
وزیراعظم کے منصوبے نےعوام اورتاجروں کا اعتماد بحال کیا ہے۔
معیشت کولاحق بیماریوں کا فوری علاج ضروری ہے۔ میاں زاہد حسین
(06-جنوری-2024)
نیشنل بزنس گروپ پاکستان کے چیئرمین، پاکستان بزنس مین اینڈ انٹلیکچولزفورم وآل کراچی انڈسٹریل الائنس کے صدر، ایف پی سی سی ائی پالیسی ایڈوائزری بورڈ کے چیئرمین اورسابق صوبائی وزیرمیاں زاہد حسین نے کہا ہے کہ ملک بھرکی کاروباری برادری وزیراعظم شہباز شریف کے ملکی ترقی کے منصوبے کی غیرمشروط حمایت کرتی ہے۔ وزیراعظم اور ان کی ٹیم نےملک کومعاشی گرداب اور ڈیفالٹ کے خطرے سے نکالنے کے بعد اب ایک نئے عزم کے ساتھ پانچ سالہ قومی اقتصادی منصوبہ کا افتتاح کیا ہے جسے ’’اُڑان پاکستان‘‘ کا نام دیا گیا ہے جس نے عوام اورکاروباری برادری کوپرامید کردیا ہے۔ میاں زاہد حسین نے کاروباری برادری سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ وزیراعظم کی جانب سے نئے سال کا تحفہ ہے جوروشن مستقبل کی ضمانت ثابت ہوگا۔ منصوبے میں برآمدات، ماحولیات، توانائی اوربرابری وبااختیاری کے نکات شامل ہیں جس میں برآمدات سب سے اہم ہیں۔ حکومت برآمدات کے فروغ کے ذریعے پائیداراقتصادی ترقی چاہتی ہے جبکہ معیشت کےحجم کوایک ٹریلین ڈالرتک بڑھایا جائے گا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ اس منصوبے کی کامیابی کے لیے قومی یکجہتی اور ہم آہنگی نا گزیرہے اوراس کی تکمیل کے لئے سب کا اتفاق ضروری ہے۔ ملک کو ایک معاشی طاقت بنانے کے لئے وفاقی، صوبوں اورتمام شراکت داروں کا تعاون درکار ہے جبکہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھنا بھی ضروری ہے تاکہ انھیں دہرایا نہ جائے۔ وزیراعظم نے ’’اُڑان پاکستان‘‘ کی کامیابی کے تقاضوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کوآگے بڑھانے کے لیے اشرافیہ کوکچھ قربانیاں دینا ہوں گی اور پائیدارترقی کی خاطرسستی بجلی اور ٹیکسز کی شرح میں کمی ضروری ہے۔ اب ہمیں نئی سوچ اورٹھوس اقدامات کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا جبکہ سیاسی پارٹیوں کواپنی سیاست کوقومی مفاد کے ساتھ ہم اہنگ کرنا ہوگا۔ میاں زاہد حسین نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کوبے پناہ وسائل سے نوازا ہے۔ پاکستانی عوام بہت باصلاحیت اورزہین ہیں اور ہمارے پاس ہرشعبے میں ماہرین موجود ہیں جوکسی بھی ملک کی ترقی کے لئے ضروری ہیں مگرانکی صلاحیتوں سے فائدہ نہیں اٹھایا جاتا اوربہت سے ماہرین مواقع کی کمی کی وجہ سے ملک چھوڑجاتے ہیں۔ غلط پالیسیوں اور انتشار کی سیاست کی وجہ سے وسائل سے مالا مال ملک بارباربھیک مانگنے پرمجبورہے جواسکی ترقی کے راستہ میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ میاں زاہد حسین نے مزید کہا کہ وزیراعظم نے اس منصوبے کے آغازپرجن خیالات کا اظہارکیا ہے اس سے صرف ملک دشمن ہی اختلاف کرسکتے ہیں جبکہ انھوں نے جن خرابیوں کی نشاندہی کی ہے انھیں دورکرنا ضروری ہوگیا ہے جس کے لئے بیانات کے بجائے منصوبہ بندی اور عمل درامد کا سہارا لینا ہوگا۔
—























