لاہور سے اہم خبریں- رپورٹ مدثر قدیر


سید ذوالفقار حسین کنسلٹنٹ انسداد منشیات مہم
===========
منشیات کے خلاف تربیت فراہم کرنے والے ادارے ڈرگ ایڈوائزری ٹرینیگ حب نے نیو ائیر نائٹ پر پارٹیوں میں نشہ کے استعمال کے حوالے سے ایڈوائزری جاری کر دی کنسلٹنٹ انسداد منشیات مہم سید ذوالفقار حسین نے ایڈوائزری میں بتایا کہ نیو ائیر نائٹ پر معمول سے 40 فیصد نشہ کا استعمال زیادہ ہوتا ہے۔نیو ائیر نائٹ پارٹیوں میں شراب، کرسٹل آئس، ایس ٹی سی، ایل ایس ڈی، ہیروئن اور چرس کا استعمال زیادہ ہوگا۔انہوں نے کہا کہ پارٹیوں میں آئس، وویڈ، دیسی شراب اور ملاوٹ شدہ چرس کے استعمال سے اجتناب کریں ورنہ موت واقع ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نشہ کی فروخت ان لائن، واٹس ایپ گروپوں کے ساتھ ساتھ گھروں میں آسانی کے ساتھ ہوتی ہے۔نیو ائیر نائٹ میں منشیات کے عادی نشہ کا زیادہ استعمال کرنے سے وقتی خوشی محسوس کرتے جو سارا سال نہیں ملتی۔انہوں نے مزید کہا کہ نیو ائیر نائٹ پر والدین اپنے بچوں کو خفیہ پارٹیوں میں شامل نہ ہونے پر ان کی کونسلینگ کریں۔ تاکہ آپ کا بچہ منشیات کے استعمال سے بچ سکے پارٹیوں میں نئے افراد جلد بازی اور شوق میں منشیات کا استعمال شروع کرتے ہیں۔پارٹیوں میں ملاوٹ اور کیمکل والی منشیات کا استعمال انسانی زندگی کو ختم کر دیتا ہے انہوں نے کہا کہ رائے ونڈ روڈ بیدیاں روڈ برکی روڈ کے فارمز ہاوسزز ڈیفنس اور مختلف ہاؤسنگ سوسائٹیوں میں خفیہ پارٹیوں کی تیاریاں جاری۔جبکہ کراچی اسلام آباد راولپنڈی لاہور پشاور مردان حیدرآباد کویٹہ سکھر ملتان بہاولپور سرگودھا فیصل آباد گوجرانولہ سیالکوٹ جہلم گجرات ڈیرہ غازی خان اور دوسرے شہروں میں نئے سال کی پارٹیاں عروج پر ہوں گی۔
==============
وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کی پالیسی کو مد نظر رکھتے ہوئے مریضوں، تیمارداروں اور ہسپتال میں آنے والے شہریوں کے علاوہ ہسپتال کے ملازمین کو درپیش مسائل و مشکلات کے فوری حل کے لئے پرنسپل پوسٹ گریجویٹ میڈیکل انسٹی ٹیوٹ وامیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفر نے ایک اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے روزانہ کی بنیاد پر لاہور جنرل ہسپتال میں کھلی کچہری منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کھلی کچہری کا انعقاد یکم جنوری 2025سے روزانہ کی بنیاد پر ایڈمن بلاک میں صبح 10سے11بجے ہوگا جس میں پرنسپل پروفیسر الفرید ظفر شہریوں و ملازمین کے مسائل خود سنیں گے جبکہ شہری تحریری صورت میں شکایات پیش کریں گے جس میں شناختی کارڈ نمبر اور موبائل نمبر ضرور لکھا ہونا چاہیے۔پرنسپل نے ڈاکٹر یحیٰ سلطان کو کھلی کچہری کا کو آرڈینیٹر مقرر کر دیا ہے جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کردیا ہے۔ پروفیسر الفرید ظفر کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد ہر روز مریضوں کے علاوہ ادارے کے ملازمین پرنسپل کو اپنے مسائل سے آگاہ کر سکیں تاکہ اُن کے فوری اذالہ کر کے ادارے کی کارکردگی میں مزید نکھار آ سکے۔
