ٹھٹہ پولیس کی سال 2024 کی کارکردگی رپورٹ

ایس ایس پی ٹھٹہ ڈاکٹر محمد عمران خان کی سربراہی میں سال 2024 کے دوران ٹھٹہ پولیس کی کارکردگی کی تفصیلات درج ذیل ہیں۔

ٹھٹہ پولیس نے سال 2024 کے دوران ضلع بھر میں درج ہونے والے 1695 مقدمات میں 2990 ملزمان کو گرفتار کیا۔

اس دوران ایکٹو کرمنلز کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے 511 ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا، 55 پولیس مقابلوں کے دوران 62 جرائم پیشہ گینگز کا خاتمہ کیا جن میں سے 2 ملزمان مارے گئے، 29 ملزمان کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔ گرفتار ملزمان کے خلاف آرمس ایکٹ کے تحت 133 مقدمات درج کرکے ملزمان کے قبضے سے غیر قانونی اسلحہ 2 کلاشنکوف، 10 رپیٹر، 97 پسٹلز، 23 ریوالور اور 301 رائونڈز برآمد کرلیے گئے۔

جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے 5 بلائنڈ مرڈر کیسز حل کرکے اصل ملزمان کو گرفتار کیا جبکہ کارو کاری کے بلائنڈ مرڈر کے 4 کیسز حل کرکے 8 ملزمان کو گرفتار کیا.

اس کے علاؤہ ڈکیتی کے 10 کیسز اور رابری کے 24 کیسز حل کرکے 91 ملزمان کو گرفتار کرلیا۔

558 روپوش اور اشتہاری ملزمان گرفتار کیے۔

گٹکا / مین پوری و دیگر گٹکا مٹیریل کے 590 مقدمات درج کیے جن میں 882 ملزمان کو گرفتار کیا گیا اور گرفتار ملزمان کے قبضے سے 84277 کلو گٹکا مٹیریل اور 147 گاڑیاں برآمد کی گئیں۔

نارکوٹکس کے 281 کیسز درج کیے جن میں 413 ملزمان گرفتار کرلیے گئے اور ان کے قبضے سے 77 کلو چرس، 10109 لٹرز دیسی شراب اور وسکی پنٹس برآمد کرلی گئیں۔

اسمگلنگ/ غیر قانونی آئل کے خلاف ایکشن لیتے ہوئے 9 آئل ٹینکرز کو تحویل میں لیکر 7 کیسز درج کرکے 14 ملزمان کو گرفتار کیا جبکہ 62640 لیٹرز اسمگلنگ شدہ آئل پولیس تحویل میں لے لیا۔

3 چوری شدہ فور وہیل گاڑیاں، 105 موٹر سائیکلیں اور 58 مویشی بھی برآمد ہوئے۔

جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے لاکھوں روپے مالیت کے 210 چوری و گمشدہ موبائل فونز ٹریس کرکے اصل مالکان کے حوالے کیے گئے۔

ایس ایس پی آفیس ٹھٹہ میں قائم شکایاتی سیل میں 2024 کے دوران وزیر اعظم پورٹل، چیف منسٹر آف سندہ، آئی جی پی سندہ، کورٹ اور برائے راست موصول ہونے والی 2586 درخواستوں میں سے 108 کیسز درج کروائے گئے، 2357 درخواست گزاروں کے مسائل حل کردیے گئے۔

ایس ایس پی آفیس ٹھٹہ میں قائم وومین پروٹیکشن سیل میں آنے والی متاثرہ خواتین اور بچوں کے مسائل گھریلو جھگڑے، سائبر کرائم، بلیک میلنگ، حراسمنٹ، ریپ و دیگر نوعیت کے حوالے سے موصول شدہ 403 درخواستوں میں سے متعدد فوری مسائل حل کردیے گئے.