مکاؤ۔ایک ملک دو نظام کی پالیسی کی ایک کامیاب مثال

اعتصام الحق ثاقب
20 دسمبر 2024 کو مکاؤ چین میں اپنی وپسی کی پچیسویں سالگرہ منا رہا ہے۔اس سلسلے میں چین کے صدر شی جن پھنگ مکاؤ کے دورے اور یہاں کے چھٹے منتخب چیف ایگزیٹو کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کے لئے مکاؤ پہنچ چکے ہیں جہاں ان کا شاندار استقبال کی گیا ہے۔مکاؤ کی تاریخ کے یہ پچیس سال انتہائی اہم ہیں جو دنیا کو ایک انوکھے نظام اور انوکھی سوچ کو سمجھنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔چین کی ایک ملک دو نظام کی پالیسی نے مکاؤ کو ایک ایسی خود اختیاری اور انتظامی صلاحیت کے قابل بنایا جہاں مکاؤ نے اپنی تاریخی خصوصیات کے ساتھ نئے دور میں بے پناہ ترقی حاصل کر کے نہ صرف اپنی ایک شناخت قائم کی بلکہ ایک ملک دو نظام کی چین کی کامیاب پالیسی کو بھی دنیا کے سامنے اجاگر کیا۔
ان پچیس سالوں میں مکاؤ نے فعال طور پر غیر ملکی تبادلے اور تعاون کو آگے بڑھایا ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں اور اداروں جن میں مکاؤ کی شرکت ہے، کی تعداد 190 سے زائد ہوگئی ہے۔مکاؤ کو 147 ممالک اور خطوں کو ویزا فری یا “ویزا آن ارآئیول” پالیسی حاصل ہوئی ہے اور 750 سے زائد کثیر الجہتی معاہدوں اور غیر ملکی ممالک کے ساتھ مختلف اقسام کے تقریبا 60 ایسے معاہدوں پر دستخط کیے گئے ہیں جو مکاؤ پر لاگو ہوتے ہیں ۔اس کے علاوہ مکاؤ نے 120 سے زائد ممالک اور خطوں کے ساتھ ٹھوس معاشی، تجارتی اور ثقافتی تعلقات استوا ر کیے ہیں، اور ” سسٹر سٹیز “کی تعداد 13 ہوگئی ہے. سال 2023 میں مکاؤ اور بیلٹ اینڈ روڈ ممالک کے درمیان درآمدات اور برآمدات کا مجموعی حجم تقریبا 30 ارب یوان کے ایک نئے ریکارڈ تک پہنچا ہے ۔ مکاؤ نے چین اور پرتگالی بولنے والے ممالک کے درمیان اقتصادی اور تجارتی تعاون کے فورم کی مسلسل چھ وزارتی کانفرنسوں اور ایک خصوصی وزارتی کانفرنس کی میزبانی کی ہے۔
چین کا یہ خصوصی انتظامی علاقہ روایتی اور جدید ثقافت کا ایک منفرد امتزاج ہے ۔ چین کے جنوب مشرقی ساحل پر واقع خطے کے اسٹریٹجک محل وقوع کی وجہ سے یہ ایک اہم تجارتی مرکز ہے ، جو دنیا بھر کے تاجروں اور مسافروں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے ۔
20 دسمبر 1999 ، چین کی جدید تاریخ میں ایک اہم سنگ میل تھا جب مکاؤ کی چین میں واپسی ہوئی ۔ 400 سال سے زیادہ کی پرتگالی حکمرانی کے بعد ، مکاؤ کو باضابطہ طور پر چین کے حوالے کر دیا گیا ، جس سے نوآبادیاتی حکمرانی کا خاتمہ ہوا اور ایک دیرینہ قومی خواہش کو پورا کیا گیا ۔مکاؤ پر 1557 میں پرتگال نے قبضہ کیا تھا اور یہ چار صدیوں سے زیادہ عرصے تک پرتگالی کالونی رہا ۔ بیسویں صدی کے وسط میں ، چین نے مکاؤ کی واپسی کے لیے پرتگال کے ساتھ بات چیت شروع کی ۔ 1987 میں دستخط شدہ چین-پرتگالی مشترکہ اعلامیے نے مکاؤ کی چین واپسی کی راہ ہموار کی ۔
