
کراچی، 14 جنوری 2024 – انٹر بورڈز کوآرڈینیشن کمیشن (IBCC) نے کراچی میں ماڈل اسیسمنٹ فریم ورک (MAF) 2024 پر ایک آگاہی سیمینار منعقد کیا، جس کا مقصد پاکستان میں امتحانات کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کرنا تھا۔ اس سیمینار میں تعلیمی ماہرین، پالیسی سازوں اور ماہرینِ تعلیم نے شرکت کی تاکہ عالمی معیار سے ہم آہنگ، شفاف اور مساوی امتحانی نظام کی ضرورت پر زور دیا جا سکے۔
آئی بی سی سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح نے افتتاحی خطاب میں MAF کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فریم ورک تنقیدی سوچ، تصوری فہم، اور تاحیات سیکھنے کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گا۔ سابق ڈی جی اکیڈمکس ایچ ای سی، پروفیسر ڈاکٹر محمد نعیم خالد نے اپنے کلیدی خطاب میں “ٹی پیک پلس ماڈل کے ذریعے تعلیم میں انقلاب اور این سی پی 2023 کے مطابق ہائبرڈ لرننگ کا مستقبل” کے موضوع پر بات کی، جس میں ٹیکنالوجی اور تدریس کے امتزاج کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
سیمینار کے مہمانِ خصوصی وزیرِ تعلیم و خواندگی سندھ، سید سردار علی شاہ نے ڈاکٹر ملاح کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، “ہم ہر مثبت اور ترقی پسند اقدام کو خوش آمدید کہتے ہیں جو ہمارے تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے ہو۔ تاہم، ہمیں آئین میں دیے گئے صوبائی حکومتوں کے حقوق اور اختیارات کا احترام بھی کرنا ہوگا۔”
انہوں نے تمام شراکت داروں اور بورڈز کے چیئرمینز کو مبارکباد دی اور آئندہ امتحانات کو ایک اہم چیلنج قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا، “آئندہ امتحانات ہمارے لیے ایک بڑا امتحان ہوں گے اور یہ طے کریں گے کہ ہم اس فریم ورک کو مؤثر طریقے سے نافذ کرنے کے قابل ہیں یا نہیں۔”
ڈاؤ یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (DUET) کی وائس چانسلر، انجینئر پروفیسر ڈاکٹر سمرین حسین نے سیمینار میں بطور مہمانِ اعزاز شرکت کی اور پاکستان کے تعلیمی نظام میں اصلاحات کے لیے مشترکہ کاوشوں کی اہمیت پر زور دیا۔
سیمینار کی خاص بات ایک پینل مباحثہ تھا، جس کی میزبانی اے کے یو-ای بی کی لیڈ اسپیشلسٹ محترمہ منیرہ محمد نے کی۔ پینل میں ممتاز ماہرین تعلیم شامل تھے جن میں ڈاکٹر نوید یوسف، سی ای آئی، اے کے یو-ای بی؛ محمد شفیق اعوان، چیئرمین بی آئی ایس ای ایبٹ آباد؛ پروفیسر ڈاکٹر شازیہ نعیم، سی ای او، کینٹاب پبلشر، لاہور؛ ڈاکٹر فاطمہ ریحان در، سی ای او، اوک کنسلٹنگ؛ اور محترمہ ہما ارشد، تعلیمی قیادت/اے آئی ٹرینر شامل ہیں۔ مباحثے میں موجودہ امتحانی نظام کے مسائل اور MAF کے ذریعے مساوات، شمولیت، اور تصوری سیکھنے کے فروغ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
