
کراچی
مور خہ16 دسمبر 2024
کراچی 16 دسمبر ۔ صوبائی وزیر ایکسائز، ٹیکسیشن و نارکوٹکس کنٹرول سندھ مکیش کمار چاولہ کی ہدایت پر محکمہ نارکوٹکس کنٹرول کی صوبہ بھر میں منشیات فروشوں کے خلاف کارروائیاں تیزی سے جاری ہیں۔ محکمہ نارکوٹکس کنٹرول سندھ نے گزشتہ دو روز میں لاڑکانہ، حیدرآباد اور کراچی میں کارروائیاں کرکے منشیات سپلائی کرنے والے چار ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے۔ محکمہ نارکوٹکس کنٹرول سندھ نے ملزمان کے قبضے سے ساڑھے پانچ کلو چرس، چودہ گرام کوکین، 500 گرام آئس، 150 لیٹر کچی شراب، تیس نشہ آور گولیاں اور منشیات فروشی میں استعمال ہونے والی ایک کار اور 2 موٹر سائیکلیں برآمد کیں۔ ملزمان کے خلاف مقدمات درج کرکے مزید تفتیش کا آغاز کردیا گیا ہے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 938۔۔۔ایس اے بی
کراچی
مور خہ16 دسمبر 2024
عدلیہ معاشرے کے کمزور طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لئے اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ آغا فخر حسین
کراچی 16 دسمبر سندھ جوڈیشل اکیڈمی نے پاکستان لیگل یونائیٹڈ سوسائٹی کے تعاون سے خصوصی افراد اور حادثے کے شکار افراد کی معاونت کے موضوع پر دو روزہ تربیتی پروگرام کا کامیاب انعقاد کیا۔ سندھ جوڈیشل اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل محمد اقبال کلہوڑو مہمان خصوصی تھے۔ تقریب میں جوڈیشل افسران، قانونی ماہرین، انسانی حقوق کے علمبرداروں اور دیگر معززین نے شرکت کی۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آغا فخر حسین ڈائریکٹر ہیومن رائٹس حکومت سندھ نے کمزور کمیونٹیز بالخصوص خصوصی افراداور حادثے کا شکار افراد کے لیے وقار، مساوات اور انصاف کو فروغ دینے میں عدلیہ کے اہم کردار پر زور دیا۔ انہوں نے ان گروہوں کو انصاف تک رسائی میں درپیش نظامی چیلنجوں پر روشنی ڈالی اور عدالتی افسران کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اپنے فیصلوں میں انصاف اور مساوات کو یقینی بنانے کے لیے جامع اور معاشرے کے کمزور طبقات کے لئے حساس طرز عمل اختیار کریں۔ تقریب کے اختتام پر تقریب کے شرکاء جوڈیشل مجسٹریٹس اور دیگر میں اسناد اور شیلڈز تقسیم کیے گئے ۔ اس موقع پر مہمان اعزازی آغا فخر حسین کو بھی انسانی حقوق کی آگاہی میں گراں قدر خدمات پر شیلڈ بھی پیش کی گئی۔ پروگرام کا اختتام سندھ جوڈیشل اکیڈمی کے ایک جامع عدالتی نظام کو فروغ دینے اور مستقبل میں صلاحیت سازی کے اس طرح کے اقدامات کو جاری رکھنے کے عزم کے اعادہ کے ساتھ ہوا۔
ہینڈ آؤٹ نمبر 934۔۔۔۔ ایم یو
کراچی
مور خہ16 دسمبر 2024
صوبائی محتسب سندھ دفتر اور ریجنل دفاتر میں درج سرکاری اداروں کے خلاف عوامی شکایات کو تیزی سے حل کیا جارہا ہے، محمد سہیل راجپوت
کراچی 16 دسمبر۔صوبائی محتسب سندھ محمد سہیل راجپوت نے کہا ہے کہ صوبائی محتسب سندھ و ریجنل دفاتر میں درج سرکاری اداروں کے خلاف عوامی شکایات کو تیزی سے حل کرکے عوام کو ریلیف فراہم کیا جارہا ہے۔ جس سے ایک جانب نہ صرف عوام کو ریلیف مل رہا ہے بلکہ دوسری جانب سرکاری اداروں کی سمت درست ہورہی ہے۔ تعلقہ جوہی ضلع دادو کے رہائشی محمد صالح پنھور کی گاؤں اللہ بچایو پنھور میں پانی کی عدم فراہم پر محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے خلاف درج شکایت کو حل کردیا گیا۔ درخواست گزار نے صوبائی محتسب سندھ کو شکایت درج کروائی تھی کہ اسکے گاؤں اللہ بچایو پنھور پینے کا صاف پانی فراہم نہیں کیا جارہا ہے جبکہ محکمہ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ کے ایگزیکٹو انجینئر کو دی گئی درخواستیں بھی بے سود ثابت ہوئی ہیں۔ صوبائی محتسب سندھ کے نوٹس کے بعد اسسٹنٹ ایگزیکٹو انجینئر سب ڈویژن جوہی نے تحریری طور پر علاقے میں آر او واٹر فلٹر پلانٹ کی تنصیب سے متعلق آگاہ کیا جس کی بعد ازاں شکایت کنندہ و تفتیشی افسر نے بھی تصدیق کی۔ دوسری جانب ڈرگ روڈ کینٹ بازار کے رہائشی ناصر محمود نے صوبائی محتسب سندھ کو شکایت درج کروائی تھی کہ اس نے گلشن فلک ناز میں 2003 میں پلاٹ بک کروایا تھا جس کے تمام واجبات بلڈر کو بروقت ادا کیے جاچکے تھے تاہم تمام ادائیگیوں کے بعد جب بلڈر سے پلاٹ کا قبضہ مانگا تو اس نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ پلاٹ کا قبضہ نہیں دیا جاسکتا کیوں کہ اس ہر قبضہ مافیا نے قبضہ کرلیا ہے۔ جس کی شکایت درخواست کنندہ نے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کو بھی کی لیکن کوئی کاروائی نہیں کی گئی۔ لہذا صوبائی محتسب سندھ نے درخواست گزار کی شکایت کا نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ ادارے کو نوٹس بھیجا جس کے جواب میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر پی ایس اے اینڈ سی، ایس بی سی اے نے تحریری طور پر آگاہ کیا کہ معاملے کے حل کے لیے دونوں فریقین کے درمیان تصفیہ کروادیا گیا ہے لہذا متعلقہ بلڈر (شاداب ڈویلپرز) درخواست دہندہ کو پلاٹ کی مد میں اس کی جمع کروائی گئی رقم مبلغ پانچ لاکھ روپے ادا کرے گا۔ بعدازاں درخواست دہندہ نے صوبائی محتسب سندھ کے تفتیشی افسر کے روبرو پیش ہوکر اعتراف کیا کہ اسے بلڈر کی جانب سے مبلغ پانچ لاکھ روپے کا چیک موصول ہوگیا ہے جس کو اس نے بخوشی قبول کرلیا ہے۔ اسی طرح اعظم ٹاؤن کراچی کی رہائشی نویں جماعت کی آمنہ عامر کی ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے خلاف نویں جماعت کے اسلامیات کے پرچے کی اسکروٹنی سے متعلق شکایت بھی نمٹا دی گئی۔ درخواست دہندہ آمنہ نے صوبائی محتسب سندھ جے دفتر میں شکایت درج کروائی تھی کہ اس کے اسلامیات کے پرچے میں صرف 7 نمبرز دیے گئے تھے جس کی اسکروٹنی فیس جمع کروائے جانے کے باوجود ثانوی تعلیمی بورڈ متعلقہ پرچے کی اسکروٹنی نہیں کررہا ہے جو طالبہ کے لیے باعث ازیت ہے لہذا صوبائی محتسب سندھ کی جانب سے نوٹس لیے جانے کے بعد ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی نے طالبہ کا مسئلہ حل کردیا۔ بعدازاں طالبہ کی جانب سے صوبائی محتسب سندھ سے تحریری اظہار تشکر کیا گیا۔
ہینڈآؤٹ نمبر935 ۔۔۔ایس اے بی
کراچی
مور خہ16 دسمبر 2024
کم از کم اجرت کے نفاذ میں غفلت کرنے والے اداروں کے خلاف سخت کارروائی ہوگی، شاہد عبدالسلام تھہیم
مزدوروں کے بچوں کی تعلیم پر خصوصی توجہ ہے، وزیر محنت کا عزم
