Report Sabih Salik
ایک اطالوی شخص جو بحیرہ روم کے ایک ویران جزیرے پر 32 سال سے تنہا زندگی گزار رہا تھا، آبادی میں آکر انتقال کرگیا۔
تنہا زندگی گزارنے کیوجہ سے مورانڈو نامی معمر شہری کو “رابنسن کروسو” کے نام سے جانا جاتا تھا۔
رابنسن صرف تین سال قبل ہی آبادی میں لوٹے تھے۔ اس طویل عرصے تک بڈیلی جزیرے پر اکیلے رہنے کے دوران رابنسن نے خود-کفالت کے فن میں مہارت حاصل کرلی تھی۔
اطالوی جزیرے سارڈینیا سے دور دوسری جنگ عظیم کی ایک پرانی پناہ گاہ بڈیلی جزیرے پر رابنسن اس کے بنیادی نگراں کے طور پر ٹھہرے ہوئے تھے۔ 1989 میں پولینیشیا جانے کی کوشش میں ان کی کشتی اس جزیرے پر حادثے کا شکار ہوگئی تھی۔
جزیرے پر اپنے 32 سالوں کے دوران انہوں نے ساحلوں کو صاف رکھا اور جزیرے کے ماحولیاتی نظام سے لطف اندوز ہونے کیلئے آنے والے لوگوں کو بریفنگ دیا کرتے تھے۔
جب لا میڈالینا نیشنل پارک کے حکام نے جزیرے کو ماحولیاتی تعلیم کے مرکز میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایا، تو کافی تکرار کے بعد وہ مقامی ایک بیڈروم کے اپارٹمنٹ میں شفٹ ہونے پر مجبور ہوگئے۔
لیکن صحت خراب ہونے کے بعد انہوں نے گزشتہ موسم گرما میں ساساری شہر کے ایک کیئر ہوم میں کچھ وقت گزارا۔ اس کے بعد انہیں ان کے آبائی شہر موڈینا میں منتقل کیا گیا جہاں ان کی بالآخر موت ہوئی۔
























