داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کا ساتواں جلسہ تقسیم اسناد، 260 گریجویٹس طلباء کو ڈگریاں تفویض، ماسٹرز کا پہلا بیچ بھی پاس آؤٹ

معیاری تعلیم ہی ادارے کی پہچان ہے، ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے یونیورسٹی کو جھگڑوں سے نکال کر ماحول بہتر کیا، نثار کھوڑو
7سال میں ساتواں کانوکیشن ، یونیورسٹی کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا ، وائس چانسلر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی
کراچی:  داؤد یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کا ساتواں جلسہ تقسیم اسناد منگل 14؍ جنوری 2020ء کو جامعہ داؤد کے جناح کیمپس کے سبزہ زار میں منعقد کیا گیا۔ جلسہ تقسیم اسناد کی صدارت مشیر تعلیم و پرو چانسلر جناب نثار احمد کھوڑو نے کی ۔ داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی میں شعبہ انجینئرنگ کے Batch-16اور شعبہ آرکٹیکٹ کے Batch-15 کے 260؍ طلبہ و طالبات نے گریجویشن مکمل کی اور انہیں کانوکیشن میں ڈگریاں تفویض کی گئیں جبکہ امتیازی نمبر حاصل کرنیوالوں کو گولڈ اور سلور کے تمغے دیئے گئے۔ جلسہ تقسیم اسناد میں داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی میں نئی تاریخ رقم ہوئی اور ماسٹرز آف انجینئرنگ کی ڈگری لینے والے پہلے بیچ نے بھی پاس آؤٹ کیا۔ دائود یونیورسٹی کے شعبہ انرجی اینڈ انوائرمنٹ انجینئرنگ کی طالبہ رابعہ سعید ولد عبدالسعید نے یونیورسٹی میں ٹاپ پوزیشن حاصل کرتے ہوئے گولڈ میڈل حاصل کیا جبکہ انجینئرنگ فیکلٹی میں بھی رابعہ سعید نے پہلی پوزیشن حاصل کی ، آرکیٹیکٹ فیکلٹی میں ثناء اختر ولد اختر علی نے پہلی پوزیشن اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔

یونیورسٹی کے تمام 9؍ شعبوں میں پہلی پوزیشن حاصل کرنےوالے 9؍ طلباء کو سلور میڈل سے نوازا گیا جس میں ثناء اختر ولد اختر علی (شعبہ آرکیٹک) ، عبدالمعید صدیقی ولد عبدالمجید صدیقی (شعبہ کیمیکل انجینئرنگ) ،طیبہ ولد ثناء اللہ (شعبہ کمپیوٹر سسٹم انجینئرنگ) ، محمد شہریار علی ولد عبدالصمد (شعبہ الیکٹرونک انجینئرنگ) ، رابعہ سعید ولد عبدالسعید (انرجی انوائرمنٹ انجینئرنگ)، عماد سرور ولد غلام سرور پٹھان (انڈسٹریل انجینئرنگ) ، سلمان محمدی ولد اختر محمدی (میٹرلرجی اینڈمیٹریل انجینئرنگ) ،فرقان علوی ولد سرفراز احمد علوی (شعبہ پٹرولیم گیس انجینئرنگ) ، عریبہ تحسین ولد مختار احمد (شعبہ ٹیلی کمیونیکشن انجینئرنگ) شامل ہیں۔ کانووکیشن میں وائس چانسلر داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے معزز پرو چانسلر اور مشیر تعلیم نثار احمد کھوڑو کو خوش آمدید کہا اور جلسہ تقسیم اسناد سے خطاب میں کرتے ہوئے کہا کہ داؤد کالج کو یونیورسٹی کا درجہ ملنے کے بعد پہلے وائس چانسلر کی حیثیت سے جامعہ کا چارج سنبھالا اور اب یونیورسٹی ایک بہترین تعلیمی ادارے میں تبدیل ہوچکی ہے جہاں صبح اور شام میں باقاعدگی سے کلاسز کا انعقاد ہماری کامیابی کی ترجمانی کررہا ہے ، گزشتہ سات برس میں داؤد یونیورسٹی نے تیزی سے ترقی کی اور نصابی و غیر نصابی سرگرمیاں اپنے عروج پر رہیں، سات سال کے عرصے میں ترقی اور استحکام توجہ کا مرکز رہی ، ہم نے گرتے ہوئے ادارے کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی کا درجہ ملنے کے ساتویں سال میں ساتواں کانووکیشن منعقد کرکے دائود یونیورسٹی نے ثابت کیا کہ وہ انجینئر اور آرکیٹکٹ پیدا کرکے معاشرے کی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈال رہی ہے، ہم نے تاریخ رقم کرتے ہوئے ماسٹرز ڈگری کا اجراء شروع کیا اورآج پہلا بیج پاس آؤٹ ہوا جبکہ 191؍ طلباء ماسٹرز پروگرام اور 25پی ایچ ڈی کے اسٹوڈنٹس انرول ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ میں تہہ دل سے مشیر تعلیم و پرو چانسلر نثار احمد کھوڑو کا شکرگزار ہوں جو داؤد یونیورسٹی تشریف لائے۔ طلباء سے خطاب کرتے ہوئے پرو چانسلر نثار احمد کھوڑو نے کہا کہ سندھ حکومت کی توجہ اعلیٰ تعلیم پر رہی ہے ، ہم خود کو بہتر کرنے میں مصروف ہیں ، ہائیر ایجوکیشن میںکوئی کمی چھوڑنا نہیں چاہتے ، معیاری تعلیم ہی دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرے گی اور داؤد یونیورسٹی کا معیار تعلیم ہی اس کی پہچان بن گیا ہے ، ڈاکٹر فیض اللہ عباسی نے یونیورسٹی کو جھگڑوں سے نکال کر ماحول بہتر کیا ، سندھ حکومت داؤد انجینئرنگ یونیورسٹی کو سہولتیں فراہم کرتی رہے گی۔ اس موقع پر پرو وائس چانسلر ڈاکٹر پیر روشن دین شاہ راشدی ، ڈین فیکلٹی آف انجینئرنگ ڈاکٹر عبدالوحید بھٹو ، اکیڈمک کوآرڈینٹر ڈاکٹر دوست علی خواجہ ، رجسٹرار ڈاکٹر سید آصف علی شاہ ، کنٹرولر راشد حسین ابڑو، سینیٹ اور سینڈیکٹ کے ارکان ، تمام شعبوں کے چیئر پرسنز ، طلباء اور والدین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