کنزیومر ایسوسی ایشن کی جانب سے حلیب فوڈز کمپنی کی صارفین کو دھوکہ دینے کی شدید مذمت

جعلسازی کے ذریعے بیرون ملک سے عوامی مقبولیت کی سند حاصل کرنا اور اسے مارکیٹنگ کیلئے استعمال کرنا دھوکہ دہی کے مترادف ہے
کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان اس غیر قانونی عمل کے خلاف عوامی رائے عامہ ہموار کرنے کیلئے ملک گیر مہم شروع کرے گی۔کوکب اقبال
کراچی (پریس ریلیز) کنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین کوکب اقبال نے حلیب فوڈز کمپنی کی جانب سے جعلسازی کے ذریعے اپنی مصنوعات ”حلیب مِلک“ کی تشہیر کرتے ہوئے فروخت میں اضافے کی پالیسی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ”صارفین کے ساتھ کھلی دھوکہ دہی“ قرار دیا ہے۔میڈیا سے گفتگو کے دوران کوکب اقبال نے بتایا کہ حلیب فوڈز کمپنی اپنی تمام تر مصنوعات مقامی سطح پرتیارکرتی اور اسکی کنزیومر مارکیٹ بھی صرف پاکستان میں ہی موجود ہے اس نے اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے جعلسازی کا راستہ اختیار کرتے ہوئے بیرون ملک (برطانیہ سے) عوامی مقبولیت کی سند بطور ایک ایوارڈ کی صورت میں حاصل کیا ہے اور اسے وسیع پیمانے پر اپنی برانڈنگ اور مارکیٹنگ کے آلے کے طور پر استعمال کررہی ہے جو کہ سراسر غلط بیانی اورسادہ لوح صارفین کے ساتھ کھلی دھوکہ دہی کے مترادف ہے۔

برطانیہ سے عوام کی پسندیدگی کا ”برانڈ آف دی ایئر ایوارڈ“کسی ذرائع سے حاصل کرکے اسے پاکستان میں اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے استعمال کرنا نہ صرف حقوق دانش قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ پاکستانی صارفین کے بنیادی حقوق کی پامالی بھی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ”برانڈ آف دی ایئر“ پاکستان میں برانڈفاؤنڈیشن کا رجسٹرڈ ٹریڈ مارک ہے جس کے حقوق دانش کی قانونی ملکیت“ برانڈ فاؤنڈیشن کے پاس محفوظ ہیں۔ کسی دوسرے ملک سے اسی نام کا ایوارڈ حاصل کرنے کے بعد اسے پاکستان میں تشہیری مہم کے لیے استعمال کرنا کسی بھی طرح درست نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ برانڈنگ کے لیے استعمال کیے جانے والے اس قسم کے ہتھکنڈے صارفین کے ساتھ جعلسازی کے زمرے میں آتے ہیں جن کے سد باب کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے۔ان کا کہنا تھا کہ اقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے حقوق دانش کے عالمی قوانین کے تحت بھی یہ ایک غیر قانونی عمل اور حقوق دانش کی چوری کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حلیب فوڈز کے مالکان یا توحقوق دانش قوانین سے بالکل نا واقف ہیں یا پھر وہ غیر قانونی طریقے سے اپنے کاروبار کا فروغ چاہتے ہیں۔ اگر کسی ملک میں کوئی ٹریڈ مارک، ورڈ مارک یا کاپی رائٹ کسی ادارے کی ملکیت ہو تو اس کا استعمال مذکورہ ادارے کی اجازت کے بغیرکسی بھی شکل میں نہیں کیے جا سکتے ہیں۔کوکب اقبال کا کہنا تھا کہ حلیب مِلک مکمل طور پر ایک مقامی برانڈ ہے۔ اس صورت میں معیار کی تصدیق اورمقبولیت کے حوالے سے بیرون ملک حاصل کیئے گئے کسی ایوارڈکا اطلاق پاکستان میں نہیں ہوسکتا۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس بد ترین قانون شکنی کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔ان کا کہنا تھا کہ حلیب فوڈز کی اس جعلسازی پہ صارفین میں بھی بے چینی پائی جاتی ہے۔ دریں اثنا انھوں نے کہا کہ اگر کمپنی نے اپنی غیر قانونی روش تبدیل نہیں کی توکنزیومر ایسوسی ایشن آف پاکستان اس غیر قانونی عمل کے خلاف ملک بھر میں عوامی رائے عامہ کو ہموار کرنے کے لیے جلد ہی ملک گیر مہم شروع کرنے پرمجبور ہوجائے گی۔