نعروں سے نہیں،، بچوں کو سیکھانے، پڑھانے سے مستقبل محفوظ ہو گا۔۔

سچ تو یہ ہے

بشیر سدوزئی۔
===========

ایسے واقعات تو ہر خاص و عام کے ساتھ روز ہی پیش آتے ہوں گے لیکن بعض اوقات کوئی واقع دل پر گہرا اثر چھوڑتا ہے جو انسان کو بے سکون اور بے چین کر دیتا ہے۔ کل رات پیش آنے والے واقع نے مجھے رات بھر بے چین رکھا اور فجر تک نید نہیں آئی۔ ایڈمنسٹریشن سوسائٹی کے ہزار اور چھ سو گز کے محلات کے درمیانی کمرشل پٹی پر ایک بچے نے مجھے گاڑی پر بیٹھنے سے پہلے روکا اور کہا! سر یہ موزے کا جوڑا لے جائیں تین سو روپے کا ہے۔ یہ میری ضرورت نہیں، میں نے بچے کی طرف توجہ دئیے بغیر جواب دے کر گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بھٹنے کی کوشش کی تو بچے نے پھر معصومیت سے کہا! ہاں مجھے معلوم ہے آپ کی نہیں یہ میری ضرورت ہے۔ میری ماں اور بہنیں انتظار کر رہی ہیں یہ بک جائے تو جلدی گھر جاوں۔ اس رات کراچی میں سرد ہوائیں چل رہی تھیں جن کی رفتار خاصی تیز تھی درجہ حرارت تیزی سے گر رہا تھا، لوگ افراتفری میں تھے کہ کام سمیٹیں اور گھر بھاگیں اس بچے کو بھی شائد اسی لیے جلدی تھی کہ ٹھنڈ تیز ہونے سے پہلے وہ گھر پہنچے تب ہی اتنی کم قیمت پر موزے بھیچ رہا تھا۔ ہم تو بانی پاکستان حضرت قائد اعظم اور حضرت عیسٰی علیہ السلام کی پیدائش کا کیک کٹنگ تقریب اور آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں پینل کی کامیابی کا جشن منا کر گھر بھاگنے کی جلدی میں تھے کہ تیز اور ٹھنڈی ہواؤں سے بچا جا سکے۔ کمرشل ایریا سے کچھ سودا سلف خرینے کے لیے رکھے تھے کہ بچے نے پکڑ لیا اور پھر ہوش ہی اڑ گئے۔ بچے کے اس جملے نے مجھے چونکا دیا کہ ماں اور بہنیں انتظار کر رہی ہیں۔ میں تمام رشتوں میں ماں بہن اور بیٹی کے رشتے کو اولیت دیتا ہوں۔ میرا خیال ہے کہ یہ دونوں رشتے ہی بے لوث اور مخلص ہیں۔۔۔ مجھے بچے کے اس جملے نے ساکت کر دیا اور سوچ میں پڑھ گیا کہ کتنے بچوں کی ماں بہنیں اس انتظار میں ہوں گی کہ ان کا بچہ خریت سے گھر لوٹ آئے اور ساتھ میں کچھ لے بھی آئے کہ چولا جلنے کا کچھ آسرہ بنے۔ میں نے اطرف میں نظر دوڑائی تو گئی اور بچے نظر آئے کوئی ہاتھ پھیلائے مانگ رہا ہے کوئی کچھ سامان اٹھائے گزرتے لوگوں سے خریدنے کی التجا کر رہا ہے، کسی کے بدن پر پرانا میلا کچیلا کوٹ یا سوئیٹر ہے اور کوئی پھٹی پرانی پینٹ شرٹ پہنے آتے جاتے لوگوں سے التجا کر رہا ہے مجھے کچھ دے جاو۔ کوئی ننگے پاؤں اور کسی کے پاوں میں پھٹے پرانے چپل۔ مجھے لگا ان سب بچوں کی مائیں اور بہنیں انتظار میں ہیں کہ ٹھنڈ تیز ہونے لگی ہمارا بچہ کب آئے گا، کچھ لائے گا بھی کہ نہیں۔ یہ صرف ایڈمنسٹریشن سوسائٹی کی کمرشل پٹی کا مسئلہ نہیں جو کراچی کے امیر سیٹھوں کا علاقہ ہے جس کے اطراف محمود آباد سمیت کئی کچھی آبادیاں ہیں۔ بلکہ کراچی کے چوک و چورہائے سڑکیں اور شاہراہیں معصوم بچوں سے بھری پڑی ہیں جو اسی حالت میں گھوم رہے ہیں۔ کبھی کسی کے آگئیں ہاتھ پھیلاتے ہیں اور کبھی کسی کو کچھ چیز خریدنے کی درخواست کرتے ہیں جو اس کی ضرورت بھی نہیں ہوتی۔ ان کی مائیں اور بہنیں انتظار میں ہیں کہ بچہ جلد گھر آئے گا اور کچھ ساتھ لائے گا تو چولا جلے گا۔۔ کیا یہی پاکستان کا مستقبل ہے تین کروڑ بچے اسکولوں میں نہیں جاتے۔ ایک کروڑ 20 لاکھ بجے بھیک مانگتے ہیں۔ مبینہ طور پر کراچی میں سیلانی والے 2 لاکھ 50 ہزار افراد کو روزانہ مفت کھانا کھلاتے ہیں۔ جے ڈی سی والوں کے مفت دستر خواں پر اتنے یا اس سے زیادہ لوگ مفت مرغ مسلم سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ جگہ جگہ بورڈ نصب ہیں “یہاں مفت کھانا کھائیں” لیکن یہ بورڈ کہیں نظر نہیں آتا جس پر درج ہو، مفت ویلڈنگ سیکھیں، مفت پلمبرنگ سیکھیں، مفت گاڑی کا مستری بنیں، مفت انجینئرنگ سیکھیں، مفت کمپیوٹر سیکھیں، مفت ایم بی بی ایس پاس کریں۔۔۔ بعض لوگوں کو تو ہماری اس سوچ پر اعتراض ہوتا ہے کہ میں مفت فٹ پاتھ دستر خواں کی مخالفت کر کے غریب کی اس سہولت کو چھننا چاتا ہوں۔ لیکن ایسا ہر گز نہیں۔ جتنا پیسہ مفت دستر خواں پر لٹایا جاتا ہے اس رقم میں چند برسوں میں یہ قوم پاوں پر کھڑی ہو سکتی ہے صرف بھیک دینا اور مانکنے پر پابندی لگا دی جائے۔۔حکومت کی تو اس طرف توجہ ہے نہ کبھی کوئی پالیسی ہوئی لیکن مفت کھانا کھلانے والے خیراتی اداروں کے بھی اربوں روپے روزانہ ضائع ہی ہو رہے ہیں جن سے قومی تعمیر ہو سکتی ہے۔ کراچی کے مخیر حضرات دل کھول کر پیسہ دیتے اور اس پیسے سے فٹ پاتھ پر لاکھوں افراد کو کھانے کھلائے جاتے ہیں۔ کھانا کھانے والوں میں ہیرونچی اور ہٹے کٹے مسٹنڈوں کی بھی کثیر تعداد ہوتی ہے اور اب یہ سہولت بھی ہو گئی ہے کہ پارسل بھی لے جا سکتے ہیں۔ یہ ادارے مفت کھانا کھلا کر قوم کو نکما اور بھکاری بنا رہے ہیں۔ دو دیگوں پر جتنا خرچہ آتا ہے اتنے پیسوں میں ویلڈنگ کی مشین اور ضروری آلات آجاتے ہیں۔ 50 ہزار ماہانہ تنخواہ پر ایک استاد رکھا جائے تو ایک یا دو ماہ میں اچھا ولڈر تیار کر سکتا ہے۔ مذید مہربانی کرنے چائیں تو سیکھنے والے کو ایک ویلڈنگ مشین حوالے کریں آئندہ کے لئے وہ خود کفیل ہو جائے گا۔ بچوں کو بھکاری نہیں ہنر مند بناو تب ہی اس ملک کا مستقبل محفوظ ہو گا۔ پاکستان نے تو اس حوالے سے بین الاقوامی برادری کے ساتھ چارٹر دستخط کر رکھے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 1959ء کو بچوں کے حقوق کا ڈکلیریشن جاری کیا۔ اس کے بعد ہر سال 20 نومبر کو بچوں کے حقوق کا عالمی دن منایا جاتا یے جس کا بنیادی مقصد بچوں کی فلاح و بہبود اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہے۔ جن میں بنیادی طور پر بچوں میں تعلیم، صحت، تفریح، ذہنی تربیت اور شعور اجاگر کرنا ہے۔ غریب بچوں کو امیروں کے بچوں جیسی آسائشیں مہیا کرنا حکومتوں اور این جی اوز کی اوّلین ترجیح ہونا چاہئے۔ لیکن بدقسمتی سے ایسا ہو نہیں رہا۔ بچوں کے ساتھ بڑوں کا نارواسلوک، ظلم و زیادتی، گھریلو تشدد عام سی بات ہے جو بچوں کی نشوؤنما پر منفی اثرات مرتب کرتا ہے۔ اقوام متحدہ کے قوانین ہی نہیں قانون فطرت کے مطابق بھی ہر بچہ اپنی بقا، تحفظ، ترقی اور معاشرتی شمولیت کا حق رکھتا ہے۔ لیکن پاکستان میں غریب بچوں کے حقوق کے حوالے سے کوئی خاطر خواہ بہتری دیکھنے میں نہیں آتی اور اس حوالے سے ذمہ دار لوگ فکر مند بھی نہیں نہ کوئی پالیسی ترتیب دینے پر غور ہو رہا ہے اور نہ کسی کو اس صورت حال پر تکلف ہے کہ 3 کروڑ بچے جو اسکولوں میں نہیں ہیں وہ کیا کرتے ہیں اور کہاں ہیں۔ حتی کہ اس ملک میں بچوں کو بنیادی انسانی حقوق بھی حاصل نہیں۔ مبینہ طور پر 80 ملین بچے آبادی کا حصہ ہیں جو بنیادی ضروریات زندگی کے حصول کا حق رکھتے ہیں۔ تاہم ان میں سے صرف 20 فی صد ایسے ہیں جنہیں کچھ سہولیات میسر ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صحت کی سہولت اتنی کمزور ہے کہ پانچ سال کی عمر تک پہنچنے سے پہلے ہی ہر چھ میں سے ایک بچہ انتقال کر جاتا ہے۔ اقوام متحدہ چارٹر میں تو بچوں کے بہت سارے حقوق ہیں لیکن پاکستان میں صرف دو بنیادی حق دے دئے جائیں تو آئندہ 15 سال بعد پاکستان سے غربت اور پسماندگی ختم ہو جائے گی۔ وہ صحت تعلیم و ہنر ہے۔ بھیک مانگنا سخت قابل سزا جرم اور بھیک مانگنے والے بچوں کو جبرا اسکولوں میں داخل کیا جائے۔ بنیادی تعلیم کے بعد جو اعلی تعلیم کی اہلیت نہیں رکھتے انہیں ہنر سیکھایا جائے۔ یہ کام کرے کون ایسی کوئی خبر سامنے نہیں آئی کہ پاکستان حکومت ایسا کوئی ادارہ قائم کر رہی ہے جہاں بھیک مانگتے بچوں کی تعلیم و تربیت کا انتظام ہو گا، البتہ ملک کے سب سے بڑے صوبے کی اسمبلی نے حال ہی میں ایک بل منظور کیا ہے جس سے رکن اسمبلی کی تنخواہ 76 ہزار روپے سے بڑھ کر 4 لاکھ روپے کر دی گئی۔ گویا صرف پہنجاب اسمبلی ممبران 14 کروڑ 84 لاکھ روپے ماہانہ تنخواہ وصول کریں گے جو سالانہ ایک ارب 78 کروڑ 8 لاکھ روپے ہے(1,780,800,000) صوبائی وزیر کی ماہانہ تنخواہ ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر 9 لاکھ 60 ہزار روپے۔ سپیکر کی ایک لاکھ 25 ہزار سے بڑھا کر نو لاکھ 50 پچاس ہزار روپے ڈپٹی سپیکر کی ایک لاکھ 20 ہزار روپے سے بڑھا کر 7 لاکھ 75 ہزار روپے۔ پارلیمانی سیکرٹری کی تنخواہ 83 ہزار روپے سے بڑھا کر چار لاکھ 51 ہزار روپے وزیر اعلیٰ کے مشیر ایک لاکھ روپے سے بڑھا کر 6 لاکھ 65 ہزار روپے۔ سپشل اسسٹنٹ بھی اب ایک لاکھ روپے ماہانہ کے بجائے 6 لاکھ 65 ہزار روپے وصول کرے گا۔ اپوزیشن لیڈر کو بھی وزیر اتنی تنخواہ ملے گی جو 9 لاکھ 60 ہزار روپے ماہانہ ہو گی۔ واضح رہے کہ تنخواہوں میں یہ اضافہ ان کی بنیادی ماہانہ تنخواہ پر کیا گیا ہے۔ ان کو ملنے والا ٹی اے ڈی اے، فری میڈیکل، رہائش اور دیگر مراعات اس کے علاوہ ہیں۔ اب وزیروں مشیروں کی تعداد کا اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ کتنے ہوں گے لیکن رواج طریقہ کار کے مطابق ان کی تعداد بھی سو سوا سو سے کم کیا ہو گی۔۔ مختصر یہ کہ کئی ارب روپے اب خزانے پر اصافی بوجھ پڑے گا۔ دیکھا دیکھی دوسرے صوبے بھی اسی روش پر چل پڑیں گے۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ ممبران اسمبلی یا حکمرانوں کو اعلی شان مرعات نہیں ملنا چاہئے لیکن یہ سوچنے کا مقام ہے کہ جب سے عہدے کا مقصد مرعات انجوائے کرنا تصور کیا جانے لگا پاکستان نیچے اور حکمران اوپر جانے لگے عوام غریب اور حکمران امیر ہونے لگے۔ سرکاری عہدے داروں اور اہلکاروں کو ضرور سہولیات بھی دی جائیں اور مرعات بھی لیکن کیا عہدے صرف مرعات کے لیے حاصل کئے جاتے ہیں یا عوام کی خدمت اور ملکی ترقی کے لیے۔۔ حکمران ملک کا مستقبل ہیں یا یہ بچے، اگر بچے مستقبل ہیں تو کیا پاکستان کا یہی مستقبل ہے جو میں نے کراچی کی ایڈمنسٹریشن سوسائٹی کی کمرشل پٹی میں دیکھا۔ اس کا جواب کسی کے پاس ہے؟ آزاد جموں و کشمیر کے حکمرانوں سے عوام نے یہی سوال کیا تو وزیراعظم نے کابینہ ممبران کے ہمراہ اعلان کیا کہ یہ افراتفری بھارت فنڈڈ تھی۔ حکمرانوں کو ایسا کیوں لگتا ہے کہ جو آپ کی عیاشیوں پر سوال کرے وہ افراتفری ہے اور اس کے پیچھے بھارتی فنڈنگ ہوتی ہے یا وہ را کا ایجنٹ ہے۔ خدا را پلٹ آئیں اپنے اصل کی طرف جو مسلمان حکمرانوں کی میراث تھی جس اب یہود و ہنود نے اپنا کر ترقی کی ہے۔ اور آپ ان کے پرکھوں کی روش پر چل پڑھے۔۔