پرنسپل پی جی ایم آئی پروفیسر الفرید ظفر نے ہسپتال انتظامیہ کو ہدایت کی کہ میڈیکل سپرنٹنڈنٹ،نرسنگ انتظامیہ، پرنسپل کالج آف نرسنگ،سوشل ویلفئیر آفیسرز،بلڈ بینک کے انچارج و دیگر انتظامی ڈاکٹرز کھلی کچہری کے اوقات میں اپنے دفاتر میں موجود رہیں جبکہ ایل جی ایچ میں معمول کی سرگرمیاں اور کام بھی جاری رہے گا۔ پروفیسر الفرید ظفر نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق ہسپتال میں آنے والے ہر مریض کو بہتر سے بہتر طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں جن میں مزید بہتری لانے کے لئے ہسپتال انتظامیہ دن رات کوشاں ہے اور اس کھلی کچہری کا انعقاد اس سلسلے میں مزید معاون ثابت ہوگا۔
==============

فارمیسی شعبہ کی پاکستان میں ترقی اور عالمی طور پر فارماسسٹوں کا کردار کے حوالے سے پاکستان میں 21کیسویں عالمی کانفرنس کا اغاز مقامی ہوٹل میں ہوا کانفرنس سے اپنے خطاب میں وفاقی وزیر مصدق ملک جو کہ خود بھی 1982 کےپنجاب یونیورسٹی کے فارماسسٹ ہیں اور ہیلتھ پلاننگ میں امریکہ سے پی ایچ ڈی ہیں نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں اور عالمی طور پر فارماسسٹ کی حیثیت ریڈ کی ہڈی کی ہے اور صحت میں بنیادی کردار ہے جبکہ بہت جلد قومی اسمبلی میں فارمیسی ایکٹ پاس کر لیا جائے گا جس میں فارماسسٹ کے تمام حقوق میسر ہو جائیں گے انہوں نے فارماسسٹ اور اس شعبہ کے مستقبل کے حوالے سے ایک پریزنٹیشن دیتے ہوئے کہا کہ فیوچر ہیلتھ میں بنیادی کردار ہی فارماسسٹ کا ہے ۔ فارمیسی کانفرنس میں خالد سعید بخاری نے فارماسسٹوں کے مسائل کو اجاگر کیا اور فارماسسٹ یونین کے پیٹرن ان چیف ایاز علی خان نے فارمسسٹوں کے مستقبل کے حوالے سے بہت ساری نوید سنائی۔ کانفرنس سے سی ای او ڈریپ عاصم رؤف نے اپنی تقریر میں کہا کہ پاکستان بہت جلد ڈبلیو ایچ او معیار کی فارمہ انڈسٹری ڈیویلپ کرنے میں اور سرٹیفکیشن میں اگے ا جائے گا جبکہ ڈرگ اتھارٹی میں فارماسسٹ اہم ترین ہیں اور تمام نظام فارماسیوٹیکلز کا ان لائن کر دیا گیا ہے جس کی وجہ سے کرپشن کا خاتمہ ہوگیا ہے ، پاکستان میں اعلی معیار کی ادویات تیار ہو رہی ہیں اور اس میں فارماسس کا ہی بنیادی کردار ہے ۔اس موقع پر پاکستان فارماسسٹ ایسوسی ایشن کے مرکزی صدر سردار شبیر ، ندیم اقبال، راؤ عالمگیر اور تمام صوبوں کے نمائندہ صدور بھی موجود تھے ۔کانفرنس کے دوران اپنے خطاب میں فارماسسٹ نور محمد مہر نے کہا ہے کہ پاکستان میں فارماسسٹ کی قدر ہونی چاہیے 100 فیصد اور ہر میڈیکل سٹور پر صرف کوالیفائڈ فارماسسٹ ہی ہونا چاہیے، نور مہر نے مصدق ملک سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ادویات کی قیمتیوں کو کنٹرول کرنے کی پالیسی حکومت کو تبدیل کرنی چاہیے اور ادویات کی قیمتیں کو 100 فیصد کنٹرول کرنا ضروری ہے ۔انھوں نے مزید کہا کہ جان بچانے والی ادویات کی قلت بھی نہیں ہونی چاہیےاس حوالے سے وفاقی وزیر مصدق ملک نے نور مہر کو یقین دہانی کرائی کہ وفاقی مشیر صحت ڈاکٹر مختار احمد بھرت اس پہ پورا کام کر رہے ہیں اور بہت جلد مریضوں کو خوشخبری ملے گی۔ فارماسسٹوں کی یہ عالمی کانفرنس چار روز جاری رہے گی جس میں پاکستان اور بین الاقوامی ماہرین فارمیسی شعبہ صحت کے مسائل اور ان کے تدارک کے لیے اہم پالیسیوں کا اعلان کریں گے .
