
تحریر: مجاہد حسین وسیر
ہم لوگوں نے کئی بار یہ لفظ سنا ہے کہ سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا ہمارے سیاست دانوں نے اس پر عمل کر کے دکھا دیا ہے دو دن پہلے ایک نجی ٹی وی شو میں دو سیاسی جماعتوں کے رہنماوں جن میں اختیار ولی اور نعیم حید پنجوتھا کے درمیان ہاتھا پائی ہو گئی یہ کوئی پہلی بار دیکھنے کو نہیں ملا بلکہ اس سے پہلے معتدد بار ٹی وی چینلز پر ہمیں ایسی لڑائیاں دیکھنے کو ملی ہیں جن میں شیر افضل مروت اور افنان اللہ خان ، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان اور قادر مندو خیل،نعیم الحق اور دانیال عزیزکے درمیان یہ معرکے مارے جا چکے ہیں۔ سیاست، سیاست دانوں سے کچھ بھی کروا دیتی ہے مگر سیاست میں اس حد تک پہنچ جانا یہ عجیب بات ہے۔ لاکھوں کی تعداد میں عام لوگ اپنے ووٹوں کے زریعے سیاست دانوں کواپنا نمائندہ منتخب کرتے ہیں جس کا مقصد اس علاقے کے لوگوں کی نمائندگی کرنا ہوتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قانون سازی اور عام عوام کے حقوق کی جنگ لڑنا مگر یہاں پر تو سب کچھ الٹ ہی ہوتا ہے۔ عام لوگ اسی طرح رل رہے ہوتے ہیں مگر منتخب عوامی نمائندے اپنی ذاتی جنگ لڑنا شروعکر دیتے ہیں۔ نیشنل ٹی ویچینل پر کروڑوں لوگ دیکھ رہے ہوتے ہیں دیکھنے والے عام لوگوں کو اس سب سے کیا پیغام ملتا ہو گا۔ یہ بات ماننی پڑے گی کہ اب سیاست میں پڑھے لکھے لوگ تو آ گئے ہیں مگر افسوس کی بات ہے کہ ہم اور ہمارے منتخب نمائندے ابھی تک اخلاقی زوال کا شکار ہیں۔ سیاست میں اختلاف رائے اچھی چیز ہے مگر اسے ذاتی لڑائی اور انا کا مسئلہ ملک اور قوم دونوں کے لیے زہر قاتل ہے۔ آج اگر ہمارے لیڈرز یہ کریں گے تو نئی نسل جو ان کو فالو کرتی ہے کل کو وہ بھی اسی ڈگر پر چل پڑیں گے جس سے سیاست کے نام پر انتشار پھیلے گا۔ تنقید برائے تعمیر ہونی چاہیے نا کہ تنقید برائے تنقید جس میں بندہ اخلاقیات کا بھی جنازہ نکال دے۔ ہمیں نا صرف فخر ہونا چاہیے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اخلاق پر عمل کرنا چاہیے کہ ہم ایک ایسے نبی ؐ ﷺکی امت ہیں جو ہمارے لیے اخلاق کا عملی نمونہ ہیں۔ انسانی زندگی میں حسن اخلاق کو جو اہمیت وعظمت حاصل ہے وہ کسی سے پو شیدہ نہیں ہر مذہب کے لوگ بلکہ دنیا میں بسنے والا ہر انسان اچھے اخلاق و کردار اور اچھے برتاؤ کا قائل ہے اور یقینا کسی کو بھی اس سے انکار نہیں ہو سکتا کیوں کہ اخلاقی خوبیوں کو حاصل کرنا فطرت انسانی کااہم تقاضہ ہے ۔اخلاق کے ذریعہ معاشرے میں آپسی بھائی چارہ، اتحاد واتفاق، پیار و محبت، عفو و در گزر، اورہم آہنگی پیدا کی جا سکتی ہے اور اسی طاقت کے ذریعہ آپسی اختلاف وانتشار، باہمی چپقلش ورنجش، نفرت ، عداوت ودشمنی، بغض و کینہ، اور ہر طرح کے تضادات دور کیے جا سکتے ہیں،حسن اخلاق در حقیقت انسان کا زیوراور اس کا حسن وخوبصورتی ہے۔