حکومتی دعوے اور عوام کی بے بسی!

کالم : مدار  ….. عرفان مصطفی ٰصحرائی
اب یہ کوئی نئی خبر نہیں رہی کہ عوام اپنے لاڈلے وزیر اعظم سے مایوس ہو چکے ہے۔عوام زندگی میں سکون کی تلاش میں دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہے،لیکن عمران خان کے اس بیان کہ ”زندگی میں سکون کبھی نہیں ملتا،وہ تو صرف قبر میں آتا ہے“نے قیادت کی اندرونی کہانی کھول کے رکھ دی ہے۔یہ بیان ایک ہارا ہوا شخص ہی دے سکتا ہے۔امید اور رجائیت کی باتیں کرتے کرتے نا امیدی کی گہرائی میں ڈوب جائے تو ایسی باتیں سامنے آنا شروع ہو جاتی ہیں۔وزیر اعظم نظریہ ضرورت کے متحت ہو چکے ہیں کیوں کہ وہ حالات کے ہاتھوں شکست کھا گئے ہیں،اب انہیں تاریکی کے سوا کچھ نظر نہیں آرہاہے۔
حقیقت تو یہ ہے کہ زندگی بہت خوبصورت ہے،یہ اللہ تعالٰی کا ایک انعام ہے ،جسے ہم خود بدصورت اور خوبصورت بنا سکتے ہیں،مگر ہم اپنی غلط پالیسیوں اور حرکات کی وجہ سے زندگی گزارنا اجیرن بنا دیتے ہیں۔اس میں سب سے زیادہ ہاتھ ریاست کا ہوتا ہے۔جو عوام کو بنیادی سہولیات مہیا کرنے سے بھی قاصر ہے۔اگر انسان کو روزگار ملے،بروقت انصاف مہیا ہورہا ہو،علاج معالجے کی سہولیات ملتی ہوں تو زندگی میں سکون ہی سکون ہوتا ہے۔دنیا میں کتنے ہی ممالک ایسے ہیں جنہوں نے اپنے ملک کو جنت نظیر بنا رکھا ہے اور یہ ان کے بہترین نظام کی وجہ سے ممکن ہو سکا ہے۔
ہمارے وزیر اعظم ایک جانب مدینے کی ریاست کی باتیں کرتے ہیں،دوسری جانب کہنا کہ انسان کو سکون تو صرف قبر میں آتا ہے۔یعنی زندگی ایسی بری چیز ہے کہ اس میں سکون نام کی بات ممکن نہیں ،لیکن مدینے کی ریاست میں تو ہر جانب سکون تھا۔کوئی بھوکا نہیں تھا،کسی کے ساتھ زیادتی کا سوچنا بھی گناہ تھا،کوئی بڑا چھوٹے پر ظلم و زیادتی کا تصور نہیں کر سکتا تھا،حقیقی طور پر کوئی قانون سے بالا تر نہیں تھا،لیکن جب یو ٹرن کامیابی کا زینہ سمجھا جائے گا تو حالات مایوس کن ہی ہوں گے۔

