
رپورٹ ۔۔۔۔ شہزاد بھٹہ
پہلی ہند گورنمنٹ کے صدر اور تحریک آزادی کے ہراول دستے کے مجاھد راہنما ڈاکٹر محمد اقبال شیدائی کی پچاسویں برسی پورے عزت و احترام اور عقیدت سے منائی گئی
ڈاکٹر ریاض بھٹہ ہیلتھ کیئر سوسائٹی کے زیر اہتمام ڈاکٹر محمد اقبال شیدائی کی برسی کے موقع پر الحمرا کمپلکس قذافی اسٹیڈیم لاہور میں ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف مکاتب فکر کی شخصیات نے شرکت کی
ڈاکٹر اقبال شیدائی کی شخصیت اور انگریز سامراج کے خلاف کی جانے والی تاریخی جدوجہد کے حوالے سے ھونے والی تقریب کے مقرر خاص پروفیسر سرجن عامر ریاض بھٹہ تھے
پروفیسر سرجن عامر ریاض بھٹہ نے تحریک آزادی کے ہیرو فرزند سیالکوٹ ڈاکٹر محمد اقبال شیدائی کی قوم و ملک کی آزادی کے لیے تاریخی جدوجہد پر خصوصی مقالہ پیش کیا

الحمرا ہال قذافی اسٹیڈیم آمد پر تقریب کے میزبان مشہور ڈرامے ڈائریکٹر و رائٹر ڈاکٹر عابد آزاد ، ظہیر ہمایوں پروفیسر ،شہزاد بھٹہ قیصر جاوید، جاوید اقبال بھٹی، ڈاکٹر ماہ نور بھٹہ و دیگر نے پروفیسر سرجن عامر بھٹہ کو خوش آمدید کہا اور پھولوں کے گلدستے پیش کیا
انس حبیب نے تلاوت قرآن پاک سے تقریب کا آغاز کیا جبکہ نعت رسول مقبول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پڑھائی گئی اور قومی ترانے پیش کیا گیا

تقریب برسی ڈاکٹر اقبال شیدائی کے میزبان پروفیسر شہزاد بھٹہ نے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ھوئے کہا کہ ڈاکٹر اقبال شیدائی کا تعلق سیالکوٹ دھرتی سے ھے جس نے ڈاکٹر علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ جیسی عظیم شخصیت کو جنم دیا
ڈاکٹر اقبال شیدائی کا تعلق شہر سیالکوٹ کی اھم ترین تعلیم یافتہ برداری بھٹہ سے ھے اقبال شیدائی نے برصغیر پاک و ہند کو انگریز سامراج سے آزاد کروانے کے لیے تاریخی جدوجہد کی اور پچیس سال وطن سے دور جلاوطنی میں گزارے ڈاکٹر شیدائی کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے آج کی تقریب کا انعقاد کیا گیا ھے

مشہور ڈرامے رائٹر اور پروڈیوسر ڈاکٹر عابد آزاد نے سپاس نامہ پیش کرتے ھوئے کہا کہ پروفیسر عامر بھٹہ کا تعلق بھی سیالکوٹ سے ھے اور آپ ڈاکٹر اقبال شیدائی کے نواسے ہیں ڈاکٹر عامر بھٹہ نے اپنی طبی خدمات کے ساتھ ساتھ تاریخ نویسی پر بہت زیادہ کام کیا ھے خاص طور پر تحریک آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والے ڈاکٹر شیدائی سمیت گمنام ہیروز کی دھرتی ماں کے لیے خدمات کو اجاگر کیا ھے

ڈاکٹر عابد آزاد نے بتایا کہ ڈاکٹر عامر بھٹہ طب کے شعبے میں ان کے استاد محترم ھیں ڈاکٹر بھٹہ نے لاھور میں مختلف ہسپتالوں میں سرجری کے میدان میں گراں قدر تاریخی خدمات انجام دی ھیں خاص طور پر 2005 کے زلزلے کے بعد آزاد کشمیر میں دن رات کام کیا اور متاثرین زلزلہ کو ھر قسم کی طبی امداد فراہم کی اس کے ساتھ ساتھ لاھور میں ھونے والے مختلف دہشت گردی کی وارداتوں بم دھماکوں میں زخمی ھونے والوں کو طبی امداد فراہم کیں


