1600 ملین ڈالرز کا قرضہ منظور کرانا بڑی کامیابی ، اتنی بڑی رقم کا شفاف استعمال بڑا چیلنج ، یہ قرضہ اور اس کا سود ادا کیسے ہوگا بڑا سوال ؟

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ حکومت سندھ نے ورلڈ بینک سے کراچی میں پانی کی فراہمی اور نکاسی کے منصوبوں کی بہتری اور انقلابی صورتحال کے لیے 1600 ملین ڈالرز کا قرضہ منظور کروا کر بہت بڑا کارنام انجام دیا ہے ۔اتنا بڑا قرضہ کسی بھی پروجیکٹ پر ملنا آسان نہیں ہوتا اتنی بڑی رقم کا بندوبست حکومت سندھ اپنے طور پر بھی نہیں کر سکتی تھی یہ بہت بڑی رقم ہے جس کے ذریعے کراچی میں پانی کے منصوبوں کے حوالے سے انقلاب برپا ہو سکتا ہے لیکن بہت سے سوالات جڑے ہوئے ہیں اتنی بڑی رقم کا شفاف استعمال کیسے یقینی بنایا جائے گا اتنی بڑی رقم کا استعمال کن ہاتھوں میں ہوگا جو لوگ ان فنڈز کے استعمال پر کرتا دھرتا بن کر بیٹھیں گے ان کا اپنا ماضی کیسا اور ان کی کارکردگی کیسی ؟ قرض حاصل کر لینا یقینا بڑی بات ہوتی ہے

لیکن اس سے بڑا کارنامہ اس کی ادائیگی کو یقینی بنانا ہوتا ہے قرض حاصل کرنا حکومت سندھ کی کامیابی رہی ہے یہ اس کی کسی بھی پروجیکٹ کے حوالے سے بہترین ہوم ورکنگ اور پریزنٹیشن کا نتیجہ ہوتا ہے کہ اسے قرضہ ملتا ہے لیکن عالمی مالیاتی اداروں سے قرضہ حاصل کرنے کے بعد اس رقم کا شفاف استعمال یقینی بنانا بڑا چیلنج بن جاتا ہے اچھے افراد کی تلاش اور بہتر حکمت عملی کے تحت مطلوبہ اہداف کو مقررہ وقت میں حاصل کرنا بھی بڑا چیلنج ہوتا ہے

اس سے بڑا سوال یہ ہوتا ہے کہ اتنا بڑا قرض جب لیا جاتا ہے تو اس کی واپسی اور اس پر سود کی ادائیگی کیسے ممکن ہوگی ؟ یہ قرض کون واپس کرے گا اس کا سود کون ادا کرے گا اس کا بوجھ کس کی جیب پر پڑے گا ؟ کیا 1600 ملین ڈالرز کا قرض اور اس پر ادا کیا جانے والا بھاری سود حکومت واٹر ٹیکس کی مد میں عوام سے وصول کرے گی واٹر بورڈ کے ادھے سے زیادہ صارفین تو پانی کا بل ادا نہیں کرتے شہر میں جتنے لوگ پانی استعمال کرتے ہیں ان سب لوگوں تک بارڈر بورڈ کے مکمل بل پہنچتے ہی نہیں ہیں کراچی کی انڈسٹری ہو یا ریٹیل کنزیومر ۔ کسی جگہ پر بھی واٹر بورڈ کی نہ بلنگ درست ہے نا ریکوری ۔ واٹر بورڈ کو خود نہیں پتہ وہ کتنا پانی کہاں فراہم کرتا ہے کون کس کوالٹی کا اور

کتنی مقدار میں پانی استعمال کر رہا ہے زیر زمین پانی کس نے اتنے عرصے میں کتنا استعمال کیا ہے کس نے پانی چوری کیا ہے کس نے پانی کس سسٹم سے حاصل کیا ہے کوئی اعداد و شمار نہیں کوئی ریکارڈ نہیں کہیں کوئی میٹر نہیں کہیں کوئی حساب کتاب نہیں ۔ بہت سے سوالات ہیں اور اب ادارے کی کارکردگی کو بہتر بنانے کی جانب جرت مندانہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں وہ بہت کچھ اب کرنے کی ضرورت محسوس کی جا رہی ہے جو بہت سال پہلے ہو جانا چاہیے تھا لیکن دیر ائد درست آئد۔ ۔۔۔۔۔ کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ اپنی نوعیت کا ایک منفرد اور بہت بڑا منصوبہ ہے جس کے لیے ورلڈ بینک نے مجموعی طور پر 1600 ملین ڈالرز کا قرضہ منظور کر رکھا ہے 2020 سے لے کر 2032 تک یہ منصوبہ 12 برسوں پر محیط ہے اس کے چار مختلف مراحل ہیں چار قسطوں میں یہ رقم ملنی ہے پہلے مرحلے میں 100 ملین ڈالرز 2021 سے لے کر 2026 تک خرچ ہونے ہیں دوسرا مرحلہ 2021 میں شروع ہو کر 2023 میں ختم ہونا تھا جس پر 500 ملین ڈالر خرچ کرنے تھے تیسرا مرحلہ 2023 سے 2026 پر مشتمل ہے اس پر بھی 500 ملین ڈالرز خرچ کرنے ہیں اور چوتھا مرحلہ 2026 سے لے کر 2032 تک ہے جس پر 500 ملین ڈالر خرچ ہوں گے یہ بہت بڑا منصوبہ ہے اور بہت پھیلا ہوا کام ہے اور اس میں بہت ساری اصطلاحات پر کام کرنا ہے اور اس کے نتیجے میں بہت سی صورتحال بہتر ہو جائے گی اگر صحیح معنوں میں کام ہو جائے اور اہداف مقررہ وقت پر حاصل کرنے میں کامیابی حاصل کر لی جائے تو لوگ حیران رہ جائیں گے کہ یہ کیا ہو گیا ۔ لیکن ہنوز دلی دورا ست ۔
جاری ہے
===========