگی۔اور جی پی ایس سسٹم کے ذریعے اراضی کی میپنگ بھی کی جائیگی۔ غیر قانونی قابضین کو وارننگ دی گئی کہ وہ فوری طور پر گورنمنٹ اسکیم ٹاون شپ سے اپنا قبضہ ختم کرادیں ورنہ قانون حرکت میں آئیگی۔ کمشنر قلات ڈویژن محمد نعیم خان بازئی کا کہنا تھا کہ ٹاون شپ اسکیم گورنمنٹ کی ملکیت ہے اور اس کے لئے ایک ضابطہ اور طریقہ کار موجود ہے۔ جب اس کے لئے کمیٹی بھی قائم ہے تاہم گورنمنٹ اراضی پر زبردستی قبضہ اور اس پر تعمیرات کی اجازت نہیں دی جاسکتی ہے اور اس سلسلے میں 56 ایکڑ اراضی کو واگزار کرانے کے لئے گورنمنٹ حرکت میں آئیگی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 554/2025
لورالائی 23جنوری۔ ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کی زیر صدارت ڈسٹرکٹ ہیلتھ کمیٹی کا ماہانہ اجلاس منعقد ہوااجلاس میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر عبدالحمید لہڑی، ڈاکٹر فہیم خان اتمانخیل، ڈسڑکٹ سپورٹ آفیسر پی پی ایچ آئی، ڈبلیو ایچ او اور دیگر آفیسرز نے شرکت کی۔اجلاس میں محکمہ ہیلتھ کے شعبے کو مذید فعال اور عوام کو سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنانے پر غور و خوض ہوا۔ غیر حاضر اسٹاف کے خلاف قانونی ایکشن پر عملدرآمد، ٹرانسفر پوسٹنگ، ادویات کی قلت اور دیگر ضروری سہولیات، مشینری، آلات کی دستیابی پر غورو خوض ہوا۔اجلاس میں محکمہ ہیلتھ کے آفیسرز نے اپنی رپورٹ اور تجاویز پیش کیئے۔ اس موقع پر ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہسپتالوں میں اسٹاف کی حاضری کو ہرصورت میں یقینی بنایا جائیگا کوتاہی برتنے وغیر حاضر رہنے والوں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔ شعبہ ہیلتھ میں نااہلی اور کوتاہی کی گنجائش نہیں یہ ایک ایسا شعبہ ہے کہ اس کا براہ راست تعلق عوام کی صحت سے ہے اور عوام کا علاج ہسپتال میں ہونا ضروری ہے اسٹاف کا ہسپتال کے تمام شعبوں کو فعال بنانا اور پرائم ٹائم کی پابندی کرنا بے حد لازمی ہے۔ صحت کی مفت سہولیات کی فراہمی عوام کا بنیادی حق ہے اس شعبے کو حکومت اپنی ترجیحات میں شامل کرکے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کی بھر پور کوشش کررہی ہے اس لیئے ضروری ہے کہ ضلع لورالائی میں عوام کو علاج و معالجے کی مفت سہولیات کی فراہمی کو ہرصورت میں یقینی بنایا جائے، ہسپتالوں میں اسٹاف کو اپنی ڈیوٹیز پر حاضر رہنے کی تلقین کی جاتی ہے اور مستقبل میں ان کی کڑی نگرانی کی جائیگی غیر حاضر رہنے والے اسٹاف کی تنخواہیں کاٹی جائیں گی اور جو مستقبل غیر حاضر ہیں ان کو ملازمت سے ہمیشہ کے لئے برخاست کیا جائیگا۔ڈپٹی کمشنر لورالائی میران بلوچ کا کہنا تھاکہ ہم شعبہ صحت میں ایک ایسا موثر نظام لانا چاہتے ہیں کہ جس میں ہسپتال علاج و معالجے کے مرکز بن جائے اور ڈاکٹرز سمیت تمام اسٹاف میں خداترسی و فرائض نبہانے کی عادت پڑ جائے تاکہ علاج کے لئے آنے والے مریض ریلیف لیکر اور یہاں سے صحت مند بن کر اپنے گھروں کو واپس جائیں۔اس حوالے سے تمام اسٹاف اپنی ذمہ داریاں نبہائے گی تو اس سے ضلع کا نام روشن ہوگا عوام کا ڈاکٹر ز اور اسٹاف و ہسپتال پر اعتماد بڑھ جائے گا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر 555/2025