چین کی پالیسی کے تحت مکاؤ کو ہانگ کانگ کی طرح “ایک ملک ، دو نظام” کے فریم ورک کے تحت حکومت کرنا تھی ۔ اس سے مکاؤ کو اپنی معیشت ، قوانین اور خود اختیاری کو برقرار رکھنے کا موقع ملا جب کہ چین خارجہ امور اور دفاع کا ذمہ دار تھا ۔اس فیصلے کے بعد مکاؤ اعلی درجے کی خود اختیاری کے ساتھ چین کا ایک خصوصی انتظامی علاقہ (ایس اے آر) بن گیا ۔مادر وطن میں اپنی واپسی کے بعد مکاؤ کی معیشت نے گیمنگ ، سیاحت اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کی وجہ سے تیزی سے ترقی کی ۔ اس سفر میں روایتی ورثے کے تحفظ اور ثقافتی تبادلے کو فروغ دینے کی کوششوں کے ساتھ مکاؤ میں چینی ثقافت کی بحالی دیکھی گئی اور مکاؤ نے چین کی مرکزی حکومت کے ساتھ تعلقات کو مضبوط کرتے ہوئے قومی ترقیاتی اقدامات اور علاقائی تعاون میں بھر پور حصہ لیا
مکاؤ کا ثقافتی ورثہ اس کے متنوع ماضی کا ثبوت ہے ۔ خطے کا فن تعمیر ، پکوان اور تہوار چینی ، پرتگالی اور دیگر بین الاقوامی اثرات کے امتزاج کی عکاسی کرتے ہیں ۔ مکاؤ کا تاریخی مرکز یونیسکو کا عالمی ثقافتی ورثہ ہے ۔معاشی ترقی کی بات کی جائے تو معیشت نے یہاں تیزی سے ترقی کی ہے جس کی بنیاد سیاحت اور تجارت ہے ۔ اپنی منفرد سہولیات اور تفریحی مقامات کی بنا پر اسے ایشیا اور اس سے باہر کے سیاحوں میں کافی مقبول پایا جاتا ہے ۔ مکاؤ کی فی کس جی ڈی پی دنیا میں سب سے زیادہ ہے ، جس میں خطے کی گیمنگ انڈسٹری نمایاں آمدنی پیدا کرتی ہے ۔
سیاحت مکاؤ کی معیشت میں ایک اہم معاون ہے ۔یہاں سالانہ 30 ملین سے زیادہ سیاح آتے ہیں ۔ اس ترقی کی مدد اس خطے کا بنیادی ڈھانچہ، نئے ہوٹلز اور نقل و حمل کے نظام کی تعمیر کرتے ہیں ۔ مکاؤ کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور فیری ٹرمینل اس خطے تک آسان رسائی فراہم کرتے ہیں ۔
اپنی معاشی کامیابی کے باوجود ، مکاؤ کو جن چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ان میں گیمنگ انڈسٹری میں بڑھتی ہوئی مسابقت اور ایک ہی صنعت پر زیادہ انحصار ہے جس سے نمٹنے کے لیے مکاؤ حکومت اپنی معیشت کو متنوع بنا رہی ہے ، ثقافتی سیاحت کو فروغ دے رہی ہے ، اور پائیدار ترقیاتی اقدامات میں سرمایہ کاری کر رہی ہے ۔
مکاؤ کی چین میں واپسی قومی وحدت میں ایک اہم سنگ میل کی نشاندہی کرتی ہے جو علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے لیے چین کے عزم کو ظاہر کرتی ہے ۔ مکاؤ کی مسلسل ترقی علاقائی ترقی میں ایک اہم علاقے اور چین کے بڑھتے ہوئے عالمی کردار کی علامت ہے ۔یہاں کی روایت اور جدیدیت کا انوکھا امتزاج اسے سیاحوں اور سرمایہ کاروں کے لیے یکساں طور پر ایک پرکشش مقام بناتا ہے ۔ یہ خطہ عالمی معیشت میں ایک اہم خطہ اور آنے والے سالوں کے لیے ایک مقبول مقام بننے کے لیے تیار ہے ۔