زاہد بختاوری چیئرمین تحریک دفاع پاکستان نے کہا کہ ایک قوم بننے اور پاکستان کا وقار بین الاقوامی سطح پر بحال کرنے کے لیے قائداعظم کی تعلیمات اور پاکستان کی نظریاتی اساس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے،


25 دسمبر 2024

راولپنڈی ()

زاہد بختاوری چیئرمین تحریک دفاع پاکستان نے کہا کہ ایک قوم بننے اور پاکستان کا وقار بین الاقوامی سطح پر بحال کرنے کے لیے قائداعظم کی تعلیمات اور پاکستان کی نظریاتی اساس پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے،آج ہم قائداعظم کے افکار کو بھلا بیٹھے ہیں،جس کے نتیجے میں پاکستان دو حصوں میں تقسیم ہوا۔آپس کے اختلافات نے ہمارے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔جو ملک کا حصہ بچ چکا ہے، اسے بچانے کے لیے ہمیں تاریخ اور اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔

انھوں نے یہ بات بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 148ویں سالگرہ کے موقع پر کہی۔زاہد بختاوری چیئرمین تحریک دفاع پاکستان نے کہا کہ پاکستان کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا،اس وقت اس بات کا اعادہ کیا گیا کہ مملکت پاکستان مذیب،رنگ و نسل کی تفریق کے بنا ,شہریوں،اقلیتوں،خواتین کو
یکساں بنیادی حقوق فراہم کرنے کی ذمہ دار ہوگی۔صاف و شفاف انصاف فراہم کیا جائے گا،اور اس طرح سے جمہوری،اسلامی اور فلاحی ریاست تشکیل دی جائے گی ،جہاں پر سب کے جان و مال کو تحفظ حاصل ہوگا ۔انھوں نے مزید کہا کہ قائداعظم کے افکار اتحاد ،ایمان ،و نظم و ضبط پاکستان ریاست کے بنیادی ستون ہیں، جس کا فقدان آج ہر ریاستی ادارہ میں نمایاں طور پر دکھائی دیتا یے۔یہ بات سب جانتے ہیں کہ قائد اعظم کا دو قومی نظریہ پاکستان کی بنیاد کی اساس بنا۔لیکن آج وہ پاکستان ہمیں کہیں دکھائی نہیں دیتا ،اگر پاکستان کو بچانا ہے تو ہمیں قائد اعظم کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔زاہد بختاوری کا کہنا تھا کہ آپس کی چپقلش نے ہمارے ملک کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔جو ملک کا حصہ بچ چکا ہے اسے بچانے کے لیے ہمیں تاریخ اور اپنی ناکامیوں سے سبق سیکھنا ہوگا۔انھوں نے کہا کہ آج ہم بین الاقوامی سطح پر ہم اپنا وقار کھو رہے ہیں۔ بنیادی حقوق اور عدلیہ کی آزادی کو بحال کرنا ہوگا۔ ہمیں چاہیے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک پیج پر لایا جائے۔تاکہ ماضی سے سبق حاصل کیا جاسکے۔ابھی بھی وقت ہے کہ اس ڈوبتے ہوئے پیارے پاکستان کو ہم بچا لیں۔جو قربانیاں ہمارے آباؤاجداد نے دی انھیں یاد رکھنا ہوگا۔قائد اعظم کے افکار پر چلنے میں ہی عافیت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