کراچی 16 دسمبر۔ کم از کم اجرت 37 ہزار روپے کے نفاذ میں کسی بھی قسم کی غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیر محنت سندھ شاہد عبدالسلام تھہیم نے کہا ہے کہ سندھ حکومت مزدوروں کے حقوق کے تحفظ اور ان کی فلاح و بہبود کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ غیر ہنر مند مزدوروں کے لیے کم از کم اجرت 37 ہزار روپے ماہانہ کی پالیسی پر سختی سے عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ اس حوالے سے محکمہ محنت کے افسران کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ فیکٹریوں اور اداروں کی انسپیکشنز تیز کریں اور قانون پر عمل نہ کرنے والے اداروں کے خلاف فوری کارروائی کریں۔ ایسے ادارے جو مزدوروں کے ساتھ زیادتی کرتے ہیں یا ان کے حقوق غصب کرتے ہیں، انہیں قانون کے مطابق سزا دی جائے گی۔وزیر محنت نے مزید کہا کہ سندھ حکومت مزدوروں کے بچوں کی تعلیم اور ان کی صحت کے حوالے سے خصوصی اقدامات کر رہی ہے۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ذریعے مزدوروں کے بچوں کو تعلیمی اداروں میں مفت تعلیم فراہم کی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ فنی تعلیم کے مواقع بھی فراہم کیے جا رہے ہیں تاکہ وہ مستقبل میں معاشی طور پر خود مختار ہو سکیں۔ اس وقت ورکرز ویلفیئر اسکولوں میں ہزاروں طلبہ زیر تعلیم ہیں جبکہ مزید اسکولوں کے قیام پر بھی کام جاری ہے۔
ہینڈآؤٹ نمبر 936۔۔۔ایم ڈبلیو
کراچی
مور خہ16 دسمبر 2024
سندھ حکومت کا خواتین کی ترقی کے لئے اہم اقدامات کا اعلان
ورکنگ خواتین کی سہولت کے لئے 115 ڈے کیئر سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ
کراچی. 16 دسمبر ۔ سندھ حکومت نے صوبے میں خواتین کو محفوظ ماحول اور بہتر مواقع فراہم کرنے کے لئے اہم فیصلے کئے ہیں۔ اس حوالے سے چیف سیکریٹری سندھ آصف حیدر شاہ کی زیر صدارت محکمہ ترقی نسواں کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبائی وزیر برائے ترقی نسواں شاہینہ شیر علی اور دیگر اعلیٰ افسران نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران محکمہ ترقی نسواں کے جاری ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ صوبے میں قائم تمام دارالامان کو جدید خطوط پر اپ گریڈ کیا جائے گا۔ اس کے ساتھ دارالامان میں رہائش پذیر بچوں کے لئے پلے ایریا اور معیاری تعلیم کے لئے ٹیوٹر کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی۔ ورکنگ خواتین کی سہولت کے لئے سندھ حکومت نے 115 ڈے کیئر سینٹرز قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں یہ مراکز سرکاری اداروں اور جامعات میں بنائے جائیں گے تاکہ خواتین کو دورانِ کام اپنے بچوں کی دیکھ بھال میں آسانی ہو۔صوبائی وزیر شاہینہ شیر علی نے کہا کہ سندھ حکومت خواتین کو تحفظ کے ساتھ ساتھ روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر بھی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ محکمہ ترقی نسواں کے تحت 954 ملین روپے کے 8 ترقیاتی منصوبے زیر تعمیر ہیں، جن پر کام کی رفتار تیز کی جا رہی ہے.چیف سیکریٹری سندھ نے محکمہ ترقی نسواں کے منصوبوں کی رفتار پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تاخیر کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی یقین دہانی کرائی کہ ہنرمند خواتین کی مدد کے لئے محکمہ ترقی نسواں کو مطلوبہ فنڈز فراہم کئے جائیں گے, انہونے مزید کہا کہ یہ اقدامات سندھ حکومت کی جانب سے خواتین کو بااختیار بنانے اور انہیں معاشرے میں ایک فعال کردار ادا کرنے کے لئے فراہم کی جانے والی سہولیات کی طرف ایک اہم قدم ہیں۔ ہینڈآؤٹ نمبر 939۔۔۔ایف آئی جے
























