
تفصیلات کے مطابق ہر سال کی طرح اس مرتبہ بھی نیو ایئر نائٹ پارٹیاں ترتیب دی جا رہی ہیں ملک بیرون ملک بہت سی دعوتیں سرکاری افسران کو مل رہی ہیں مالدار اور شوقین افسران نے سرکاری چھٹیاں اپلائی کر دی ہیں کچھ کی چھٹیاں منظور ہو گئی ہیں کچھ کی درخواستیں ابھی زیر غور ہیں چھٹیوں کے لیے وجوہات کچھ اور بیان کی گئی ہیں لیکن اصل مقصد نیو ایر نائٹ کو دھوم دھام سے منانا ،دوستوں رشتہ داروں کے ساتھ پارٹیاں کرنا کیا ملک بیرون ملک مختلف محفلوں کی رونق بننا شامل ہے مالدار اور شوقین افسران نے ابھی سے اپنی نیو ایئر نائٹ کو یادگار بنانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں ۔ متعدد افسران صرف رشتہ داروں اور دوستوں میں سادگی سے پارٹی بناتے ہیں لیکن مالدار اور شوقین افسران کی پارٹیاں رنگین ہوتی ہیں اور نیو ایئر نائٹ تو سب سے زیادہ یادگار انداز میں رنگین بنائی جاتی ہے جہاں مچالے جاتے ہیں تتلیاں رقص کرتی ہیں میوزک پورے زور و شور سے سنا جاتا ہے مختلف کرنسی اور مالیت کے نوٹ نچھاور کیے جاتے ہیں ۔
دوسری طرف کچھ افسران ایسے بھی ہیں جو سارا سال بہت زیادہ محنت کی وجہ سے تھک جاتے ہیں اور سال کے اخری ہفتے میں نیو ایئر نائٹ منانے کی بجائے ارام کے لیے چھٹیاں لیتے ہیں خوش افسران اپنے بچوں سے ملنے کے لیے دوسرے شہروں یا دوسرے ملکوں میں جانے کے لیے چھٹی لیتے ہیں کچھ افسران شادی بیاہ کی تقریبات میں شامل ہونے کے لیے یا فیملی گیدرنگ کے لیے چھٹیاں لیتے ہیں کچھ افسران سو موضلات کے پابند ہیں اور وہ عمرے کے لیے اور کچھ زیارتوں کے لیے چھٹیاں لیتے ہیں ۔ چھٹی لینے کا مقصد ہر کسی کا الگ الگ ہوتا ہے لیکن یہ طے ہے کہ دسمبر اتے ہی سرکاری دفاتر میں ہولی ڈے سیزن کی تیاریاں شروع ہو جاتی ہیں یورپ امریکہ میں تو لوگ کرسمس کو منانے کے لیے تیاریاں کرتے ہیں اور نیو ایئر نائٹ بناتے ہیں لیکن پاکستان جیسے ملکوں میں مالدار اور شوقین افسران اور دیگر شعبوں کی شخصیات بچوں کی سردیوں کی چھٹیاں ہونے کی وجہ سے سیر تفری کا پروگرام بھی بنا لیتے ہیں اور ٹھنڈے علاقوں خصوصا مری کی جانب رخ ہوتا ہے جو لوگ افورڈ کر سکتے ہیں وہ بیرون ملک بھی جاتے ہیں سمندر بار پاکستانیوں کی بڑی تعداد چھٹیاں ملنے پر ایسے موقع پر پاکستان میں اتی ہے رشتہ داروں کے اکٹھے ہونے کی وجہ سے بھی سرکاری افسران اور ملازمین چھٹیاں لیتے ہیں دسمبر کے اخری ہفتے میں سرکاری دفاتر میں کام کم اور ہولی ڈے سیزن زیادہ منایا جاتا ہے ۔

دوسری جانب وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے بہت سے اہم منصوبوں پر ورلڈ بینک کو یقین دہانی کرا رکھی ہے کہ دسمبر کے اخری ہفتے میں ان پر کام تیزی سے شروع کیا جائے گا اگر افسران کی بڑی تعداد چھٹیوں پر چلی گئی تو وزیر اعلی کی یقین دہانی کا کیا ہوگا ؟
کے 4 توسیعی منصوبے پر 30 دسمبر کو کام کا آغاز ہوگا، وزیراعلیٰ سندھ کا اجلاس میں اعلان
وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے ورلڈ بینک کے کنٹری ڈائریکٹر ناجے بنہسین کی سربراہی میں ٹیم کے ساتھ ویڈیو لنک اجلاس کے دوران سندھ میں جاری 3.1 ارب ڈالر ماالیت کے 13 ترقیاتی پروگراموں پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔
اجلاس میں کے 4 توسیعی منصوبہ ، سکھر بیراج کے دروازے گرنے کی وجوہات پر مبنی رپورٹ کے ساتھ شمسی توانائی منصوبہ، انفرا اسٹرکچر کی بحالی اور شہری نقل و حرکت میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔
اجلاس کے دوروان وزیراعلیٰ نے کراچی واٹر اینڈ سیوریج سروسز امپروومنٹ پروجیکٹ ( کے ڈبلیو ایس ایس آئی پی) کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ منصوبہ صاف پانی کی فراہمی اور کراچی واٹر بورڈ کی آپریشنل صلاحیت کو بڑھاتا ہے۔ انہوں نے منصوبے کے تین اہم حصوں پر روشنی ڈالی جن میں آپریشنل اصلاحات، انفرا اسٹرکچر میں سرمایہ کاری اور انتظامی بہتری شامل ہیں۔