ڈاکٹر عامر بھٹہ نے ڈاکٹر اقبال شیدائی کے بارے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر محمد اقبال شیدائی کا نام گرامی کسی تعارف کا محتاج نہیں لیکن اج کی نوجوان نسل کو شاید تحریک ازادی کے نامور پنجابی مجاھد اور عظیم انقلابی کے بارے علم نہیں جس نے اپنی ساری زندگی وطن پاک کی ازادی کے لیے انگریز سامراج کے خلاف لڑتے ھوئے گزار دی ۔ڈاکٹر محمد اقبال شیدائی صیح معنوں میں ایک انقلابی تھےان کی عمر کا پیشتر حصہ جلاوطنی میں گزرا ۔کھبی افغانستان میں تو کبھی ترکی کبھی اٹلی تو کبھی فرانس یا پھر روس میں مگر ھر جگہ مغربی سامراجیت کو للکارا اور انقلابی قوتوں کے ساتھ چلے ڈاکٹر اقبال شیدائی پہلے ہندوستانی تھے جن کو اپنے ھم وطنوں میں سے سب سے زیادہ مختلف ممالک سے نکالا گیا اس عظیم پنجابی مسلمان مجاھد نے 27 سال یورپ کے ظلمت کدے میں ازادی ملت کی شمع کو روشن رکھا۔۔



ڈاکٹر عامر بھٹہ نے مزید بتایا کہ اقبال شیدائی ان دنوں جلا وطن تھے جب ہندوستان کے مسلمانوں نے قیام پاکستان کا مطالبہ کیا تو ڈاکٹر صاحب تحریک پاکستان میں بڑھ چڑھ کر حصہ نہ لے سکے لیکن یہ امر فرمواش نہیں کیا جا سکتا کہ ایک طویل مدت کی جلاوطنی کے بعد وہ اسلامی ممالک میں سے ھوتے ھوئے پاکستان پہنچے اور راستے میں انہوں نے مسلم برادری کو پاکستان سے روشناس کراتے رھے انہوں مشرق وسطی کے مختلف الخیال سیاستدانوں کو پاکستان کے قیام پر متفق کیا اور کانگریس نے دس برس میں اپنے پروپیگنڈے سے جو طلسم باندھا تھا وہ ڈاکٹر صاحب کی دو مہینے کی مساعی سے ٹوٹ گیا
ڈاکٹر صاحب کو رئیس الامراء مولانا محمد علی جوھر ۔مولانا شوکت علی جوھر۔حکیم اجمل خان ۔مولانا عبید اللہ سندھی ۔مولانا ابوالکلام ازاد کے ساتھ مل کر کام کرنے کا شرف حاصل رھا تھا ۔تحریک ازادی کے دیگر عظیم راہنماوں کے ساتھ بھی ڈاکٹر صاحب کا رابط رہتا تھا جن میں علامہ اقبال ۔قاید اعظم ۔ڈاکٹر انصاری ۔سید عبد الرحمان صدیقی ۔چویدری خلیق الزمان ۔چویدری محمد ظفر اللہ خان ۔گاندھی جی ۔جواھر لال نہرو ۔مولانا ظفر علی خان ۔سو بھاش چندر بوس اور دیگر بے شمار راہنما شامل ھیں ۔
تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر عابد آزاد کا لکھا ھوا ڈرامہ # میرا خواب پاکستان # کے کچھ حصے پیش کیا گیا جس میں ڈاکٹر عابد سمیت دیگر اداکاروں نے خوبصورت پرفارمینس پیش کی جن کو شرکاء نے خوب سراھا گیا