===================

ٹاؤن شپ لاھور میں مسلم لیگی رھنما چیر پرسن نوازشریف لوور گروپ اور ممبر انوائرمنٹ کمیٹی پنجاب عظمی عامربٹ کی صدارت میں مسلم لیگ کے 118 ویں یوم تاسیس کے سلسلہ میں تقریب ۔ تقریب سے خطاب کرتے ھوے عظمی عامربٹ نے کہا کہ آج مسلم لیگ کا 118 واں یوم تاسیس ھے اج کے دن 1906 میں ڈھاکہ کے مقام پر برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے آل انڈیا مسلم لیگ قائم کی گئی اور پھر یہ نعرہ زبان زد عام ھوا کہ مسلم ھے تو مسلم لیگ میں آ۔ پھر علامہ محمد اقبال نے مسلم لیگ کے ھی پلیٹ فارم سے مسلمانوں کی علیحدہ ریاست کا تصور دیا اور جیسے قاںداعظم محمد علی جناح نے اپنی کاوشوں سے پاکستان کی شکل میں پایہ تکمیل تک پہنچایا اور پھر مسلم لیگ ھی کے سر براہ میاں محمد نواز شریف

کی قیادت میں پاکستان نے ترقی کی منازل طے کیں اور دنیا میں ایٹمی طاقت بن کر ابھرا اور اب انشاء اللہ میاں محمد شہباز کی قیادت میں پاکستان ایک مظبوط اقتصادی طاقت بن کر ابھرے گا۔ تقریب سے خالد بیگ ۔ عدیم اجمل ۔ اور پروفیسر اطہر امین نے بھی خطاب کیا ۔ تقریب میں عظمیٰ عامربٹ ۔ منور حسین نقوی ۔پروفیسر اطہر امین ۔ ڈاکٹرامجد حسین اعوان ایڈووکیٹ۔ راؤ جمیل۔ خالد بیگ ۔ عدیم اجمل ۔ زاہد لطیف ۔ شیری بھائی ۔ اور کارکنان مسلم لیگ ن نے شرکت کی ۔
===================

یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی لاہور میں اوپن سورس ٹیکنالوجی پر دو روزہ 18ویں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ الخوارزمی انسٹیویٹ یو ای ٹی کے زیر اہتمام کانفرنس میں مختلف بین الاقوامی یونیورسٹیز کے محققین اور سائنسدانوں نے اپنے مقالے پیش کئے ۔دیگر کانفرنسز کی طرح رواں برس بھی منعقدہ اس کانفرنس نے اپنی منفرد خصوصیات کے باعث نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر کے محققین، ماہرین تعلیم، صنعتی ماہرین، پبلک سیکٹر اور نجی اداروں کو متاثر کیا ۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین اپنے تحقیقی مقالے ، پینل ڈسکشن اور نمائش میں بھرپور دلچسپی لیتے ہیں۔ کانفرنس برائے اوپن سورس ٹیکنالوجی کی افتتاحی تقریب میں چیئرمین پی ای سی انجینئر وسیم نذیر جبکہ اختتامی تقریب میں فیڈرل ایچ ای سی کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر ڈاکٹر ضیاء القیوم نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ انہوں نے کہا، آج کل تقریباً ہر چیز کے لیے اوپن سورس سافٹ ویئر کی ضرورت ہوتی ہے کمیونیکیشن نیٹ ورک، انوینٹری، اکاؤنٹنگ، ذاتی پیداواری صلاحیت کے اوزار، رابطہ کا انتظام، اور آپریٹنگ سسٹم سبھی کیلئے اوپن سورس ٹیکنالوجی اہم ہے ۔ وائس چانسلر یو ای ٹی لاہور پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے معزز مہمانوں، مدعو مقررین، صنعتی ماہرین اور سرکاری و نجی اداروں کو ان کی شرکت پر خوش آمدید کہا اور کانفرنس کو کامیاب بنانے میں ڈاکٹر وقار محمود اور ان کی ٹیم کی کاوشوں کو سراہا۔ کانفرنس میں پاکستان، چین، بھارت، تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ملائیشیا سمیت مختلف ممالک سے مجموعی طور پر 200 سے زائد محققین نے اپنے مسودات جمع کرائے۔ ٹیکنیکل ایویلیوایشن کمیٹی نے میرٹ کی بنیاد پر معیار کو پورا کرنے کے لیے صرف چند اعلیٰ معیار کے کاغذات قبول کیے تھے۔ آرٹیفیشل انٹیلی جنس، سائبر سیکیورٹی، بگ ڈیٹا اور کلاؤڈ کمپیوٹنگ، روبوٹکس، بلاک چین اور انٹرنیٹ کے شعبوں میں بات چیت کے لیے پاکستان اور کینیڈا، ملائیشیا، ایسٹونیا، امریکا، قطر، چین جیسے دیگر ممالک کی بڑی یونیورسٹیز سے مقررین کو مدعو کیا گیا تھا۔ کانفرنس میں مختلف موضوعات پر پینل ڈسکشن ہوئی اور طلباء کے مابین مقابلہ جات کا بھی انعقاد کیا گیا۔
============================


-وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی ایک عدالت نے AHG فلیور کے سی ای او، اور کمپنی کے چیئرمین حارث کے لئے ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کردیئے ہیں۔ پاکستان کے سائبر قوانین کی مبینہ خلاف ورزیوں پر مشتمل ایک مقدمے سے متعلق وارنٹوں کا تعلق ہے، ائندہ سماعت 9 جنوری 2025 ء تک شیڈول ہے۔
اے ایچ جی فلیورز نے پاکستان میں مشہور امریکی آئس کریم برانڈ، باسکن رابنز کے ماسٹر فرنچائز کے طور پر کام کیا۔ ملک کے سائبر کرائم قانون سازی کے تحت بد سلوکی کا الزام عائد کرنے والے ایک امریکی قومی، عبدالقیوم حفیظ کی جانب سے درج کردہ شکایت کے الزام میں ملزمان پر عائد کیا گیا ہے۔
اس معاملے کے قریبی ذرائع اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ایف آئی اے اس معاملے کی کئی ماہ سے تفتیش کر رہی ہے، جس کا اختتام ان وارنٹوں کے اجراء کی صورت میں ہوا ہے۔ عدالت نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ہدایت کی ہے کہ آئندہ سماعت پر ملزمان کو پیش ہونے کو یقینی بنایا جائے۔
الزامات کی نوعیت کے بارے میں مزید تفصیلات غیر مصدقہ رہیں کیونکہ تحقیقات جاری ہیں۔
یہ ترقی پاکستان میں اے ایچ جی فلیور کی کارروائیوں اور اس کی باسکن رابنز سے وابستگی کے مستقبل کے بارے میں اہم سوالات پیدا کرتی ہے۔ قانونی اور کاروباری برادریوں میں انتہائی اہمیت کی اس کیس کو غور سے دیکھا جا رہا ہے اور معاملے کی یکساں نگرانی کی جارہی ہے۔ کیونکہ ماہر قانون نور مہر ایڈووکیٹ کا کہنا ہے کہ اس معاملہ میں ایک ارب کی ٹیکس چوری کا سراغ نظر ارہا ہے ۔