
کہنے کو تو اسے نیپال اور کشمیر کے زلزلے کے بعد ہونے والے تعمیراتی کاموں کے حوالے سے ایک توسیعی ڈھانچہ کہا جا سکتا ہے لیکن حقیقت میں اس جیسے منصوبے کی پہلے کوئی مثال دنیا میں نہیں ملتی 21 لاکھ مکانات کی تعمیر اور ایک کروڑ 60 لاکھ اس سے بڑی متاثرہ ابادی کی بحالی وہ بھی کسی ایک جگہ پر نہیں بلکہ 27 اضلاح میں دور افتادہ پسماندہ اور بدترین سیلاب بارشوں کے پانی کے بعد انفراسٹرکچر سے محروم علاقوں میں تعمیراتی سرگرمیاں یہ کوئی معمولی بات نہیں ۔ یہ 154 ملکوں کی آبادی سے زیادہ بڑی تعداد میں ان لوگوں کی مدد کا منصوبہ دنیا کی کوئی بھی حکومت خود سے تیار نہیں کر سکتی تھی یہ پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا بطور وزیر خارجہ غیر معمولی اقدام تھا جب وہ اس وقت کے وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ جنیوا کانفرنس میں پاکستان کا کیس لے کر پیش ہوئے اور سب سے زیادہ فنڈنگ حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کی ۔
اس منصوبے کے تحت سندھ میں 21 لاکھ متاثرہ خاندانوں کے گھر تعمیر کرنے کا کام شروع کیا گیا اور ان لوگوں تک رقم براہ راست پہنچانے کے لیے ان کے بینک اکاؤنٹس کھلوائے گئے 8 لاکھ سے زیادہ بینک اکاؤنٹس کھولے گئے کیونکہ متاثرین میں 90 فیصد لوگ ایسے تھے جنہوں نے اس سے پہلے کبھی بینک کی شکل نہیں دیکھی تھی اور کوئی بینک اکاؤنٹ نہیں رکھتے تھے زیادہ تر خواتین کے نام پر بینک اکاؤنٹس کو لے گئے اور انہیں مالکانہ حقوق دینے کا فیصلہ کیا گیا تین لاکھ روپے کی مجموعی رقم کو چار قسطوں میں دینے کا فیصلہ ہوا پہلی کیس 75 ہزار روپے جس کے ذریعے کسی بھی مکان کی بنیاد رکھی جاتی ہے اور اس کا کام مکمل ہونے کے بعد دوسری قسط ایک لاکھ روپے کی دی جاتی ہے جس کے ذریعے دیواریں کھڑی کی جاتی ہیں اور وہ کام مکمل ہونے کے بعد تیسری قسط ایک لاکھ روپے دی جاتی ہے جس سے چھت ڈالی جاتی ہے اور اس کے بعد باقی 25 ہزار روپے دیے جاتے ہیں جو کھڑکی دروازوں اور رنگ روغن کے لیے ہوتے ہیں ۔
اس منصوبے کے لیے بینکوں کی خدمات حاصل کی گئیں ایم ائی ایس سسٹم کے ذریعے خدمات حاصل کی گئیں مشہور اڈٹ فرمز کا کردار اہمیت کا حامل رہا بہترین اڈیٹرز کی شمولیت سے اس پروجیکٹ کی شفافیت یقینی بنائی گئی دنیا کا بہترین ڈیٹا بیس تیار کیا گیا اور اسے ڈیجیٹل انفراسٹرکچر میپنگ کے ساتھ جوڑا گیا ان ایک کروڑ 60 لاکھ لوگوں کا مکمل ڈیٹا قوائف معلومات حاصل کر کے ریکارڈ رکھا گیا سندھ حکومت کے پاس اس طرح ایک بہت بڑا ڈیٹا بینک بھی تیار ہو گیا اٹھ لاکھ سے زیادہ مکانات کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے اور دسمبر 2025 تک 21 لاکھ مکانات کی تعمیر کا ہدف حاصل کیا جانا ہے جس پر تیزی سے کام اگے بڑھ رہا ہے بلاول بھٹو زرداری اس منصوبے کی تیزی سے کامیابی پر کافی خوشی محسوس کرتے ہیں اور وزیراعلی بھی مطمئن ہیں کہ ان کی حکومت اتنا بڑا چیلنج قبول کر پائی اس منصوبے کے روح رواں خالد محمود شیخ ایک ہیرو کے طور پر سامنے آئے انہوں نے کمال ذہانت قابلیت اور صلاحیتوں کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے ایک ناممکن کام کو ممکن کر دکھایا ان کی ٹیم نے زبردست کام کیا اس منصوبے میں شفافیت کے اعلی معیار کو برقرار رکھا تصدیق کے عمل کو مختلف مراحل سے گزارا اتنی بڑی رقم کا لوگوں تک پہنچانا وہ بھی بغیر کسی بدنامی اور سکینڈل کے ۔ یہ کسی طور بھی کوئی سادہ معمولی کام نہیں تھا لیکن کہتے ہیں نیت صاف اور ارادہ مضبوط ہو تو منزل اسان ہو جاتی ہے اور ایسا ہی ہوا ۔ دنیا کے مختلف ملکوں سے ماہرین نے ا کر دیکھا مالیاتی اداروں کی ٹیموں نے جا کر دیکھا ملک بیرون ملک سے صحافیوں کی بڑی ٹیموں اور اینکرز نے جا کر پروگرام کیے لوگوں سے انٹرویو کیے ایک ایک سے پوچھا تو پتہ چلا کہ سب کچھ حقیقت ہے جن مکانات کی تعمیر کا کہا گیا تھا وہ گراؤنڈ پر موجود ہیں بنے ہیں تیار ہوئے ہیں جو لوگ وہاں رہ رہے ہیں ان کے انٹرویوز کیے سب نے بتایا کہ اس طریقے سے یہ سب کچھ ہوا نہ کوئی سفارش چلی نہ کوئی دھونس دھاندلی نہ رشوت ۔ سب کچھ کھلی انکھوں سے سب کے سامنے ہوا سب کے علاقے کے لوگوں نے اس میں شمولیت اختیار کی علاقہ کمیٹیاں بنی علاقے کی ٹیموں نے خود کاموں میں حصہ لیا لوگوں نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا لوگوں نے رقم وصول ہونے کے بعد خود خریداری کی بیچ میں کوئی ٹھیکے دار نہیں تھا کوئی کنٹریکٹر نہیں تھا سارے کام لوگوں نے خود کیے ایک دوسرے کی مدد بھی کی ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کیا اور مکانات کو کھڑا کر دیا جو مکانات تیار ہوئے وہ 2024 کی شدید بارش کے بعد بھی اپنی جگہ مضبوطی سے قائم رہے اور جو لوگ پہلے کچے گھروں میں رہ کر بارش میں پریشان ہوتے تھے انہیں کسی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑا نئے تعمیر کیے گئے گھر زمین سے چار پانچ فٹ لوگوں نے اونچے رکھے ہیں تاکہ بارش کا سیلاب کا پانی انہیں تنگ نہ کرے پ کے گھر بننے سے سب سے بڑا فائدہ یہ ہو رہا ہے کہ اب اگر سیلاب اتا ہے تو ان لوگوں کو اپنا گھر چھوڑ کر سڑکوں پر نہیں جانا پڑے گا پہلے ان کے کچے گھر ہوتے تھے زیادہ پانی انے سے بہ جاتے تھے اب گھر پکے ہیں اور ان کو دروازے کھڑکیاں بھی لگے ہوئے ہیں جس سے ان کو تحفظ کا احساس ہو رہا ہے معیار زندگی بہتر ہو رہا ہے اور اب صحت عامہ کے معاملات میں بھی بہتری ائے گی کیونکہ جب سیلاب سے متاثرہ لوگوں کو اپنے گھر بار چھوڑ کر سڑکوں پر جا بیٹھتے تھے تو وہاں بیمار ہو جاتے تھے مچھر ان کو تنگ کرتے تھے بیماریاں پھیلتی تھیں اب سب سے بڑا فائدہ یہ ہوگا کہ جتنی بھی بارش ہو جائے یہ گھر نہیں ڈوبیں گے نہ ٹوٹیں گے پانی گھر کے اندر داخل نہیں ہوگا اور یہ لوگ اپنے گھر کے اندر میں ارام سے سکون سے رہ سکیں گے اور 202 کی بارش میں یہ تجربہ ہو چکا ہے جن لوگوں کے مکانات تعمیر ہو چکے ہیں وہ بہت خوش ہیں انہوں نے اپنے مکانات کو بہت خوبصورتی سے سجایا ہے اور حکومت سندھ کے مشکور ہیں پچھلی مرتبہ جب وزیراعلی کچھ علاقوں میں گئے تو لوگوں نے ان کو ہار پہنائے اور ان کا شکریہ ادا کیا سب لوگ بلاول بھٹو زرداری کو مبارکباد دیتے ہیں ان کا شکریہ ادا کرتے ہیں جن لوگوں کے مکانات ابھی تعمیر کے مراحل میں ہیں ان کی خواہش ہے کہ جلد ان کے مکانات کی تعمیر مکمل ہو سکے ۔ حکومت کا منصوبہ اب ہے کہ ان مکانات کی تعمیر کے بعد ان لوگوں کے لیے مزید سہولتیں فراہم کی جائیں اس حوالے سے مختلف اسکیموں کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور وزیراعلی چاہتے ہیں کہ اس سلسلے میں مزید اقدامات اگلے بجٹ میں رکھے جائیں کچھ اس کی بھی حکومت اپنے فنڈ سے کرے گی اور کچھ کے لیے اسے مزید فنڈز درکار ہوں گے ان منصوبوں کو بھی دنیا کے سامنے پیش کیا جائے گا تمام کچے گھروں کو پکا بنانے کا ارادہ ظاہر کیا جا رہا ہے یہ بھی ایک بہت بڑا کام ہوگا لیکن ان لوگوں کی زندگی بدل جائے گی جو کئی نسلوں سے کچے گھروں میں رہتے ا رہے ہیں اور کبھی پکا گھر نہیں دیکھا ۔
Load/Hide Comments























