تحریر: مجاہد حسین وسیر

بانی پاکستان کے طور پر بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کا کارنامہ ان تمام چیزوں پر حاوی ہے جو انہوں نے طویل اور پرہجوم عوامی زندگی میں کیا۔ کسی بھی معیار کے مطابق ان کی زندگی ایک واقعاتی زندگی تھی، ان کی شخصیت کثیر جہتی تھی کسی نہ کسی وقت وہ صدی کے پہلے نصف کے دوران ہندوستان کے سب سے بڑے قانونی چراغوں میں سے ایک تھے۔ ہندو مسلم اتحاد کے سفیر، ایک عظیم آئین ساز، ایک ممتاز پارلیمنٹرین، ایک اعلیٰ درجے کا سیاست دان، ایک ناقابل تسخیر آزادی پسند، ایک متحرک مسلم رہنما، ایک سیاسی حکمت عملی اور سب سے بڑھ کر جدید دور کے عظیم قوم سازوں میں سے ایک۔ تیس سال سے زائد عرصے تک، انھوں نے پوری کوشش کی کہ انہیں حکمران انگریزوں اور متعدد ہندوؤں، جو ہندوستان کی آبادی کا غالب طبقہ ہے دونوں کی طرف سے تسلیم کرایا جائے۔ انھوں نے برصغیر میں ایک باوقار وجود کے لیے مسلمانوں کے موروثی حقوق کے لیے انتھک اور بے دریغ جدوجہد کی۔ 25 دسمبر 1876 کو کراچی کے ایک ممتاز تجارتی گھرانے میں پیدا ہوئے اور سندھ مدرسۃ الاسلام اور جائے پیدائش کے کرسچن مشن اسکول میں تعلیم حاصل کی۔ جناح نے 1893 میں لنکنز ان میں شمولیت اختیار کی نوجوانمحمد علی جناح نے شہرت حاصل کی اور چند سالوں میں بمبئی کے سب سے کامیاب وکیل بن گئے۔ ایک بار جب وہ قانونی پیشے میں مضبوطی سے قائم ہو گئے تو محمد علی جناح نے باقاعدہ طور پر 1905 میں انڈین نیشنل کانگریس کے پلیٹ فارم سے سیاست میں قدم رکھا۔ جنوری 1910 میںمحمد علی جناح نو تشکیل شدہ امپیریل لیجسلیٹو کونسل کے لیے منتخب ہوئے۔ 1906 میں سیاست میں آنے کے بعد سے تقریباً تین دہائیوں تکمحمد علی جناح پرجوش طور پر یقین رکھتے تھے اور ہندو مسلم اتحاد کے لیے محنت کرتے رہے۔ گوکھلے جو گاندھی سے پہلے سب سے بڑے ہندو رہنما تھے نے ایک بار ان کے بارے میں کہا تھامحمد علی جناحکے اندرجو اصل چیز ہے وہ تمام فرقہ وارانہ تعصب سے آزادی ہے جو انہیں ہندو مسلم اتحاد کا بہترین سفیر بنائے گی ۔پنجاب، بنگال، سندھ، شمال مغربی سرحد، آسام، بہار اور متحدہ صوبوں میں، مختلف مسلم رہنماؤں نے اپنی اپنی صوبائی جماعتیں قائم کر رکھی تھیں تاکہ وہ اپنی خدمت کے لیے اپنی جماعتیں قائم کر سکیں۔ صورتحال انتہائی مایوس کن تھی اس موڑ پرمحمد علی جناح کو واحد تسلی علامہ اقبال کے پاس تھی جو ان کے ساتھ ثابت قدم رہے اور پردے کے پیچھے سے ہندوستانی سیاست کا رخ ترتیب دینے میں مدد کی۔انہوں نے صوبائی مسلم رہنماؤں سے التجا کی کہ وہ اپنے اختلافات ختم کر کے لیگ کے ساتھ مشترکہ کاز بنائیں۔ انہوں نے مسلم عوام کو خود کو منظم کرنے اورمسلم لیگ میں شامل ہونے کی تلقین کی۔ انہوں نے گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 پر مسلمانوں کے جذبات کو ہم آہنگی اور سمت دی۔ انہوں نے 1937 کے اوائل میں ہونے والے انتخابات کے لیے ایک قابل عملمسلم لیگ کا منشور بھی مرتب کیا۔ 1940 میں پاکستان کے لیے مسلم مطالبے کی تشکیل نے ہندوستانی سیاست کی نوعیت اور طرز پر زبردست اثر ڈالا۔ ایک طرف اس نے ہمیشہ کے لیے ہندوؤں کے خوابوں کو چکنا چور کردیا۔ 1947 میں قیام پاکستان کے وقت اسے اپنے عروج کی طرف لے جانے میں قائداعظم محمد علی جناح سے زیادہ فیصلہ کن کردار کسی نے ادا نہیں کیا۔ پاکستان کے معاملے کی ان کی طاقتور وکالت اور پاکستان کے مطالبے کی تشکیل کے بعد ہونے والے نازک مذاکرات میں ان کی قابل ذکر حکمت عملی تھی خاص طور پر جنگ کے بعد کے دور میں جس نے پاکستان کو ناگزیر بنا دیا۔پاکستان بننے کے بعد قائداعظم محمد علی جناح کو مسلم لیگ نے پاکستان کا گورنر جنرل نامزد کیا جب کہ کانگریس نے ماؤنٹ بیٹن کو ہندوستان کا پہلا گورنر جنرل مقرر کیا۔ یہ سچ کہا جاتا ہےپاکستان افراتفری میں پیدا ہوا تھا۔ درحقیقت دنیا میں بہت کم قوموں نے اپنے کیریئر کا آغاز کم وسائل کے ساتھ اور زیادہ غدار حالات میں کیا ہے۔ نئی قوم کو مرکزی حکومت، دارالحکومت، انتظامی مرکز، یا منظم دفاعی قوت کا وارث نہیں ملا۔ پنجاب کے ہولوکاسٹ نے مواصلاتی نظام درہم برہم ہونے کے ساتھ وسیع علاقے کو تباہی سے دوچار کر دیا تھا۔ اس نے ہندو اور سکھ کاروباری اور انتظامی طبقوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی کے ساتھ معیشت کو تقریباً بکھیر کر رکھ دیا۔خزانہ خالی تھا بھارت نے پاکستان کو اپنے کیش بیلنس کا بڑا حصہ دینے سے انکار کر دیا تھا۔اس لیے یہ اپنے مشن کی تکمیل پر انتہائی اطمینان کے احساس کے ساتھ تھا کہ قائد اعظم نے 14 اگست 1948 کو اپنے آخری پیغام میں قوم سے کہا: ’’تمہاری ریاست کی بنیادیں رکھ دی گئی ہیں اور اب یہ تمھارے لیے ہے، جتنی جلدی ہو سکے تعمیر کرو۔21 مارچ 1948 ڈھاکہ میں ایک میٹنگ میں فرمایااب آپ کا تعلق ایک قوم سے ہے۔ اب آپ نے ایک وسیع و عریض علاقہ بنا لیا ہے۔ یہ سب تمہارا ہے اس کا تعلق کسی پنجابی یا سندھی سے نہیں ہے اور نہ ہی پٹھان، یا بنگالی ہونے سے مگر افسوس کی بات ہے کہ 1971 میں ہمارا ایک بازو اپنے جسم سے الگ ہونے کے باوجود ہم نے سبق نہیں سیکھا اور آج تک ہم قائد اعظم کے فرمان کے خلاف جا رہے ہیں۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں اس وقت مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومتیں ہیں بجائے اس کے سب ایک ساتھ مل کر پاکستان کو مضبوط کرنے کے ایک دوسرے کی ٹنگیں کھینچنے میں مصروف عمل ہیں۔یکم اپریل 1948 کو ایک خطاب میں کہا خدا کے لیے یہ صوبائیت چھوڑ دوپاکستان کے روشن مستقبل کے بارے میں میرے ذہن میں کوئی شک نہیں ہے۔