عوام عمران خان کو بڑی امید،محبت اور دلیری سے اقتدار میں لانے پر بڑے حصہ دار بنے۔بڑی بڑی سیاسی جماعتوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ان کے تمام احسانات کو بھلا دیا،ان کی قیادت کو سرِ عام ذلیل و خوار کردیا،مراد سعید ،فوادچودھری اور دیگر اسی طرح کے کئی وزراءبنانا برداشت کیا،آئی ایم ایف میں ملک و قوم کو یرغمال بنانا سہا،کشمیر ہاتھ سے جانے کا غم بھی سہا،صرف اس لئے کہ ایک روشن خیال،خوش حال پاکستان کی بنیاد رکھی جائے گی جہاں خوش حالی کے ساتھ مساوات کے سنہری اصول پر معاشرہ استوار ہو گا،کسی کو بنیادی حقوق سے محروم نہیں کیا جائے گا۔یہ سب وہی باتیں ہیں جس کے دعوے کئے گئے تھے۔یعنی احتساب کرنے،این آر او نہ دینے اور کسی کو نہ چھوڑنے کا،لیکن اب یو ٹرن پر یو ٹرن لے رہے ہیں۔لگتا ہے کہ عمران خان اپنے مو¿قف سے ہٹ چکے ہیں،وہ جرا¿ت مندانہ رویہ اب مصلحتوں کا شکار ہو کر دم توڑ چکا ہے۔نیا پاکستان کیا بنانا تھا پرانے کی بھی درگت بن چکی ہے۔وہی پرانے پاکستان کے بوسیدہ اور کراہت والے چہرے نئے پاکستان بنانے کے دعوے کرتے نظر آتے ہیں۔
وزیر اعظم کے دعوﺅں کا دور ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ۔وہ ہر تقریب اور بیان میں ظاہر کروانے سے باز نہیں آتے کہ میرے سے بڑا ملک و قوم کا ہمدرد کوئی نہیں،مگر مہنگائی ،بیروزگاری اور بنیادی حقوق سے یکسر مرحوم عوام بے بسی اور لاچارگی کی تصوریر بنی بیٹھی ہے۔عوام اپنی تمام بیڑیاں جلا کر،پرانے فرسودہ نظام کے خلاف بغاوت کر تے ہوئے عمران خان کو اقتدار میں لائے تھے،مگر وزیر اعظم سمجھتے ہیں کہ میں حکمرانی کے لئے سلیکٹ کر لیا گیا تھا،عوام کو بیوقوف بنا کر ووٹ حاصل کرنا پلان کا ایک حصہ تھا،تاکہ دنیا کو دکھایا جا سکے کہ ہم جمہوری نظام کے تحت اقتدار میں آئے ہیں ۔ورنہ احتساب کا نعرہ تو عوام کو بیوقوف اور اپوزیشن کی لگامیں کھینچنے کے لئے ڈرامہ تھا۔جب خود کو حزب اختلاف کے برجوں کی ضرورت پڑی تو ملک سے احتساب کی بساط لپیٹ لی گئی ہے۔اسی نیب کو کمزور کیا جا رہا ہے،جس کی ترجمانی حکمران کرتے تھے۔
اب اگر ملکی معیشت کی جانب دیکھا جائے تو وزیر اعظم ہر سال کو معیشت کی بہتری کا سال کہتے ہیں۔2020ءچڑھتے ہی بیان داغ دیا گیا ہے کہ یہ معیشت کی بہتری کا سال ہو گا۔اب یہ سوال ذہنوں میں گردش کرتا ہے کہ یہ سال کیسے معاشی بہتری لا سکتا ہے۔عوام کی قوت خرید صفر ہو چکی ہے،اس سال ڈالر 172روپے تک بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے،اس طرح معیشت کیسے بہتر ہوگی؟ماضی کی حکومتوں نے سبسڈی کا سہارا دے کر عوام کو زندہ رکھا ہوا تھا،مگر پی ٹی آئی حکومت سبسڈی مکمل طور پر بند کر کے عوام کے آخری قطرے کو نچوڑنے کی پالیسی پر کاربند ہے،لیکن ان کی پالیسی پر حیرت ہوتی ہے کہ جب تک عوام خوش حال نہ ہو گی،معیشت کیسے مضبوط ہو سکتی ہے؟اگر عوام کا خون چوس کر ڈالروں سے خزانہ بھر بھی لیا گیا تب بھی کوئی فائدہ نہیں ہو گا۔

 

