
کراچی کے فیکٹری مالکان پانی استعمال پر اصل بلنگ کے لیے تیار ہو جائیں بہت فائدہ اٹھا لیا اب رئیل ٹائم بلنگ کا سامنا کرنا ہوگا
تفصیلات کے مطابق ورلڈ بینک سے 1600 ملین ڈالر قرض کی شرائط کو پورا کرنے کے لیے کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کی جانب سے پانی چوری کرنے والوں کے خلاف سخت ایکشن لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے خاص طور پر فیکٹری مالکان سے پانی کے استعمال کا پورا پورا حساب لیا جائے گا اب تک جو مزے لگے ہوئے تھے وہ ختم ہو جائیں گے فیکٹری مالکان نے زیر زمین پانی سے اور سسٹم کے پانی سے بہت فائدہ اٹھا لیا اب میٹرز لگیں گے اور رئیل ٹائم پر بلنگ شروع ہو جائے گی جس کے بعد پانی کے بل یقینی طور پر مہنگے ہو جائیں گے فیکٹری مالکان کی پانی کی لاگت پر اٹھنے والے اخراجات بڑھ جائیں گے اب تک کسی نہ کسی بندوبست کے ذریعے فیکٹریوں کو جس طرح سستا پانی مل رہا تھا اور سرکاری خزانے میں رقم بالکل نہیں جا رہی تھی

یا بہت کم جا رہی تھی وہ حساب کتاب اب نہیں چلے گا کراچی واٹر کارپوریشن کی جانب سے پرانے نہ دہندگان کو بھی موقع دیا گیا تھا کہ وہ 35 فیصد رعایت لے لیں تین مہینے کا وقت دیا گیا تھا کہ نیا بل نکال لیں اور 35 فیصد کی رعایت لے کر رقم ادا کر دیں بہت جلد واٹر کارپوریشن ریکوری کے شعبے کو پرائیویٹائز کرنے جا رہی ہے کراچی واٹر اینڈ کارپوریشن کی بلنگ کی مد میں 70 فیصد انڈسٹری ہے اور 30 فیصد کے قریب ریٹیل ہے واٹر کارپوریشن کے درد و شمار کے مطابق انڈسٹری نے کراچی کے
زیر زمین پانی سے اور سسٹم کے پانی سے بہت زیادہ فائدہ اٹھا لیا ہے میٹرز نہیں لگے ہوئے تھے اور وہ من مانی کر رہے تھے اب میٹرز لگیں گے اور صحیح مقدار کے حساب سے بلڈنگ ہوگی اور پانی دینا پڑے گا عدم ادائیگی کا سوال پیدا نہیں ہوگا کیونکہ ریکوری کا شعبہ پرائیویٹائز ہونے جا رہا ہے اس وقت واٹر کارپوریشن کی بجلی فری ہے کیونکہ اس کی ادائیگی حکومت کرتی ہے لیکن واٹر کارپوریشن کو اپنی امدن بڑھانے کے لیے کہا گیا ہے اور اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں باقاعدہ روڈ میپ کے تحت اگے بڑھا جا رہا ہے

اعداد و شمار کے مطابق بمشکل 35 فیصد صارفین پانی کا بل ادا کرتے ہیں 65 فیصد صارفین پانی کا بل ادا نہیں کرتے حالیہ مہینوں میں اٹھائے گئے اقدامات کے نتیجے میں ماہانہ ریکوری میں اضافہ ہوا ہے لیکن تمام تر اقدامات کرنے کے باوجود ماہانہ ریکوری 1.8 ارب تک پہنچی ہے پچھلے کئی برسوں میں اتنی ریکوری نہیں ہوئی تھی زیادہ ریکوری ہونے کے باوجود یہ اصل ہدف سے بہت کم ہے نئے سال میں واٹر کارپوریشن فیکٹری مالکان کے خلاف ڈنڈا اٹھانے والی ہے اور پرانے نادہنتکان کی شامت آئے گی تیاری کر لیں ان کو ایکشن کا سامنا کرنا پڑے گا جبکہ فیکٹری مالکان بھی اب تک جو سستا پانی یا مفت پانی حاصل کر رہے تھے اب یہ دروازے بند ہونے والے ہیں اور بلنگ کے لیے تیاری کر لیں ۔ ادھر واٹر کارپوریشن کی یونین کے

عہدے دار اور ملازمین بھی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں اور قانونی مشاورت کا عمل بھی جاری ہے بڑے نادر ہندگان اور بڑے فیکٹری مالکان نے بھی اپنے وکلا سے صلاح مشورے شروع کر دیے ہیں ۔ واٹر کارپوریشن کی انتظامیہ کے حوالے سے بتایا جا رہا ہے کہ فیکٹری مالکان پر کچا ہاتھ نہیں ڈالا جائے گا تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد ہی ساری کاروائی عمل میں لائی جانے والی ہے ۔ تمام بلڈنگ زیادہ شمار کے حساب سے ہوگی اور واٹر میٹرز کے ذریعے کی جائے گی اس سلسلے میں تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں























