
جیکب آباد ڈائری
رپورٹ ایم ڈی عمرانی

جیکب آباد پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما رکن قومی اسمبلی میر اعجاز حسین جکھرانی نے کہا ہے کہ ہمارے پاس مسلم لیگ ن کے سوائے کوئی آپشن نہیں تھا، مجبوری میں ن لیگ کے ساتھ کھڑے ہیں، وفاقی حکومت پیپلز پارٹی کے ووٹوں پر کھڑی ہے، پیپلز پارٹی کے بغیر حکومت ایک دن کی مہمان ہے، ہمارے ساتھ کئے گئے معاہدات پر عمل کیا جائے کہی ایسا نہ ہو کہ ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے اور ہم یہ کہنے پر مجبور ہوجائیں کہ اب بہت ہوچکا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جیکب آباد میں ڈرینج اور سی سی بلاک کی اسکیموں کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا، انہوں نے کہا کہ سیاست میں مزاکرات کے دروازے بند نہیں کرنا چاہئے کسی بھی مسئلے کا حل ڈائیلاگ ہی ہے، باقی انا، ضد اور مسائل پیدا کرنے سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید الجھ جاتے ہیں، تحریک انصاف کو پہلے مزاکرات کی طرف آنا چاہئے تھا لیکن اب بھی اچھی بات ہے کہ وہ مزاکرات کی طرف آرہے ہیں، پیپلز پارٹی کے رہنما نے کہا کہ وفاقی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہیں ہیں
مسلم لیگ ن کا وطیرہ رہا ہے کہ وہ جب پھنس جاتی ہے تو ہر بات ماننے کو تیار ہوجاتی ہے اور جب مسائل سے نکلتی ہے تو اس کے تیور بدل جاتے ہیں، مسلم لیگ ن کے ساتھ ہمارے جو مزاکرات ہوئے اور جو معاہدے طے پائے وہ دستاوزات کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہیں جن باتوں پر اتفاق ہوا ہے ان پر عمل کیا جائے بار بار مزاکرات کی میز پر بیٹھنا اچھی روایت نہیں مسلم لیگ ن کو چاہئے کہ ہمارے ساتھ جو معاہدے ہوئے ہیں ان پر عملدرآمد کیا جائے، ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ انتخابات کے بعد ہمارے پاس 3 آپشن تھے پہلا آپشن تھا کہ ہم انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہ کریں لیکن ہماری پارٹی نے فیصلہ کیا کہ حالات کیسے بھی ہو جمہوری عمل کو جاری رکھا جائے، دوسرا آپشن عمران خان اور تیسرا آپشن نواز شریف تھا ہم نے پہلے عمران خان کو دعوت دی کہ وہ آئیں اور حکومت بنائیں لیکن انہوں نے کہا کہ ہم چوروں اور ڈاکوؤں کے ساتھ حکومت نہیں بنائیں گے پھر ہمارے پاس مسلم لیگ ن کے سوائے کوئی آپشن نہیں تھا اس لیے مجبوری میں ہم نے ملک و ملت کے لیے مسلم لیگ ن کا ساتھ دیا لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ ہماری بات نہ مانیں اگر ہماری باتیں نہ مانی گئی تو حکومت ایک دن کی مہمان بھی نہیں، اعجاز جکھرانی نے کہا کہ مولا نا فضل الرحمن زیرک سیاستدان ہیں 26 ویں ترمیم میں انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی باتوں کو ترجیح دیکر ہماری بات کو تسلیم کیا اور 26ویں ترمیم میں ہماری مدد کی۔

جیکب آباد سیکورٹی وجوہات،پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفرایکسپریس کو جیکب آباد میں روک دیا گیا، مسافروں کو مشکلات کا سامنا، مسافروں کو کوئٹہ تک کا کرایہ ادا کیا گیا۔ تفصیلات کے مطابق سیکورٹی وجوہات کی بنا پر پشاور سے کوئٹہ جانے والی جعفرایکسپریس کو جیکب آباد ریلوے اسٹیشن پر روک دیا گیا اور مسافروں کو جیکب آباد سے کوئٹہ تک کا کرایہ ادا کرکے بذریعہ روڈ کوئٹہ جانے کی ہدایات کی گئیں، ریلوے ذرائع کے مطابق سیکورٹی خدشات کی بنا پر جعفر ایکسپریس کو کوئٹہ کے لیے روانہ نہیں گیا جبکہ جمعرات کو کوئٹہ سے پشاور جانے والی جعفر ایکسپریس کو بھی منسوخ کردیا گیا ہے اور بکنگ کرانے والے مسافروں کو مکمل ریفنڈ کیا جائے گا، ٹرینوں کی آمد ورفت معطل ہونے کی وجہ سے مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔



جیکب آباد میں سی آئی اے پولیس کی ذیادتیوں کی خلاف خواتین کا احتجاج۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے حق باہو محلہ کی رہائشی خواتین مسمات عجیباں، مسمات شمشاد، مسمات آمنہ کھرل اور دیگر نے پریس کلب پہنچ کر سی آئی اے پولیس کی ذیادتیوں کے خلاف احتجاج کیا، اس موقع پر خواتین کا کہنا تھا کہ سی آئی اے پولیس نے بلاجواز ہمارے گھر پر دھاوا بول کر ہمارے 4 افراد کو گرفتار کرلیا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے چار مردوں ہمت علی، اسرار علی، نثار علی، امداد علی کو گرفتار کرکے لاکپ کیا گیا ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہمارے گرفتار افراد کو فلفور آزاد کیا جائے۔
جیکب آباد، خونی تنازعہ کا جرگہ، 9 قتل ثابت، 2 کروڑ 73 لاکھ روپے جرمانہ عائد۔ جیکب آباد میں قمبرانی اور معرفانی قبائل کے درمیان جاری خونی تنازعہ کا جرگہ مولاداد میں نور الرحمن جکھرانی کے بنگلے پر برہان چانڈیو، بابل بھیو، شفقت جکھرانی کی سرپنچی میں ہوا، جرگے میں فریقین کی باتیں سننے کے بعد دونوں قبائل کے مشیروں چنگیز پہنور، جاگھن بھیو، نجف خان کماریو کے مشورے سے فتویٰ تیار کی گئی، فتویٰ کے مطابق معرفانی برادری پر 6 قتل اور 2 زخمی ثابت ہوئے اور قمبرانی بر…