جب کہ بد اخلاقیاور بدسلوکی سے تمام برائیاں نفرت ، اختلاف وانتشار ،چپقلش و رنجش وغیرہ جنم لیتی ہیں ۔چنانچہ بد اخلاقی کو بیان کرتے ہوئے ابوسعید خدری ؓ فرماتے ہیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بخل اور بد اخلاقی جیسی خصلتیں کسی مومن میں جمع نہیں ہو سکتیں۔ بد اخلاق کو اپنے سے دور رہنے کی وعید سناتے ہوئے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بے شک دنیا میں تم میں سے مجھے زیادہ پسند و محبوب اور روزِ قیامت میرے زیادہ قریب وہ شخص ہو گا جو تم میں سے زیادہ بااخلاق ہو گا، اور تم میں سے دنیا میں مجھے سب سے زیادہ ناپسند اور روزِ قیامت مجھ سے سب سے زیادہ دور وہ شخص ہو گا جو تم میں سے بد اخلاق ہوگا۔ بہت باتیں کرنے والے، زبان دراز اور گلا پھاڑ کر باتیں کرنے والے اسی قبیل کے لوگ ہیں۔ دنیا کے ہر طبقہ اور اہل عقل لوگ اس سے نفرت کرتے ہیں۔ اسلاف اور علماء نے بد اخلاق اور برے کردار والے شخص کے ساتھ صحبت اپنانے سے خبردار کیا ہے۔سیاستدانوں کو ایک قوم کا آئینہ کہا جاتا ہے۔ وہی لوگ جو عوام کی نمائندگی کرتے ہیں انہیں ملک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے کام کرنا چاہیے۔ لیکن افسوس کہ اکثر اوقات ہم دیکھتے ہیں کہ سیاستدان اپنی ذاتی مفادات کے لیے ایک دوسرے کے خلاف کھڑے ہو جاتے ہیں اور عوام کے سامنے لڑائی جھگڑے کا تماشہ پیش کرتے ہیں۔سیاستدانوں کی اس طرح کی حرکتوں کا عوام پر بہت برا اثر پڑتا ہے۔ جب عوام اپنے لیڈروں کو ایک دوسرے سے لڑتے ہوئے دیکھتے ہیں تو ان کے اندر مایوسی اور بے اعتمادی پیدا ہو جاتی ہے۔ وہ سیاستدانوں پر اعتماد کرنا چھوڑ دیتے ہیں اور ملک کی مستقبل کے بارے میں پریشان ہو جاتے ہیں۔سیاستدانوں کی لڑائی سے ملک کی ترقی بھی متاثر ہوتی ہے۔ جب سیاستدان اپنی ذاتی لڑائیوں میں مصروف رہتے ہیں تو وہ ملک کے مسائل پر توجہ نہیں دے پاتے۔ اس سے ملک میں معاشی بحران، بے روزگاری اور دیگر سماجی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔اسی طرح سیاستدانوں کی لڑائی سے ملک میں فرقہ واریت اور نفرت پھیل سکتی ہے۔ جب سیاستدان مختلف گروہوں کو آپس میں لڑاتے ہیں تو اس سے ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب ہو سکتی ہے۔ہماری قوم ہر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ تقسیم در تقسیم ہوتی چلی جا رہی ہے۔ نوجوان سیاست دانوں اور سیاسی جماعتوں کے آلہ کار بن کر اپنا مستقبل داو پر لگا رہے ہیں۔ اگر یہ سب نا رکا تو یہ تقسیم ہمارے اور ملک کے لیے نا قابل حل مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ اس لیے ایسی کارروائیوں سے اجتناب کرتے ہوئے ملک و قوم کے مفاد کی خاطر سب کو مل جل کر آپس میں اتفاق و اتحاد سے بیٹھ کر مسائل کا حل نکالنا چاہیے۔






















