
اسٹیٹ بنک سود میں کمی کے لئے مذیداقدامات کرے۔ دو فیصد سود میں کمی سے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کا اعتماد بہتر ہوا ہے۔ ملک کو معیشت کی بحالی سے ہی مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ اوور سیز میں سرمایہ کاروں کی ذہن سازی کر رہے ہیں۔ میری پہچان پاکستان ریاست مقدم سیاست بعد میں کی روش پر چل رہی ہے۔ ملک کو نوجوانوں کے لئے پروجیکٹس کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر عشرت العباد خان سابق گورنر سندھ وہ سرپرست سلوگن میری پہچان پاکستان کی مقامی اخبار سے گفتگو
کراچی (اسٹاف رپورٹر) سابق گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد خان نے کہا ہے کہ اسٹیٹ بنک سود میں کمی کے لئے مذیداقدامات کرے۔ دو فیصد سود میں کمی سے سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں کا اعتماد بہتر ہوا ہے۔ ملک کو معیشت کی بحالی سے ہی مستحکم کیا جا سکتا ہے۔ اوور سیز میں سرمایہ کاروں کی ذہن سازی کر رہے ہیں۔ میری پہچان پاکستان ریاست مقدم سیاست بعد میں کی روش پر چل رہی ہے۔ ملک کو نوجوانوں کے لئے پروجیکٹس کی ضرورت ہے۔ انہوں نے یہ بات مختلف سرمایہ کاروں اور پاکستان میں سرمایہ کاری کے لئے اوورسیز کے دوستوں سے گفتگو میں بھی کہی۔ انہوں نے کہا کہ ایک محب وطن پاکستانی بن کر ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے جدوجہد کر رہا ہوں۔ پاکستان میں بہت Potentialہے۔ انہوں نے یہ بات مقامی اخبار سے گفتگو میں کہی۔انہوں نے کہاکہ صرٖف حکومتوں کو سچا پاکستانی بننے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مہنگائی اور بحرانی کیفیت میں اراکین اسمبلی کی تنخواہیں اور مراعات میں اضافہ عوام کی پیٹھ میں چھرا گھونپنا ہے۔ عوام نے انہیں تنخواہیں دینے کے لئے کام کرنے مسائل حل کرنے پاکستان کو کامیاب ریاست بنانے کے لئے ووٹ دیئے ہیں۔ عوام میں یہ سوچ فطری بات ہے باہم دست و گریباں جماعتیں تنخواہیں بڑھانے کے لئے ایک ہوجاتی ہیں۔ میری پہچان پاکستان کی سوچ ان میں کیوں نہیں آتی،سب سے پہلے پاکستان ہونا چاہئے۔ مہنگائی کی کمی کے لئے کیا کیا گیا؟ آرمی چیف کردار ادا نہ کریں تو سیاست دانوں پر کسی کو اعتبار نہیں۔ بیرونی ممالک میں بھی ہمارے چیف ہی پاکستان کی حکومت کی مدد کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جو ملک کے خلاف مہم چلاتے ہیں سوشل میڈیا پر غلط مہم سازی کرتے ہیں جان لیں کہ فوج پاکستان کے 24کروڑ عوام کی آن جان شان ہیں۔ اس کی قربانیاں مثالی ہیں پاکستان محفوظ ہاتھوں میں ہماری فوج کی وجہ سے ہے۔ سیاست داں ریاست کا سوچیں اگر وہ عوام دشمن کام کریں گے تو عوام کی تائید سے محروم ہوجائیں گے۔ ملک میں مزاکرات اور بہتری کی فضاء ملک کے مفاد میں ہونی چاہئے۔ تشدد، لشکر کشی، دھرنے اور مزہبی جنونیت بین الاقوامی سازش ہیں۔ ہر سیاست داں سے کہتا ہوں کہ پاکستان کا سوچیں ریاست کو کرائسس سے نکالیں انا کا بت اور مفادات کی سیاست چھوڑ دیں۔ ورنہ میری سیاسی بصیرت کے مطابق ملک کی عوام سیاست اور سیاست دانوں سے بیزار ہیں۔کہیں ریاست بچانے کے لئے عوام انقلاب کا نعرہ نہ لگادیں۔ آپ کو لوگوں نے منتخب کیا ہے فنڈز عوام پر خرچ کریں تو عوامی رائے بدل جائیگی۔ ہم ملک کو کسی صورت بحران کی طرف نہیں جانے دیں گے۔ میرے ہزرواں ملک بھر میں ساتھی میری پہچان پاکستان کا پیغام گھر گھر لے جا رہے ہیں۔ ریاست کی مضبوطی کے لئے مجھ سے ہزاروں بڑے بڑے افراد رابطہ کر رہے ہیں صرف اتنا کہتا ہوں پاکستانی بنو۔بند انڈسٹریز کو کھولیں۔ نوجوانوں کا فرسٹریشن ختم کریں ترقی کے دروازے کھل جائیں گے حکومت اخراجات کم کرے۔ ترقی کو اپنا ویژن بنائے۔ ورنہ اقتدار کی جنگ تباہی کا راستہ لے آئے گی۔
ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں انصاف نہیں کیا گیا۔ کراچی کے طلبہ کی احساس محرومی میں اضافہ ہوا۔ 50میں سے صرف 7کراچی کے طلبہ کی کامیابی سوالیہ نشان ہے۔ M.P.P کراچی کمیٹی
آئی بی اے سکھر کے تحت دوبارہ امتحانات کی عارضی فہرست مایوسی اور میرٹ کا قتل عام ہے۔ گل سڑا نظام اور Nepotismکی جھلک نظر آرہی ہے۔ معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ کوئی فیور ٹازم یا دھوکہ دہی قبول نہیں کرینگے، ہم نوجوانوں کو مایوسی کی فضاء سے نکالنے کے لئے سرگرداں ہیں
کراچی (اسٹاف رپورٹر) کراچی کمیٹی “میری پہچان پاکستان” کے اراکین نے کہاہے کہ ایم ڈی کیٹ ٹیسٹ میں انصاف نہیں کیا گیا۔ کراچی کے طلبہ کی احساس محرومی میں اضافہ ہوا۔ 50میں سے صرف 7کراچی کے طلبہ کی کامیابی سوالیہ نشان ہے۔ کراچی کمیٹی نے کہا ہے کہ آئی بی اے سکھر کے تحت دوبارہ امتحانات کی عارضی فہرست مایوسی اور میرٹ کا قتل عام ہے۔ گل سڑا نظام اور Nepotismکی جھلک نظر آرہی ہے۔ معاملے کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ کوئی فیور ٹازم یا دھوکہ دہی قبول نہیں کرینگے، ہم نوجوانوں کو مایوسی کی فضاء سے نکالنے کے لئے سرگرداں ہیں۔ یہ امر سوچ طلب ہے کہ رانی پور بدین۔ خیرپور، تھرپارکر کے طلبہ کو ٹاپ 192نمبر دیئے گئے ہیں۔ جبکہ کراچی کے ذہین ترین اور میرٹ پر آنے والے طلبہ اس رینج کا حصہ نہیں۔ طلبہ کو مختصر وقت جو کل گزر گیا 17دسمبر تک کی مہلت شکایات دی گئی۔ جبکہ PMDCکے مطابق بیچلر آف میڈیسن ایڈ بیچلر آفٖٓ سرجری کے لئے کٹ آف اسکور پروگرام کے تحت MBBSکے لئے کٹ آف اسکور 55%ہے جبکہ بیچلر آف ڈینٹل سرجری بھی شامل ہے۔ لیکن ابتدائی نتائج میں ہی سے تعصب اور Nepotismکی بو آرہی ہے۔ ہم کسی کے خلاف نہیں میرٹ پر فیصلہ ہو لیکن یہ امتحانات کسی جج یا ریٹائرڈ فوجی کی نگرانی میں ہوں۔ وزیر اعلی، منٹکب نمائندے، اپوزیشن لیڈر نوٹس لیں اور کردار ادا کریں ورنہ متنازعہ معاملہ دوبارہ عدالت جانے کا متقاضی ہوگا,,,,
























