
اعتصام الحق
حالیہ دنوں چین میں جشن بہار کا تہوار قریب ہے۔یہ چینیوں کے لئے سال کا سب سے اہم تہوار ہوتا ہے۔بالکل ایسا ہی جیسے ہمارے ہاں عید۔اس تہوار کے لئے ایک ماہ پہلے ہی سے تیاریوں کا آغاز ہو جاتا ہے۔کھانے پینے کی اشیا ء ،گھر کو سجانے کی اشیاء ،دوستوں رشتہ داروں کو تحائف اور اسی طرح لباس اور دیگر لوازمات سمیت گھر کی تزئین و آرائش پر مبنی تما م ہی اشیاء کی فروخت میں بے پناہ اضافہ ہو جاتا ہے۔یہ تہوار چینیوں کے لئے زیادہ اہم اس لئے ہوتا ہے کیوںکہ اس تہوار کے موقع پر ہر فرد اپنے خاندان سے ملتا ہے۔یہ خوشی وہی زیادہ محسوس کر سکتے ہیں جو گھروں سے دور ہوں۔چین میں لوگوں کا اپنے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں اپنے آبائی گھروں کو چھوڑ کر بڑے شہروں یا بہتر مواقعوں کے مقام پر روزگار کے لئے منتقل ہونا اب ایک عام روایت بن چکا ہے۔یہ تما م افراد سارا سال گھر اور گھر والوں سے دور رہ کر اپنے روزگار کے فرائض انجام دیتے ہیں لیکن جیسے ہی جشن بہار کا تہوار آتا ہے تو ان سب کی خواہش ہوتی ہے کہ یہ اہم ایام اپنے گھر والوں کے ساتھ اپنے گھر پر منائیں۔ تقریباً سات روزہ تعطیلات میں سارا خاندان والدین کے گھر پر جمع ہوتا ہے اور وہاں یہ تعطیلات مل کر گزاری جارتی ہیں ۔اس تہوار کی خاص خاص باتیں بیاں کی جائیں تو نئے سال کے آغا ز میں جشن بہار ہر سال ایک مخصوص جانور کے نام سے ہوتا ہے جس میں خرگوش گائے ڈریگن وغیرہ سمیت کل 12 جانور ہیں۔سال 2024 ڈریگن سے موسوم تھا اور اب 2024 سانپ سے موسوم ہے۔اس ضمن میں آپ کو پورے ملک کے کونے کونے میں ہر چیز اس جانور کی طرح نظر آئے گی جس کا وہ سال ہوگا۔مثلا ً یہ سال سانپ کا سال کہلائے گا تو تو بازاروں ،شاپنگ مالز،سڑکوں ،دفاتر اور گھروں میں آپ کو بس سانپ ہی نظر آئے گا۔بچوں کے لئے کارٹونز، کینڈیز ، کھلونے اور اسٹیشنریز۔
چینی جشن بہار کا ایک خاص مزہ اس کا رنگ بھی ہے۔پاکستان میں عید کے تہوار پر ہمیں لباس اور سجاوٹ کے حوالے سے مختلف رنگ دیکھنے کو ملتے ہیں لیکن چینی جشن میں سرخ رنگ انتہائی نمایاں ہوتا ہے۔سجاوٹ اور لباس میں خاص طور پر اس بات کا خیال رکھا جاتا ہے کہ سرخ رنگ زیادہ ہو۔یہاں تک کہ تحائف کا رنگ بھی لال ہوتا ہے۔
ایک اور خاص بات اس جشن میں نیک خواہشات اور دعاؤں کا اظہار ہے۔اس حوالے سے پوسٹرز اور بینرز پر خصوصی اشعار اور دعائیں لکھی جاتی ہیں۔ان اشعار اور دعاؤں کو گھر کی دیواروں اور دروازوں پر آویزاں کیا جاتا ہے اور ان کا رنگ بھی سرخ ہوتا ہے۔
ایک ارب چالیس کروڑ سے زیادہ آبادی رکھنے والا ملک عوامی جمہوریہ چین جب اس تہوار کو مناتا ہے تو اس کے معاشرتی پہلؤں کے علاوہ معاشی پہلو بھی اجاگر ہوتے ہیں۔ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے میں جانے والے جن سفری سہولیات کا استعمال کرتے ہیں اور جس انداز میں تحائف کا تبادلہ کرتے ہیں اس سے معاشی استحکا م میں مدد ملتی ہے۔