مراد علی شاہ نے اعلان کیا کہ 25 کروڑ 60 لاکھ ڈالر مالیت سے بننے والے کے 4 توسیعی منصوبے پر کام کا اغاز 30 دسمبر 2024 کو ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ زمین کا حصول اور ضروری درستگی کے اقدامات فروری 2025 تک مکمل کرلیے جائیں گے۔ انہوں نے عالمی بینک پر زور دیا کہ وہ فنڈز جاری کرے تاکہ منصوبہ 2025 کے آخر تک مکمل کیا جاسکے۔ عالمی بینک کی طرف سے امداد کی یقین دہانی کے ساتھ ساتھ تجویز دی گئی کہ حکومت سندھ ابتدا میں اپنے فنڈز استعمال کرے جو بعد میں واپس کردیے جائیں گے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ کے 4 توسیعی منصوبے کےلیے فنڈز کے اجرا کا بندوبست کریں۔
اجلاس میں زیر غور آنے والے دیگر منصوبوں میں سکھر بیراج کی مرمت کا منصوبہ بھی تھا جس میں بتایا گیا کہ دروازے گرنے کی وجوہات پر مشتمل رپورٹ کی تیاری جاری ہے۔ اس موقع پر دیکھ بھال، مرمت اور انتظامی ڈویژن کے قیام کا بھی اعلان کیا گیا۔
اس کے علاوہ اکرم واہ کی مرمت اور زرعی پانی کے درست استعمال اور سیلاب زدہ کسانوں کی مدد سے متعلق سندھ واٹر اینڈ ایگریکلچر ٹرانسفارمیشن پروجیکٹ ( ایس ڈبلیو اے ٹی) پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس میں ایک اور اہم منصوبہ کراچی موبلٹی پروجیکٹ ( کے ایم پی ) بھی زیر بحث آیا۔ 38 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کے اس منصوبے کے تحت ییلو لائن بی آرٹی کے ذریعے شہر میں نقل و حرکت کو آسان بنانا ہے۔ بتایا گیا کہ منصوبے پر 12 فیصد پیش رفت ہو چکی ہے جس میں ڈیزائن کی پہلے ہی منظوری دی جا چکی ہے۔ ورلڈ بنک کی ٹیم نے جاری کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔
اجلاس کے دوروان صوبے میں شمسی توانائی کی پیداوار میں اضافے اور بجلی کی فراہمی کے سندھ سولر انرجی پروجیکٹ پر بھی غور کیا گیا۔ سولر ہوم سسٹم کی پہلی کھیپ 11 دسمبر کو پہچی تھی جبکہ دوسری کھیپ فروری اور مارچ 2025 میں آئے گی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے سرکاری عمارتوں کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ بتایا کہ 19 عمارتیں دسمبر 2024 میں مکمل کرلی جائیں گی جبکہ بقیہ 4 عمارتیں جنوری 2025 تک مکمل کیے جانے کی توقع ہے۔ سولر پارکس کے قیام کے معاملے پر بھی غور کیا گیا اور بتایا گیا کہ لینڈ لیز کے معاہدے اور ایڈوائزری سروسز پر کام جاری ہے۔
500 کروڑ ڈالر کی لاگت سے تعمیر کیے جانے والے سیلاب متاثرین کے گھروں کے منصوبے پر کام کی رفتار اور معیار کی تعریف کی گئی۔ سیلاب متاثرین کی بحالی کے اہم منصوبے کےلیے 38 کروڑ 33 لاکھ ڈالر جاری کیے جا چکے ہیں۔
اجلاس میں سینیئر وزرا، سیکریٹریز اور ورلڈ بینک کے حکام نے شرکت کی۔ اجلاس کے آخر میں وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری کو فنڈز کے اجرا میں تیزی اور تمام منصوبوں کی بروقت تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی۔ مراد علی شاہ نے صوبے کی ترقی کے اہم منصوبوں کی تکمیل کےلیے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔
عبدالرشید چنا
ترجمان وزیراعلیٰ سندھ
==============================
پاکستان میں مطلوب 6 اشتہاری ملزمان متحدہ عرب امارات سے گرفتار
پاکستان میں قتل، اقدامِ قتل اور ڈکیتی مقدمات میں مطلوب 6 اشتہاری ملزمان کو متحدہ عرب امارات سے گرفتار کر لیا گیا۔
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق گرفتار اشتہاری ملزمان میں بابر وسیم، تاج رسول، عبد الحسیب، قیصر محمود، ندیم افضل اور ذیشان شامل ہیں۔
ملزمان بابر وسیم، عبدالحسیب اور قیصر محمود گوجرانوالہ پولیس کو مطلوب تھے۔
ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ ختم، این سی سی آئی اے فعال
ترجمان ایف آئی اے کے مطابق ملزم ندیم افضل گجرات جبکہ تاج رسول راج پور اور ذیشان ملتان پولیس کو مطلوب تھا۔
ایف آئی اے این سی بی انٹرپول نے ملزمان کی گرفتاری کے لیے ریڈ نوٹسز جاری کیے تھے۔
ملزمان کو متحدہ عرب امارات سے لاہور ایئر پورٹ لایا گیا اور پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہ
