آج عوام بھوک،افلاس کے ہاتھوں خودکشیاں کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں،بیمار کے لئے دوا نہیں،نہ روزگار ہے،کاروبار مکمل طور پر ٹھپ ہو چکے ہیں،عوامی فلاح کا کوئی منصوبہ اس حکومت کے نام پر نہیں ہے۔بجلی،گیس اور پیٹرول کی قیمتیں بار بار بڑھائی جا رہی ہیں،آٹا چینی دالیں ،گھی،سبزیاں اور دیگر اشیاءبے لگام قیمتوں پر فروخت کی جا رہی ہیں۔ایک طرف بیروزگاری بڑھ رہی ہے دوسری جانب اخراجات اور مہنگائی چار سو فیصد سے بھی زیادہ ہو چکی ہے ۔بجلی 25 روپے یونٹ ہو چکی ہے۔ایسے حالات میں انڈسٹری کیسے چلے گی ،عوام کی چیخیں نکلوا کر ہنستے مسکراتے حکمران عوام کے لئے ذہنی پریشانی کا باعث بن رہے ہیں۔
ان حالات میں پنجاب جیسے بڑے صوبے پر عثمان بزدار جیسے وزیر اعلٰی کو بیٹھا کر پنجاب پر جو ظلم کیا گیا ہے ۔اس کا خمیازہ آنے والے دنوں میں عمران خان کو بھگتنا پڑے گا۔میاں شہباز شریف کو بڑی تصویریں لگا کر اپنے پروجیکٹوں کی تشہیر کا طعنہ دینے والے خود کیا کر رہے ہیںوہی تشہیر اپنی بڑی بڑی تصویریں آویزاں کی جا رہی ہیں۔کبھی لاکھوں نوکریاں دینے کی اور کبھی عوام کو پناہ گاہیں اور کھانا کھلانے کی تشہیر۔یہ حکومت بھی تشہیر کے علاوہ کچھ نہیں کر رہی ۔
عمران خان کی خوش قسمتی ہے کہ انہیں حکومت اس وقت ملی،جب کوئی متبادل نہیں ہے،اپوزیشن پر سے مقتدر اداروں کا اعتماد اٹھ چکا ہے۔تعلقات کشیدہ ہو چکے ہیں ،عوام کو اُن سے بیزار کردیا گیا ہے ۔ماضی کے حکمرانوں کی کرپشن اور لوٹ مار کی داستانیں ایسی زبان زدِ عام کی گئی ہیں،جس کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاتا ،مگر ایسے یقین اور پختگی سے فیصلہ دینے کے انداز میں اس طرح جھوٹی کہانی بیان کی جاتی ہے ،جس پر واقعی سچ کا گمان ہوتا ہے۔اب یہ نہیں کہ سب کچھ جھوٹ ہی ہو ،حقیقت پر پردہ ڈال کر صرف ایک شخص کو موردِ الزام ٹھہرانے کا دور دورہ رہا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عمران خان آج بھی اقتدار کے بھرپور مزے لے رہے ہیں۔کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔وگرنہ یہ وہی ملک ہے جہاں صدر ایوب خان جیسے دبنگ ڈکٹیٹرکو عوام کے غیظ و غضب کا شکار ہونا پڑا تھا اور یہ صورت حال چند روزمرہ استعمال کی اشیاءمہنگی ہونے پر ہوئی تھی۔

ماضی میں نام نہاد ہی سہی جمہوری حکومتیں عوام کو کسی نہ کسی طرح خوش رکھنے کے حربے استعمال کرتی رہی ہیں۔کیوں کہ انہیں خوف ہوتا تھا کہ اگر عوام کو بھوکا پیاسا رکھا گیا،مہنگائی کنٹرول نہ ہوئی،عوام کی زندگیاں اجیرن کر دی گئی توعوام سڑکوںپر نکل آئے گی ۔اس طرح اسٹیبلشمنٹ ہماری بساط لپیٹ دے گی،اسی ڈر سے ماضی کے جمہوری حکمران عوام کو سبسڈی یا مہنگائی کنٹرول کر کے زندہ رکھتے تھے۔آج ملک بھر میں ہر چیز پر تاریخ کی بڑی مہنگائی ہو چکی ہے،لیکن حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی،لیکن یہ سب کچھ کتنی دیر تک چل سکتا ہے ۔عوام خوف کا شکار ہیں ،محتاط ہیں،کھل کر کچھ کہنا ممکن نہیں رہا،اشاروں میں بھی بات کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے،لیکن اب سرگوشیاں شروع ہو گئی ہیں، ان سرگوشیوں میں کوئی آواز ابھرنے کا وقت آن پہنچا ہے،جو سناٹے کا سینہ چیرتی ہوئی ایک سرے سے دوسے سرے تک جانکلے گی،کیوں کہ گھٹن زدہ معاشرے میں ایسا ہی ہوتا ہے۔عام آدمی کی زندگی مہنگائی نے عذاب بنا رکھی ہے ۔لوگ خودکشیاں کر رہے ہیں ۔موجودہ حکومت اپنے حصے کی تیس فیصد مدت گزار چکی ہے۔حکومت نے عوام سے جتنی مہلت مانگی انہوں نے دلیری سے دی،کسی قسم کا تنگ نہیں کیا،اگر رواں سال بھی عملی طور پر معاشی لحاظ سے گزشتہ برسوں کی طرح رہا تو عمران خان کی خوش قسمتی بدقسمتی بننے میں دیر نہیں لگے گی۔