سیمینار میں MAF کی اہم خصوصیات پر بھی روشنی ڈالی گئی، جن میں قومی نصاب کے ساتھ ہم آہنگی، اعلیٰ درجے کی علمی مہارتوں پر توجہ، ڈیجیٹل ٹولز کا انضمام، نفسیاتی تجزیہ، اور جامع صلاحیت سازی کے پروگرام شامل ہیں۔ آئی بی سی سی نے MAF کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ملک گیر تربیتی سیشنز کے انعقاد کا اعلان کیا تاکہ علاقائی عدم مساوات کو ختم کیا جا سکے اور امتحانات کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔
ڈاکٹر غلام علی ملاح نے سیمینار کے اختتام پر تمام شراکت دار اداروں کا شکریہ ادا کیا اور آئی بی سی سی ٹیم کے اراکین، جن میں ایجاز احسن، ڈائریکٹر ریجنل آفس کراچی؛ ڈاکٹر شہزاد علی گل، ڈائریکٹر کیپیسٹی بلڈنگ؛ عمران خان، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی بی سی سی؛ سعدیہ ناز، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی بی سی سی؛ اور بدر الدین، اسسٹنٹ ڈائریکٹر شامل ہیں، کی کاوشوں کو سراہا۔
تعلیمی رہنماؤں اور شراکت داروں کے تعاون سے MAF اقدام پاکستان میں ایک متحد اور شفاف امتحانی نظام کے قیام کی راہ ہموار کرے گا، جس سے تعلیم میں مساوات اور معیار کو فروغ ملے گا۔
جاری کردہ:
بدر شیخ
اسسٹنٹ ڈائریکٹر، آئی بی سی سی کراچی
=================
جامعہ کراچی: ایوننگ پروگرام کی داخلہ فیس جمع کرانے کی تاریخ میں 17 جنوری تک توسیع
انچارج ڈائریکٹوریٹ آف ایڈمیشنز جامعہ کراچی پروفیسرڈاکٹر صائمہ اختر کے مطابق ایوننگ پروگرام کی داخلہ فیس جمع کرانے کی تاریخ میں 17 جنوری تک توسیع کردی گئی ہے۔ایسے طلباوطالبات جن کے نام جاری کردہ داخلہ فہرستوں میں آچکے ہیں وہ اپنی داخلہ فیس صبح 10:00 تاشام 4:00 بجے ایڈمنسٹریشن بلڈنگ میں واقع ڈائریکٹو ریٹ آف ایڈمیشنزمیں قائم کاؤنٹرپر جمع کراسکتے ہیں۔
جامعہ کراچی: شعبہ اسپیشل ایجوکیشن کے زیر اہتمام دوروزہ سیمینار کی افتتاحی تقریب 15 جنوری کو ہوگی
جامعہ کراچی کے شعبہ اسپیشل ایجوکیشن کے زیر اہتمام دوروزہ سیمینار بعنوان:”ایک جامع اور پائیدار مستقبل کے لیے معذور افراد کی صلاحیتوں کو بڑھانا“کی افتتاحی تقریب 15 جنوری2025 ء کو صبح 10:00 بجے چائنیزٹیچرزمیموریل آڈیٹوریم جامعہ کراچی میں منعقد ہوگی جس کی صدارت شیخ الجامعہ پروفیسرڈاکٹر خالد محمودعراقی کریں گے جبکہ اختتامی تقریب 16 جنوری2025 ء کو دوپہر2:00 منعقد ہوگی جس کے مہمان خصوصی گورنر سندھ محمد کامران خان ٹیسوری ہوں گے۔
بین الاقوامی سطح پر جامعہ کراچی کے حلال ٹیسٹنگ سروس کے معیار کا اعتراف
جی سی سی ایکریڈیشن سینٹر کی جانب سے’ایکریڈیشن سرٹیفیکٹ‘، بین الاقوامی مرکز جامعہ کراچی میں اجلاس
ایچ سی ٹی آر ایس کو حلال سروس فراہم کرنے والا واحدسرکاری تحقیقی ادارہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے
