جیکب آباد شہر سے بہت سی اہم خبریں۔

جیکب آباد ڈائری رپورٹ ایم ڈی عمرانی

جیکب آباد میں نوجوانوں کی بڑی تعداد آئس کے نشے کی لت میں مبتلا ہونے لگی، نشہ کرنے کے لیے نوجوان چوریاں کرنے لگے، پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں نوجوانوں کی بڑی تعداد آئس کا نشہ استعمال کرنے لگی ہے، شہر بھر میں باآسانی آئس ملنے کی وجہ سے نوجوان نسل اس زہر قاتل نشہ کی لت میں مبتلا ہونے لگے ہیں، ملنے والی اطلاعات کے مطابق 12 سال سے لیکر 25 سال تک کے نوجوان آئس کا نشہ کررہے ہیں، نشے کے پیسے نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان اپنے گھروں سمیت باہر بھی چوریاں کررہے ہیں جس کی وجہ سے نوجوانوں کے والدین سخت پریشان ہیں، شہر میں سرعام آئس سمیت ہیروئن و چرس کی فروخت کے باوجود پولیس خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے، معلوم ہوا ہے کہ نوجوان رات کے اوقات میں محفلیں سجا کر آئس سمیت دیگر نشہ استعمال کررہے ہیں جبکہ شہر کے بعض ہوٹلوں میں بھی سرعام نشے کا اہتمام کیا جارہا ہے، شہریوں نے نوجوانوں کے آئس سمیت دیگر نشے کی لت میں مبتلا ہونے پر تشویش کا اظہار کیا ہے، سماجی تنظیم سی ڈی ایف کے رہنما نصر اللہ نائچ نے بتایا کہ کسی بھی قوم کا سرمایہ نوجوان ہوتے ہیں لیکن ہمارے نوجوانوں کو نشے کی لت میں مبتلا کرکے تباہ کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ شہر بھر میں آئس، ہیروئن، چرس سمیت دیگر نشہ آور چیزیں نوجوانوں کو باآسانی مل رہی ہے جس کی وجہ سے نوجوان بڑی تعداد نشے کے عادی بن چکے ہیں، انہوں نے کہا کہ پولیس منشیات فروخت کرنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے نوجوان نسل کو تباہی سے بچائے۔


جمعیت علماء اسلام ف کے صوبائی رہنماء ڈاکٹر عبد الغنی (اے جی ) انصاری
================

جے یو آئی سندھ کے ترجمان ڈاکٹر اے جی انصاری نے شہید ڈاکٹر خالد محمود سومرو قتل کیس کے فیصلے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جرم ثابت ہونے کے باوجود قاتلوں کو پھانسی کی سزا دینے کے بجائے عمر قید کی سزا سنانے کے خلاف ہائی کورٹ جائیں گے، 10 سال تک انصاف کے لیے عدالت کا دروازہ کھٹکٹھایا ہے اور آگے ہمیں عدلیہ سے انصاف کی امید ہے، انہوں نے کہا کہ قاتلوں کو پھانسی کی سزا دلانے تک ہماری قانونی جنگ جاری رہے گی ہم ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ تک جائیں گے، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عدالت کے فیصلے جلد نہ ہونے کی وجہ سے لوگ خود فیصلے کرتے ہیں لیکن ہم نے ایک دن بھی قانون کے خلاف راستہ اختیار نہیں کیا ہم جمہوریت اور قانون پسند جماعت کے کارکن ہیں ہمیں قانون کو

مولانا خالد محمود سومرو کی فائل تصویر
======================

ہاتھ لینے کا کبھی درس نہیں دیا گیا اور ہم اپنے کارکنان سے بھی اپیل کرتے ہیں کہ وہ قانون کا احترام کریں اور قانون کو ہاتھ میں نہ لیں، انہوں نے کہا کہ ادھورا نہیں پورا انصاف فراہم کرکے ورثہ اور کارکنان کو انصاف فراہم کیا جائے۔

جیکب آباد، موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے فائرنگ کرکے 2 افراد کو قتل کردیا۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد کے علاقے باہو کھوسو کے تھانہ آر ڈی 44 کی حدود ڈرہپ گھیر کے مقام پر موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے 2 افراد 20 سالہ فداحسین مرہیٹو اور 15 سالہ پپو مرہیٹو کو قتل کرکے فرار ہوگئے، اطلاع پر حدود کی پولیس اور ورثہ پہنچے لاشوں کو تعلقہ اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ضروری کاروائی کے بعد لاشیں ورثہ کے حوالے کی گئی، حدود کی پولیس کے مطابق مقتول فدا حسین اور پپو مرہیٹو پہنور سنڑی سے اپنے گاؤں جارہے تھے کہ ڈرہپ گھیر کے مقام پر موٹر سائیکل سوار نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے انہیں قتل کیا، پولیس کے مطابق واقعہ مرہیٹہ برادری کے دو گروپوں میں رشتہ کے دیرینہ تنازعہ کی وجہ سے پیش آیا ہے واقعہ کی مزید تفتیش کررہے ہیں۔

جیکب آباد میں مجلس وحدت المسلمین کی جانب سے پارا چنار میں امن و امان کی خراب صورتحال کے خلاف مظاہرہ اور دھرنا، امن و امان بحال کرنے کا مطالبہ۔ تفصیلات کے مطابق جیکب آباد میں مجلس وحدت المسلمین کی جانب سے پارا چنار میں امن و امان کی خراب صورتحال کے خلاف ایک احتجاجی ریلی مرکزی امام بارگاہ سے مرکزی رہنما علامہ مقصود علی ڈومکی کی قیادت میں نکالی گئی، جلوس کے شرکاء نے شہر کے مختلف راستوں پر مارچ کرنے کے بعد پریس کلب کے سامنے پہنچ کر دھرنا دیا، اس موقع پر مرکزی رہنما علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ 70 روز سے پارا چنار میں 7لاکھ کی آبادی کو گھروں میں محصور کردیا گیا ہے امن و امان کی صورتحال اتنی ابتر ہوچکی ہے کہ پارا چنار کے لوگ گھروں سے نکل رہے ہیں تو انہیں قتل کیا جارہا ہے، انہوں نے کہا کہ کے پی کے اور وفاقی حکومت سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے امن و امان کو بحال کرنے میں مکمل ناکام ہوچکے ہیں اور امن کی بحالی میں سنجیدہ نہیں، دہشت گردوں کو کنٹرول کرکے کے بجائے پارا چنار کے لوگوں کو ہی محصور کردیا گیا ہے، اب صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ وہاں کے لوگ خوراک کی کمی کا شکار ہوچکے ہیں، کے پی کے حکومت کے ترجمان کے مطابق علاج کی سہولت نہ ملنے کی وجہ سے اب تک 29 بچے فوت ہوچکے ہیں، انہوں نے کہا کہ70 روز سے 70 کلو میٹر کا علاقہ دہشت گردوں سے کلیئر نہیں کیا جارہا جوکہ حکومت اور سیکورٹی فورسز کی غفلت اور ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، انہوں نے مطالبہ کیا کہ پارا چنار میں امن و امان کو بحال کرکے بے گناہ لوگوں کا قتل عام بند کرایا جائے۔