
اعتصام الحق
چینی جدید کاری کے ستونوں میں ایک زرعی جدید کاری ہے ۔اس زرعی جدید کاری نے چین میں کرشماتی کارناموں کو جنم دیا ہے۔ایک ارب چالیس کروڑ کی بڑی آبادی کی غذائی ضروریات کی تکمیل بذات خود ایک مشکل ذمہ داری ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں چین کی اناج کی پیداوار پہلی بار 700 ملین ٹن کے نئے سنگ میل پر پہنچی ہے ۔ زراعت میں سائنس اور ٹیکنالوجی کی شراکت کی شرح 63 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے اور زرعی میکانائزیشن کی ترقی اب ایک نئی بلندی ہے ۔ چین نے زرعی جدید کاری میں دو اہم پہلووں پر بہت کام کیا ہے ۔ایک ہے مقدار اور دوسرا ہے معیار ۔

مقدار کے حوالے سے دیکھیں تو کاشت کے لیے اراضی کی حفاظت اور بنیادی زرعی مصنوعات کی فراہمی انتہائی ضروری ہوتی ہے ۔چین اس حوالے سے ہمیشہ ایک چیلنج کا سامنا کرتا رہاہے کہ اس کی بڑی آبادی کو غذائی ضروریات کی فراہمی میں کسی تطل اور کمی کا سامنا کرنے نہیں دیا جا ساکتا اسی لئے چین میں قابل کاشت زمین کی حفاظت اور اس کی بقا کے لئے ریاست کی جانب سے ایک ریڈ لائن قائم ہے ۔یعنی قابل کاشت اراضی کو بنا اجازت کسی اور مقصد کے لئےاستعمال نہیں کیا جاتا ۔ زمین کی فراہمی اور اس کی حفاظت کے ساتھ ساتھ زرعی مصنوعات کی فراہمی اور نئے دور کے لیے اس کے تقاضوں کی تکمیل بھی ایک اہم عنصر ہے جس کا خیال رکھا جا تا ہے ۔
معیار کے نکتہ نظر سے بات کی جائے تو زرعی معیار کی جدید کاری چین کے لئے انتہائی اہمیت کی حامل سمجھی جاتی ہے ۔ چین میں یہ خیال اب تقویت پا چکا ہے کہ مٹی کے معیار میں کمی ، کیڑے مار ادویات کی آلودگی یا کھادوں کے ضرورت سے زیادہ استعمال کی قیمت پر اعلی زرعی پیداوار حاصل نہیں کی جانی چاہیے بلکہ زمین اور زرعی مصنوعات کی حفاظت کے لیے اعلی سطح کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے ، زرعی مصنوعات کے معیار کو یقینی بنانا چاہیے ، اور رہائشیوں کی غذائی حفاظت کو بڑھانا چاہیے ۔
اس کے علاوہ جدید زراعت کی ترقی میں بھی کئی مسائل پر توجہ دی جا رہی ہے ۔سب سے پہلے زراعت کے معاشی پہلو کو مدنظر رکھا جا رہاہے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں کہ کسان غریب نہ ہوں اور انہیں ان کی محنت کا اچھا صلہ ملے ۔
زرعی پیداوار کی استعداد کار کو بڑھانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال بھی عام کیا جا رہا ہے اور “انٹیلی جنٹ ایگری کلچر ” کی اصلاح اب آہستہ آہستہ عام ہو تی جا رہی ہے بوائی اور کٹائی میں مشینوں ،اے آئی اور سیٹالائٹ سسٹم کے استعمال نے کئی آسانیاں پیدا کی ہیں لیکن یہ شعبی اتنا بڑا ہے کہ یہاں نظام کی مکمل تکمیل میں مزید نئے چیلنجز آجاتے ہیں اور یوں یہ ایک مسلسل عمل اور مسلسل حکمت عملی کا تقاضا کرتا رہتا ہے ۔
مجموعی طور پر بات کی جائے تو یہ کہا جا سکتا ہے کہ چین نے اپنے زرعی نظام میں موجودہ وقت کے تقاضوں کے اعتبار سے کئی تبدیلیاں کی ہیں جن کے خاطر خواہ نتائج بھی بر آمد ہوئے ہیں لیکن آبادی کے بڑھنے اور بدلتے زرعی حالات اور تقاضوں کے پش نظر یہ شعبہ ایک چیلنج ہے اور چیلنج رہے گا ۔