کوئٹہ 23 جنوری۔ڈائریکٹر جنرل بلوچستان لیویز فورس عبدالغفار مگسی نے گزشتہ روز چمن کے گڑنگ لیویز چیک پوسٹ پر لیویز اہلکار کی جانب سے ڈرائیور سے مبینہ رشوت لینے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد سختی سے نوٹس لیتے ہوئے ڈپٹی کمشنر چمن حبیب احمد بنگلزئی سے رابطہ کرکے رپورٹ طلب کی اور رشوت ستانی میں ملوث اہلکار کیخلاف کارروائی کا حکم دیا جس پر ڈپٹی کمشنر چمن نے ڈی جی لیویز عبدالغفار مگسی کی ہدایت پر لیویز اہلکار محمد ادریس کو معطل کردیا اور معاملے کی مزید تحقیقات کیلئے اسسٹنٹ کمشنر چمن کو انکوائری آفیسر مقرر کرکے رپورٹ دو دن میں پیش کرنیکی ہدایت کردی۔ ڈائریکٹر جنرل بلوچستان لیویز فورس عبدالغفار مگسی نے کہا کہ لیویز منظم فورس ہے ، بدعنوانی کیخلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے ، فرائض میں کوتاہی اور غفلت کرنیوالوں کیخلاف سخت کارروائی ہوگی۔یاد رہے ڈی جی لیویز نے چارج سنھبالتے ہی بدعنوانی اور لاپرواہی کے مرتکب پانچ ملازمین کو معطل کردیا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر556/2025
تربت23 جنوری۔ گورنمنٹ گرلز ہائیر سکینڈری اسکول چاہ سر میں دو روزہ پروگرام اختتام پذیر ہوگیا۔ پہلے دن بزنس گالہ کا اہتمام کیاگیا۔ صبح تا شام کو کتب سمیت فوڈ کے مختلف اسٹال لگائے گئے تھے۔ پرنسپل میڈم شکیلہ حاصل کی زیرصدارت اختتامی تقریب منعقد ہوئی۔ تقریب کے مہمان خصوصی ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر کیچ (ریونیو) مقبول انور رند اور ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر (فیمیل) کیچ میڈم شائستہ حاصل تھے جبکہ اعزازی مہمانوں ڈپٹی ڈی ای او فیمیل تربت میڈم جنت عزیز، ڈپٹی ڈی ای او فیمیل دشت میڈم مہوش بلوچ، ریٹائرڈ ٹیچر میڈم وحیدہ، کونسلر حاجی علی احمد، سمیت دیگر موجود تھے۔ پروگرام میں طالبات نے تقاریر اور ٹیبلو پیش کیئے۔ تقریب سے مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ اس ایونٹ نے نہ صرف طالبات کی کاروباری صلاحیتوں کو اجاگر کیا بلکہ انہیں عملی تجربہ فراہم کرنے اور تعلیم طرف ماہل کرنے کا بھی موقع دیا۔ مقررین نے اسکول کی انتظامیہ، اساتذہ اور طالبات کی محنت کو سراہتے ہوئے اس طرح کے پروگراموں کی اہمیت پر زور دیا۔ اور کہاکہ تعلیمی اداروں میں پروگرام کے بیشتر تقاریر اور سگمنٹس کو بلوچی و بلوچ کلچر سے منسلک کرنا چاہیئے تاکہ بلوچ قوم کی نئی نسل اپنی مادری زبان و ثقافت سے آشنا ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ سرگرمیاں نہ صرف تعلیمی ماحول کو بہتر بناتی ہیں بلکہ طالبات کو آگے بڑھنے کی ترغیب بھی دیتی ہیں۔ یہ دو روزہ پروگرام نہایت کامیابی کے ساتھ اختتام پذیر ہوا اور شرکاء نے اسکول کی انتظامیہ کو ایسے مزید پروگراموں کے انعقاد کی تجویز دی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر557/2025
تربت23 جنوری۔سیونیورسٹی آف تربت کے ڈائریکٹوریٹ آف اسٹوڈنٹ افیئرز کے زیراہتمام نئے داخل ہونے والے انڈرگریجویٹ [بی ایس]پروگرامزکے طلبہ کے لیے ایک ہفتے پر محیط مختلف تعارفی اورآگاہی سیشنز کا انعقاد کیاگیا۔افتتاحی سیشن کے دوران نئے داخل ہونے والے طلبہ کو خوش آمدید کہتے ہوئے یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر ڈاکٹر منصور احمد نے یونیورسٹی میں سازگارتعلیمی ماحول اور طلبہ کی روشن مستقبل کے بارے میں اظہارخیال کیا۔انہوں نے طلبہ کو یقین دلایا کہ یونیورسٹی میں ان کے تعلیمی اور پیشہ ورانہ مقاصد کے حصول کے لیے راہنمائی اور تعاون فراہم کرنےکے علاوہ طلبہ کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے کے لیے بھرپورتوجہ دی جائے گی۔ پرو وائس چانسلر نے طلبائ وطالبات کو تلقین کہ وہ تعلیمی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کرشرکت کرکے دستیاب مواقع اور سہولیات سے بھرپور فائدہ اٹھائیں، اور یونیورسٹی میں اعلیٰ کارکردگی اورنظم وضبط کا مظاہرہ کریں۔