
ابن آدم پسروری
رات کا دامن سُکڑ رہا ہے۔ مساجد سے اللہ سب سے بڑا ہے کی صداٸیں بلند ہو رہی ہیں، ستارے آخری سانس لے رہے ہیں۔ جگنو کی چمک مدہم پڑتی جارہی ہے۔ اجالا اندھیرے کے تعاقب میں ہے۔
صبح کا سورج نکلا تھا جب کرنوں کی اک فوج لیے
شبنم گل سے پوچھ رہی تھی مہلت کتنی ہے
چڑیوں کے چہچہے نٸے دن کی نوید لا رہے ہیں۔ فاختہ کی کوگو کو کے درمیان میں دور کہیں کوٸل کی مترنم صدا گونج رہی ہے۔ ہوا میں خنکی اور پھولوں کی خوشبو رچی ہوٸی ہے۔ بادِ صبا کے معطر جھونکے مشامِ جاں کو تازگی اور فرحت بخش رہے ہیں اور میری نگاہِ دُوربیں نٸے زمانوں کے دروازے پر دستک دے رہی ہے اور دلکش مناظر بصارت کی کھڑکی سے ذہن کی سکرین پر جلوہ ریز ہو رہے ہیں۔ دنیا کی ترتیب بدل رہی ہے۔ روس، چین، جاپان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، ترکی، ملاٸشیا، قطر، کوریا، ہندوستان، پاکستان، ایران ، سری لنکا اور انڈونیشیا لوکل کرنسی میں کاروبار کریں گے۔ ڈالر، یورو اور پاٶنڈ کی ویلیو کم ہو جاٸے گی۔ ایشیا پوری دنیا کی قیادت کرے گا۔ دیرینہ مساٸل حل ہوں گے۔ چاٸنہ پاک اکنامک کاریڈور (سی پیک) جنوبی اور وسطی ایشیا کے اتحاد، ترقی اور خوشحالی کا باعث بنے گا اور جلد واہگہ سے تفتان اور کرتار پور سے کابل تک سڑک اور ریل کی سہولتیں دے دی جاٸیں گی۔ پاکستان ایشیا کا ٹاٸیگر بن جاٸے گا۔ انشا اللہ وہ وقت دور نہیں جب اچھاٸی براٸی پر غالب آٸے گی اور ایشیا کے متحارب اور مخالف ملکوں کے درمیان دیرینہ مساٸل اور تنازعات طے ہوں گے۔ جی ہاں صدیوں بعد کاٸنات میں ایک بار پھر حرفِ کُن کی جاں نواز ندا گونج رہی ہے اور انسان کی کوتاہیوں اور بداعمالیوں سے کاٸنات کے رنگ و روپ میں جو تِیرگی اور کجی در آٸی تھی اس کی نہ صرف مکمل صفاٸی ستھراٸی کی جارہی ہے بلکہ تزٸین و آراٸش کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ کرونا کی وبا پھیلی تو بادشاہوں کے بادشاہ اور ہمیشہ قاٸم وداٸم شہنشاہ نے دنیاوی خداٶں کے اختیارات سلب اور سینہ زوروں، متکبروں، رسہ گیروں، نوسربازوں اور عیاروں کے خاتمے کی دستاویز پر دستخط ثبت کردٸیے تھے۔ آج بھی میرے پردہ سماعت پر
جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُؕ-اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا
کی روح پرور صدا دستک دے رہی ہے، خزاں کی رخصتی کا فرمان جاری ہو چکا، بہار کی آمد آمد ہے۔ فیض احمد فیض فلک کے جھروکے سے جھانک کر ارض و سما کو آواز دے رہے ہیں
ہم دیکھیں گے
لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے
وہ دن کہ جس کا وعدہ ہے
جو لوحِ ازل میں لکھا ہے
جب ظلم و ستم کے کوہ گراں
روئی کی طرح اڑ جائیں گے
ہم محکوموں کے پاؤں تلے
جب دھرتی دھڑ دھڑ دھڑکے گی
اور اہل حکم کے سر اوپر
جب بجلی کڑ کڑ کڑکے گی
جب ارض خدا کے کعبے سے
سب بت اٹھوائے جائیں گے
ہم اہل صفا مردود حرم
مسند پہ بٹھائے جائیں گے
سب تاج اچھالے جائیں گے
سب تخت گرائے جائیں گے
بس نام رہے گا اللہ کا
جو غائب بھی ہے حاضر بھی
جو منظر بھی ہے ناظر بھی
اٹھے گا انا الحق کا نعرہ
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اور راج کرے گی خلق خدا
جو میں بھی ہوں اور تم بھی ہو
اسی روح پرور ماحول میں ظاہر کی آنکھیں بند کیں تو چشمِ خیال میں حکیم الامت اور زمانوں کے نبض شناس حضرت علامہ اقبال کی شبیہ ابھری، یوں لگا کہ وہ تحت اللفظ میں اپنی مشہور زمانہ نظم ساقی نامہ پڑھ رہے ہیں۔
زمانے کے انداز بدلے گٸے
نیا راگ ہے ساز بدلے گٸے
گیا دورِِ سرمایہ داری گیا
تماشہ دکھا کر مداری گیا
گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے۔
اہلِِ وطن کو نوید ہو کہ کچھ بہتر ہونے والا ہے۔