یہ ملک انسانوں اور مادی وسائل سے مالا مال ہے، ہمت اور عزم سے اپنے مقصد کو حاصل کرنا چاہیے ایک مضبوط اور خوشحال پاکستان کی تعمیر کریں۔14 اپریل 1948 کو پشاور ہاوس میں حکومتی افسران سے بات کرتے ہوئے فرمایا اگر آپ پاکستان کا وقار اور عظمت بلند کرنا چاہتے ہیں تو آپ کو کسی بھی دباؤ کا شکارنہیں بنناعوام کے خادم بن کر اپنا فرض ادا کریں حکومتیں آتی جاتی ہیں، وزیراعظم آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ، وزیر آتے اور جاتے ہیں لیکن آپ کھڑے رہتے ہیں۔ اس لیے آپ کے کندھوں پر بڑی ذمہ داری ڈال دی گئی ہے۔ آپ کا کوئی ہاتھ نہیں ہونا چاہیےکسی سیاسی جماعت یا کسی سیاسی رہنما کی حمایت کرنا۔قائد اعظم کے اس دنیا فانی سے جانے کے بعد پاکستان کی بیورو کریسی نے ان کے سارے فرمودات کو بھی دفن کر دیا۔ وہ دن اور آج کا دن بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ نے ہر وہ کام کیا جو ان کے کرنے والا نہیں تھا۔ اداروں نے اپنی آئینی حدود کو بھول کر اور سیاست دانوں کا مہرہ بن کر اس ملک کے ساتھ کھلواڑ کر دیا جس کے بعد پاکستان دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے کی بجائے زوال پذیر ہوتا چلا گیا۔یکم جولائی 1948 کو قائد اعظم نے اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا افتتاح کرتے ہوئے فرمایا مغرب کے اقتصادی و معاشی نظام نے انسانیت کو ناقابلِ عبور مشکلات میں پھنسا دیا ہے۔ہمیں ایک ایسا نیا اقتصادی نظام تشکیل دینا ہوگا جو انسانی مساوات اور معاشرتی عدل کے اسلامی اصولوں سے ہم آہنگ بھی ہو اور عہد حاضر کے تقاضوں کو بھی پورا کر سکے۔ ہم نے باقی تمام یقین دہانیوں اور عملی اقدامات کی طرح اس کو بھی ہوا میں اڑا دیا۔ جب تک ہم نے قائد کے فرمان پر عمل کیا اس وقت تک اس ملک کی عوام اور حکمرانوں کو کہیں اور دیکھنے کی ضرورت نہیں پڑی پھر وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہماری یادداشت کمزور پڑنا شروع ہو گئی ہم نے وہ تمام باتیں بھولنا شروع کر دیں اور دوسروں ملکوں اور بین الاقوامی اداروں سے بھیک مانگنا شروع کر دی۔ آج حالات یہ ہیں کہ پاکستان قرضوں کی دلدل میں اس قدر دھنس چکا ہے کہ ہم اپنا کوئی فیصلہ نہیں لے سکتے، اپنے ملک کا بجٹ اپنی مرضی سے نہیں بنا سکتے، عوام کو ریلیف نہیں دے سکتے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ایک وہ ملک جو آزاد اور خود مختار ملک بنا تھا آج آئی ایم ایف کی غلامی کا طوق گلے میں ڈالے سسک رہا ہے۔ اس ملک کو ایک عظیم ملک بنانا ہو گا جو مسلم امہ کے لیے ایک رول ماڈل کا درجہ رکھے اس پیغام کے ساتھ قائد اعظم محمد علی جناح 11 ستمبر 1948 کو اس دنیا فانی سے کوچ کر گئے ۔ اے قائد ہم شرمندہ ہیں کہ آپ کے خوابوں کو سچ نا ثابت کر سکے۔