کراچی۔ گلف کواپریشن کونسل ایکریڈیشن سینٹر(جی سی سی) نے بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کے تحت چلنے والی حلال سرٹیفکیشن ٹیسٹنگ اینڈ ریسرچ سروس (ایچ سی ٹی آر ایس)کو ”ایکریڈیشن سرٹیفیکٹ“ جاری کیاہے جو ادارے کے لیے ایک اہم سنگِ میل ہے، ایچ سی ٹی آر ایس، جامعہ کراچی کو پبلک سیکٹر تحقیقی اداروں میں واحد حلال سروس فراہم کرنے والا ادارہ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔
یہ بات بین الاقوامی مرکز برائے کیمیائی و حیاتیاتی علوم (آئی سی سی بی ایس) جامعہ کراچی کی سربراہ پروفیسر ڈاکٹر فرزانہ شاہین کی صدارت میں ایچ ای جے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ میں جمعہ کو منقعدہ ایک اجلاس کے دوران کہی گئی۔ پروفیسر فرزانہ شاہین نے ایچ سی ٹی آر ایس پروجیکٹ ٹیم بشمول ایچ سی ٹی آر ایس کے انچارج پروفیسر ڈاکٹرسید غلام مشرف، جنرل مینجر مفتی ڈاکٹر سیدعارف علی شاہ، ڈاکٹر اشتیاق احمد اور ڈاکٹر شکیل احمد سمیت ٹیم کے دیگر ممبران کواس کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایچ سی ٹی آر ایس، جامعہ کراچی کو پبلک سیکٹر تحقیقی اداروں میں واحد حلال سروس فراہم کرنے والا ادارہ ہے جوحلال مسائل کے عنوان سے ریگولیٹری حکام، صنعتوں، اکیڈمیا اور صارفین کو پائیدار حل فراہم کرتا ہے۔ انھوں نے کہا گلف کواپریشن کونسل ایکریڈیشن سینٹرکی جانب سے ایکریڈیشن کی سند کا اجراء یقینا ہمارے حلال سرٹیفکیشن ٹیسٹنگ اینڈ ریسرچ سروس کے بین الاقوامی معیار کی نشاندہی کرتا ہے اور اسی معیار کے پیش نظر اس ادارے کو چند ماہ قبل پاکستان حلال اٹھارٹی، اسلام آباد، وفاقی وزارت برائے سائینس اور ٹیکنالوجی نے بھی رجسٹریشن سرٹیفیکٹ دیا تھا۔ پروفیسرسید غلام مشرف نے گلف کواپریشن کونسل ایکریڈیشن سینٹرکے بارے میں اجلاس کو بتایا کہ یہ عالمی سطح پر ایک مشہور ادارہ ہے جو بین الاقوامی تعاون کو مضبوط بنانے، تسلیم شدہ کنفرمٹی اسسمنٹ باڈیز کی شناخت کو بڑھانے، اور دنیا بھر میں ایکریڈیشن کے طریقوں کو ہم آہنگ کرنے کے لیے پُر عزم ہے۔ واضح رہے کہ ایچ سی ٹی آر ایس متعدد شعبوں میں حلال سے متعلق اسناد پیش کر رہا ہے ان شعبوں میں جانوروں کی اصل خوراک یعنی ذبح کرنے، گوشت اور گوشت کی مصنوعات، پودوں کی اصل خوراک، مشروبات، تمام پراسس شدہ کھانے، کھانے کی سروس او ر سہولیات، برآمد، درآمد، تقسیم، ریٹیل، متعلقہ پیکچنگ اور اسٹوریج کے ساتھ نقل و حمل اور معاون خدمات وغیرہ شامل ہیں۔
شیخ الجامعہ کراچی پروفیسر ڈاکٹر خالد محمود عراقی، سابق وفاقی وزیر برائے سائینس اور ٹیکنالوجی اور پروفیسرامریطس ڈاکٹر عطا الرحمن نے ایچ سی ٹی آر ایس کی ٹیم کو اُن کی اس کامیابی پر مبارکباد دی ہے۔