اس موقع پررجسٹرارگنگزار بلوچ اور اسٹوڈنٹ افیئرز کے ڈائریکٹر ڈاکٹرمظفرحسین نے طلبہ کے لیے دستیاب سہولیات اور یونیورسٹی کے سازگار تعلیمی ماحول پرتفصیلی روشنی ڈالی۔کوالٹی انہانسمنٹ سیل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر ریاض احمد،کنٹرولر امتحانات ڈاکٹر عبدالماجد ناصر، ہاسٹل پروہوسٹ ڈاکٹرعدنان ریاض،لیکچررجیئندابراہیم اورچیف سیکیوریٹی آفیسرشاہدعیسی کے علاوہ دیگر متعلقہ شعبوں کے متعلقہ افسران نے مختلف سیشنز میں بطورریسورس پرسن حصہ لیا-مختلف فیکلٹیزکے طلبہ وطالبات کے لئے منعقدہ الگ الگ آگاہی سیشنز میں سمسٹر سسٹم، نئے انڈرگریجویٹ قوانین 2023، ہاسٹل وٹرانسپورٹ کی سہولیات، طلبہ کی فلاح و بہبود، اسٹوڈنٹ سوسائٹیز اینڈکلبز، نظم و ضبط کی پاسداری اور اسکالرشپ کے مواقع کے علاوہ یونیورسٹی لائف کے اہم پہلووں کا احاطہ کیا گیا اور طلبہ کو راہنمائی فراہم کی گئی۔ یونیورسٹی لائف سے واقفیت دلانے اور اپنی تعلیمی سفرکے کامیاب آغازکے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم اور راہنمائی فراہم کرانے پر نئے طلبائ وطالبات نے یونیورسٹی کے وائس چانسلرپروفیسرڈاکٹرگل حسن اور تمام ریسورس پرسنز کا شکریہ اداکیا۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر558/2025
تربت23جنوری۔ ڈائریکٹر آف کالجز بلوچستان، پروفیسر محمد حسین بلوچ نے دوسرے روز بھر گورنمنٹ عطاشاد ڈگری کالج تربَت کا دورہ کیا جہاں پر انہوں نے انٹرمیڈیٹ اور بی ایس کے کلاسز کے علاوہ کالج کے مختلف سیکشن اور لیبارٹریز کا معائنہ کیا۔ اس موقع پر کالج کے سنئیر فیکلٹی ممبران ان کے ہمراہ تھے۔انہوں نے کالج میں زیرِ تعلیم طلبائ کے رجٹریشن ریکارڈ، اساتذہ اور کالج کے دیگر ملازمین کی حاضریاں بھی چیک کیے۔ انہوں نے کلاسز میں طلبائ سے نصابی اور غیرنصابی سرگرمیوں کے حوالے سے سوالات بھی کیے۔ انہوں نے کالج کے پروفیسرز کو ہدایات جاری کیے کہ وہ طلبائ کی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں کے حوالے سے سخت محنت کریں اور کالج کو ماضی کے مقابلے میں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کرانے میں بھرپور کردار ادا کریں ان کا کہنا تھا کہ کالج میں زیرِتعلیم طلبائ کے داخلوں کی تعداد کے برعکس طلبائ کالج میں موجود ہیں۔ کوشش کی جائے کہ زیادہ سے زیادہ طلبائ کلاسز میں حاضر رہیں انہوں نے اپنے دورہ کے موقع پر کالج کے سنئیر فکیلٹی ممبران سے کالج کے جملہِ مسائل سے تبادلہِ خیال کیا اور کالج کے مختلف مسائل کو حل کرانے کی یقین دہانی کی۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
خبرنامہ نمبر559/2025
تربت23 جنوری۔ ڈپٹی چیئرمین ڈسٹرکٹ کونسل کیچ میر باہڈ جمیل دشتی نے ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر میر اشرف گچکی کے ہمراہ دشت کھڈان ڈرگ سنٹر کا معائنہ کیا۔ اس دورے کا بنیادی مقصد منشیات کے مرکز کے فوری کام اور بحالی کے لیے حکمت عملی وضع کرنا تھا، قابل ذکر بات یہ ہے کہ علاقی عمائدین، بشمول میر باہڈ جمیل دشتی اور کھدہ عزیز نے مرکز کی بحالی کو یقینی بنانے کے لیے اپنا تعاون بڑھایا۔ معائنہ کے بعد ڈویژنل ڈائریکٹر نے فروری کے پہلے ہفتے تک ڈرگ سنٹر کو بحال کرنے کا اعلان کیا تاکہ دشت کھڈان سمیت گردنواع کےمنشیات سے متاثرین کے علاج صحتیابی کیلئے ایک اہم اقدام ہو، منشیات متاثرین مجرم نہیں بلکہ ہماری توجہ اور پیار کے مستحق ہیں اس موقع پر میر باہڈ جمیل دشتی نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ھم سمجھتے ہیکہ صرف دشت میں منشیات کے دھندے کی بیخ کنی سے ہمارا کام مکمل نہیں ہوگا بلکہ ہماری خواہش ہیکہ پورے بلوچستان سے اس وبا کا خاتمہ ہو۔ دشت کے عوام اس عظیم مقصد کے حصول کے لیے ہر سطح تک جانے کا تہیہ کر چکے ہیں اور یہ امید رکھتے ہیں کہ اس عظیم انسانی کاز کو آگے لے جانے کے لیے بلوچستان کا ہر بچہ، ہر جوان، ہر بزرگ، ہرسیاستکار، تمام لوگ ہراول دستے کا کردار ادا کریں۔ تاکہ بلوچستان کا ہر بچہ اس بیماری سے محفوظ ہو، ہر ماں اپنے لخت جگر کو سسک سسک کر مرتے نہ دیکھ لے، ہر والد اپنے بڑھاپے کے سہارے کو خود پر اور معاشرے پر بوجھ بنتا نہ دیکھے۔ ہر بہن اپنے بھائی کو اپنا سہارا سمجھے سکے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
پریس ریلیز
یو جی پی آر، 22 جنوری۔بلوچستان کی معاشی ترقی کے لیے مہارت کی ضروریات پر ایک روزہ سیمینار میر احمد بخش لہری آڈیٹوریم (PCTVI)، گوادر یونیورسٹی میں منعقد ہوا۔ یہ سیمینار PCTVI ، گوادر یونیورسٹی اور گوادر پورٹ اتھارٹی کے اشتراک سے منعقد کیا گیا، جس میں ماہرین، پالیسی سازوں اور طلبہ نے بلوچستان میں معاشی مواقع اور چیلنجز پر تبادلہ خیال کیا۔ کلیدی مقرر، ممتاز ماہرِ معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے صوبے کی صلاحیتوں پر روشنی ڈالی اور چیلنجز جیسے کہ انفراسٹرکچر کی کمی اور انسانی وسائل کی ترقی کے لیے حکمت عملی کی ضرورت پر زور دیا۔سیمینار میں گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر، کے ساتھ مختلف شعبہ جات کے افسران اور طلبہ نے شرکت کی۔ گوادر یونیورسٹی کے پرو وائس چانسلر اور PCTVI کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر سید منظور احمد نے نوجوانوں کو بااختیار بنانے اور پائیدار ترقی کے لیے تکنیکی اور پیشہ ورانہ تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔یہ سیمینار سوال و جواب کے ایک دلچسپ سیشن کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جس میں شرکائ نے مقررین کے ساتھ بات چیت کی اور بلوچستان کی معاشی ترقی کے لیے قابلِ عمل حل تلاش کیے۔یہ سیمینار تعلیم اور تعاون کو بلوچستان کی معاشی صلاحیتوں کے استعمال کے لیے اہم آلات کے طور پر اجاگر کرنے کے عزم کی تصدیق کرتا ہے۔
﴾﴿﴾﴿﴾﴿
English Press Release
January 22, 2025: A one-day seminar on Skill Needs for Economic Development of Balochistan was held at the Mir Ahmed Bakhsh Lehri Auditorium (PCTVI) , Gwadar University . Organized by PCTVI and Gwadar Port Authority, the event brought together experts, policymakers, and students to discuss economic opportunities and challenges in Balochistan.Keynote speaker Dr. Kaiser Bengali, an eminent economist, highlighted the province’s potential and the need for strategic planning to address challenges like infrastructure gaps and human resource development.The seminar was attended by the Vice Chancellor of the University of Gwadar, Prof. Dr. Abdul Razzaq Sabir, along with various departmental officials and university students. Prof. Dr. Syed Manzoor Ahmed, Pro Vice-Chancellor of the University of Gwadar and Executive Director of PCTVI, stressed the importance of technical and vocational education for empowering youth and driving sustainable development.The event concluded with an engaging question-and-answer session, allowing participants to interact with the speakers and explore actionable solutions for Balochistan’s economic growth.This seminar reaffirmed the commitment to education and collaboration as vital tools for harnessing Balochistan’s economic potential.