کھانوں کی بات کی جائے تو اس تہوار کی مرکزی ضیافت تہوار شروع ہونے سے ایک رات پہلے کی ہوتی ہے ۔جی ہاں ۔یہاں بھی چاند رات منائی جاتی ہے ۔بالکل ویسے ہی جیسے پاکستان میں چاند رات کی گہما گہمی اور تقریبات ہوتی ہیں۔کھانوں میں خصوصیت کی بات کی جائے تو سٹیم رائس اور سٹیم گوشت خاصا پسند کیا جاتا ہے۔اس کے علاوہ مچھلی ،رائس بالز ،فاگاؤ،سپرنگ رولز،ڈمپلنگ اور موسم کے پھل، کھانوں کا حصہ ہوتے ہیں۔تہوار کا ایک خاص کھانا نیان مو بھی ہوتا ہے۔یہ ایک خاص قسم کا بن ہوتا ہے جسے خاص طرح کے آٹے سے ایک خاص انداز میں گوندھا جاتا ہے اور پھر اس میں پالک اور دیگر سبزیوں کو ابال کر ان کا رنگ چڑھایا جاتا ہے اور بن کو اس شکل میں پیش کیا جاتا جو اس سال کا خاص جانور ہو۔ایک اور خاص ڈش جاؤزے ہوتی ہے جس میں خاص انداز میں آٹے سے بنی شکل میں خاص فلنگ بھی کی جاتی ہے لیکن اس کی خاص بات یہ ہے کہ عام طور پر گھر پر بنانے والے اس پکوان میں ایک سکہ چھپایا جاتا ہے اور پھر جس کسی کے حصے میں وہ سکے والا جاؤ زے آجائے اس کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ یہ سال اس کے لئے نہایت خوش قسمتی کا سال ہے۔
خوشیوں سے بھرے اس تہوار میں کچھ لمحے غم کے بھی آتے ہیں ۔گزرے سال میں بچھڑ جانے والوں کو یاد کیا جاتا ہے اور انہیں اپنے ساتھ شامل سمجھا جاتا ہے۔عام طور پر دنیا سے رخصت ہونے والے گھر کے بڑوں کے نام یا ان کی تصاویر اس مرکزی میز پر موجود ہوتی ہے جہاں سب مل کر چاند رات کا کھانا کھاتے ہیں۔تصویر کے سامنے ایک پلیٹ،چاپ سٹک اور دیگر لوازمات بالکل ایسے رکھے جاتے ہیں جیسے وہ فرد اس وقت موجود ہو۔اس کے علاوہ کچھ خاندانوں میں یہ بھی روایت ہے کہ وہ اپنے تعمیر کردہ عبادت خانوں میں اپنے اجداد کو یاد کرنے اور ان کے لئے دعائیں کرنے پھولوں کے گلدستے لئے سب کے ساتھ جاتے ہیں ۔لیکن یہ یاد رہے کہ اپنوں کی یاد کا ایک الگ تہوار بھی ہر سال چین میں منایا جاتا ہے جسے چھن منگ کہتے ہیں۔
اس تہوار میں خوشیوں اور ملاقاتوں کے ساتھ جو چیز چین کے معاشرتی نظام میں سب سے اہم ظاہر ہوتی ہے وہ ایک خاندان کا تصور ہے۔یعنی خوشیوں کے موقع پر تمام خاندان کا ایک ساتھ وقت گزارنا ،خاندان کی اہمیت کو مزید اجاگر کرتا ہے تا کہ آئندہ آنے والی نسلیں اس کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔یہ خاندان ہی تو ہوتا ہے جو انسان کو انسان سے جوڑے رکھتا ہے۔تعلقات میں خوشی کے رنگوں میں اضافہ اور غم کی لہروں کا مقابلہ اسی خاندان کی بدولت کیا جاتا ہے۔کھانا پینا اور خوشی کے رنگوں میں رنگ جانا تو ایک ظاہری شکل ہے۔اصل روحانی طاقت تو ان سات دنوں میں اس ساتھ سے ملتی ہے جب خاندان کا ہر فرد ہاتھ سے ہاتھ اور دل سے دل ملاتا ہے۔یہی ہے انسان کے دل کی بہار ۔یہی ہے اصل جشن بہار۔
Load/Hide Comments























