
24 دسمبر 2024
بروز منگل
اسلام آباد
پاکستان نیشنل کونسل آف آرٹس اور ڈولفن کمیونیکشن کے اشتراک سے پنجاب کے مشہور صوفی شاعر وارث شاہ کی شاعری پر مبنی لوک کہانی “ہیروارث شاہ” ایک اسٹیج ڈرامے کی صورت میں اسلام آباد میں پیش کی گئی،اس کا سکرپٹ ارشد چہال نے لکھا، ہدایت کارہ محترمہ عاصمہ بٹ تھیں،جب کہ معاون ہدایت کار محمد سلمان سنی تھے۔ نمایاں فنکاروں میں وارث شاہ کا کردار شبیرشاہ،رانجھے کاکردار کلیم خان ،ہیر کا کردار نرمل علی،کیدو کا کردار محبوب الیاس ،کھیڑے کا کردار عمران رشدی نے انجام دیا،عاصمہ بٹ کا ڈارمہ دیکھنے کے لئے شائقین کی بڑی تعداد ہال میں موجود تھی۔کرداروں کی بے ساختہ اداکاری نے سما باندھے دیا اور شائقین کی خوب داد سمیٹی۔ڈرامہ دیکھنے کے لیے آئے ہوئے شائقین کا کہنا تھا کہ وارث شاہ کی زندگی پر مبنی ڈرامے نے جڑواں شہروں کے رہائشیوں کو معیاری تفریح فراہم کی،تمام اداکاروں نے بہترین اداکاری دکھا کر اپنے فن کے ساتھ انصاف کیا،محترمہ عاصمہ بٹ نے ہمیشہ کی طرح بہترین ڈرامہ پیش کیا۔جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ماضی کی طرح آج بھی اسٹیج پر پیش کیے جانے والے ڈرامے ہماری ثقافت و روایات کی ترجمانی کرتے ہیں۔عاصمہ بٹ کو چاہیے کہ اس طرح کے تاریخی کرداروں پر مشتمل مزید ڈرامہ پیش کریں تاکہ لوگ مصروف زندگی سے کچھ وقت نکال کر اپنی فیملی کے ہمراہ ڈرامہ دیکھنے آئیں اور محضوظ ہوسکیں۔اس موقع پر ساتھی اداکاروں کا کہنا تھا کہ اداکاری، ڈائیلاگ ڈیلیوری اور اسکرپٹ کی تکنیک کے ساتھ مضبوط تاثرات کو یکجا کرکے ایک بہترین ڈرامہ تشکیل دیا جاتا ہے۔دوسری جانب عاصمہ بٹ کا کہنا تھا کہ اس طرح کے ڈرامہ شائقین کو معیاری تفریح فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ نوجوانوں میں اپنی ثقافت اور روایات کو روشناس کروانے میں مدد دیتے ہیں،جو امن، محبت اور ہم آہنگی کے پیغام کو فروغ دیتے ہیں کہ آج بھی جڑواں شہروں میں تھیٹر کے تصور کو زندہ رکھنے والے لوگ موجود ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔























