مشق ‘امن’: عالمی سمندری استحکام میں پاکستان کا کردار

تحریر: اقصیٰ کنول

بین الاقوامی تجارت اور اقتصادی تعاون کے فروغ سے دنیا بھر میں سمندروں کی اہمیت روز بروز بڑھتی جا رہی ہے۔ عالمی معیشت کا انحصار سمندری راستوں پر ہے، جہاں سے روزانہ کی بنیاد پر اربوں ڈالر کی تجارت ہوتی ہے، اور ان راستوں کی حفاظت اور استحکام عالمی ترقی کے لیے انتہائی اہم ہے۔ یہ سمندری راستے نہ صرف عالمی تجارت کے لیے اہمیت کے حامل ہیں بلکہ جنگی حکمت عملی اور علاقائی امن کے لیے بھی کلیدی حیثیت رکھتے ہیں۔ اسی تناظر میں پاکستان نیوی کی مشق “امن” نے عالمی سطح پر اپنی اہمیت منوائی ہے۔ پاکستان نیوی کی جانب سے ہر دو سال بعد اس مشق کا انعقاد اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ پاکستان عالمی سطح پر سمندری سلامتی کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس میں مثبت کردار ادا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ سال 2025 میں پہلی مرتبہ “امن ڈائیلاگ” بھی اس مشق کے ساتھ منعقد کیا جا رہا ہے، جو عالمی سطح پر مختلف ممالک کی بحری افواج کو مل بیٹھ کر سمندری چیلنجز پر بات کرنے کا ایک منفرد موقع فراہم کرے گا۔

بحر ہند کے علاقے میں پاکستان نیوی کی مشق “امن” کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے اس خطے کے مخصوص چیلنجز کو جاننا ضروری ہے۔ اس خطے کا شمار دنیا کے اہم ترین سمندری راستوں میں ہوتا ہے۔ یہاں سے گزرنے والی بین الاقوامی تجارت کی مالیت کھربوں ڈالرز میں ہے، جن میں سے بیشتر راستے پاکستان کے قریب ترین ہیں۔ بحر ہند کے ذریعے عالمی توانائی کی منتقلی بھی ہوتی ہے، جس میں تیل اور قدرتی گیس کی ترسیل شامل ہے۔ اس کے علاوہ، بحر ہند میں اسٹریٹجک اہمیت رکھنے والے کئی ممالک موجود ہیں جن کے درمیان جغرافیائی اور سیاسی تنازعات بھی پائے جاتے ہیں۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے اثرات بھی بحر ہند کی سلامتی پر مرتب ہوتے ہیں۔ بحر ہند میں موجود اس غیر یقینی جیوسٹریٹیجک ماحول اور بڑھتے ہوئے روایتی اور غیر روایتی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لئے ایک طاقتور بحری فورس اور خطے میں امن و استحکام کی فضا برقرار رکھنے کیلئے امن اقدامات نہایت ضروری ہیں۔

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت کی وجہ سے بحر ہند میں اس کا کردار مزید اہمیت اختیار کرتا ہے۔ کراچی، گوادر اور دیگر پاکستانی بندرگاہیں عالمی تجارتی اور فوجی حکمت عملی کے لحاظ سے کلیدی حیثیت رکھتی ہیں۔ اس پس منظر میں، پاکستان نیوی کی مشق “امن” نہ صرف ملک کی دفاعی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے بلکہ عالمی سطح پر سمندری سلامتی کے حوالے سے پاکستان کے عزم کو بھی ظاہر کرتی ہے۔
اس مشق “امن” کا آغاز 2007 میں کیا گیا تھا، اور اس کے بعد سے یہ مشق باقاعدگی سے ہر دو سال بعد منعقد کی جاتی رہی ہے۔ اس کا مقصد مختلف ممالک کی بحری افواج کے درمیان تعاون کو فروغ دینا اور عالمی سمندری سلامتی کی پالیسیوں پر بات چیت کرنا ہے۔ اس مشق

میں پاکستان کے علاوہ متعدد ممالک کی بحری افواج بھی شرکت کرتی ہیں، جن میں امریکہ، چین، سعودی عرب، ترکیہ، ملائیشیا اور کئی دیگر ممالک شامل ہوتے ہیں۔

“امن” کا مقصد صرف جنگی مشقیں کرنا نہیں بلکہ سمندری سیکیورٹی، انسداد دہشت گردی، منشیات کی اسمگلنگ، سمندری قزاقی، ماحولیاتی تحفظ، اور قدرتی آفات کے دوران تعاون جیسے امور پر بھی تبادلہ خیال کرنا ہے۔ مشق کے دوران شریک ممالک کی بحری افواج مشترکہ آپریشنز کرتی ہیں، جس سے نہ صرف فوجی صلاحیتوں کا مظاہرہ ہوتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بحری تعاون کو بھی فروغ ملتاہے۔

سال 2025 میں امن مشق کے ساتھ ایک نیا عنصر “امن ڈائیلاگ” شامل کیا جا رہاہے۔ یہ ڈائیلاگ مختلف ممالک کے بحری حکام، ماہرین اور تجزیہ کاروں کو ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گا جہاں وہ سمندری سلامتی کے حوالے سے اپنے خیالات، چیلنجز اور انکے حل پیش کریں گے۔ یہ ڈائیلاگ پہلی بار ہو رہا ہے، اور اس کا مقصد عالمی سطح پر سمندری سلامتی پر بات چیت کو فروغ دینا ہے۔ “امن ڈائیلاگ” میں حصہ لینے والے ممالک کے نمائندوں کی مختلف موضوعات پر گفتگو، جیسے کہ بحر ہند میں امن قائم رکھنا، قزاقی کی روک تھام، غیر قانونی ماہی گیری، ماحولیاتی تحفظ اور قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ حکمت عملی بنانے میں مددگار ثابت ہو گی۔ یہ ڈائیلاگ پاکستان نیوی کے عالمی سمندری تعاون کے فروغ کے لیے عزم کو ظاہر کرتا ہے اور عالمی سطح پر سمندری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرے گا۔

پاکستان نیوی کی©️” مشق امن “اور اس کے ساتھ ہونے والا “امن ڈائیلاگ” خطے میں سمندری سلامتی کے حوالے سے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوں گے۔ یہ مشق عالمی بحری افواج کو ایک دوسرے کے ساتھ تعاون بڑھانے، اپنے تجربات شیئر کرنے اور سمندری چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جدید حکمت عملی تیار کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ پاکستان نیوی کے یہ اقدامات نہ صرف اس کے دفاعی عزم کو ظاہر کرتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر امن اور استحکام کے قیام کی کوششوں کا حصہ ہونے کے ساتھ ساتھ بحر ہند میں پاکستان کی اسٹریٹجک اہمیت کو بھی اجاگر کرتے ہیں۔ ان کے ذریعے عالمی سطح پر امن اور استحکام کا قیام عمل میں لانے میں مدد ملے گی، جو نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے فائدہ مند ثابت ہوں گے۔