لاہور سے بہت اہم اور تازہ ترین خبریں – رپورٹ مدثر قدیر


سروسز انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے سالانہ کانووکیشن کی ڈریس ریہرسل کے دوران شعبہ نیوروسرجری کے ڈاکٹروں کا انچارج ایسوسی ایٹ پروفیسر آ ف نیوروسرجری ڈاکٹر محمد اجمل خان کے ساتھ گروپ فوٹو,واضح رہے کہ سمز کا سالانہ کانوکیشن 31دسمبر کو ہوگا۔

======================

پرنسپل امیر الدین میڈیکل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمد الفرید ظفرنے کہا ہے کہ ٹریفک قوانین پر عملدرآمد اور تعمیراتی کام کے دوران حفاظتی اقدامات کو اپنا کر حادثاتی اموات اور جسمانی معذوری کی شرح کو کنٹرول کیا جا سکتا ہے،اسی طرح اگر موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ کا استعمال سو فیصد یقینی بنائیں تو ہیڈ انجری جیسے افسوسناک واقعات نہ ہونے کے برابر ہو جائیں گے،لہذا یہ شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ حادثے کی صورت میں زخمی کو جلد از جلد ہسپتال پہنچائے تاکہ بر وقت علاج شروع ہو سکے کیونکہ انسانی زندگی کو بچانا ہی میڈیکل پروفیشن کا مشن ہے۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر الفرید ظفر نے ایڈوانس ٹراما لائف و رکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام ہیڈ آف دی ڈیپارٹمنٹ جنرل سرجری پروفیسر ڈاکٹر محمد فاروق افضل نے کیا جنہوں نے اس ورکشاپ کی اہمیت سے متعلق تفصیلی روشنی ڈالی۔ تربیتی ورکشاپ میں ملک کے ماہر میڈیکل ٹیچرز نے اپنے اپنے تجربے کی روشنی میں نوجوان ڈاکٹروں کو آگاہی لیکچرز دیے۔ اس موقع پر پروفیسر ارشد چیمہ، پروفیسر معید اقبال قریشی، پروفیسر محمد شعیب نبی، پروفیسر فرید احمد خان، پروفیسر ڈاکٹر محمد حنیف، پروفیسر ڈاکٹر ہارون جاوید، ڈاکٹر فاروق رانا نے بھی مفید معلومات فراہم کیں جبکہ نوجوان ڈاکٹرز،نرسز و دیگر موجود تھے۔
پروفیسرز صاحبان نے کہا کہ ہیڈ انجری اور جسمانی اعضاء کے فریکچر کے زیادہ کیسز ٹریفک میں لا پرواہی اور والدین کی غفلت کے موجب ہیں جبکہ نو عمر بچوں کو موٹرسائیکل،گاڑی ڈرائیونگ پر چیک نہ رکھنا حادثات کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے بعض اوقات والدین کو ساری عمر اس بات کا افسوس رہتا ہے۔ طبی ماہرین نے نوجوان ڈاکٹرز کو سرجری، آپریشن کی نئی ٹیکنیک اور میڈیکل کی دنیا میں استعمال ہونے والی جدید ٹیکنالوجی کے حوالے سے تفصیلی لیکچرز دیے۔اُن کا کہنا تھا کہ حادثے کی صورت میں زخمی کو جتنی جلدی ہو سکے طبی امداد مہیا کی جا ئے جس سے اُن کی زندگی بچنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
ایگزیکٹو ڈائریکٹر پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز پروفیسر آصف بشیر اور پروفیسر خالد محمود کا کہنا تھا کہ بعض کیسز میں زخمیوں کو بہت زیادہ چوٹیں نہیں آتیں تاہم کسی ایک انجری سے بہت سا خون بہہ جانے کی وجہ سے زخمی زندگی کی بازی ہار جاتا ہے لہذا یہ ضروری ہے کہ بلا تاخیر حادثات کے زخمیوں کو ہسپتال پہنچایا جائے اور ڈاکٹر صاحبان اپنی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے سیریس زخمیوں کو فوری علاج کریں تاکہ اُن کی زندگی کو بچایا جا سکے۔پروفیسرڈاکٹر فاروق افضل و دیگر نے کہا کہ ہیڈ انجری کے واقعات کی روک تھام کیلئے ضروری ہے کہ موٹر سائیکل سوار اپنی حفاظت کے لئے ہیلمٹ کا استعمال لازمی کریں تاکہ کسی نا خوشگوار حادثے میں اُن کی جان محفوظ رہ سکے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹریفک قوانین اور تعمیراتی کام میں سیفٹی معیار کو یقینی بنایا جائے تو نیورو سرجری، آرتھوپیڈک، برن یونٹ اور جنرل سرجری پر کام کا بوجھ کم ہو جائے گا اور حادثات میں شرح اموات بھی کم ہو جائے گی۔۔ ایڈوانس ٹراما لائف سپورٹ ورکشاپ کے اختتام پر سوال و جواب کا سیشن بھی ہوا۔

=============================


یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (یو ای ٹی) لاہور اور ہائیر پاکستان ایئر کنڈیشنر کے درمیان گرین انرجی سیونگ ٹیکنالوجی کے لیے مشترکہ لیبارٹری کے قیام پر معاہدہ۔ سی ای او ہائیر پاکستان فینگ ژیانفا اور وائس چانسلر یو ای ٹی پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر نے دونوں جانب سے شریک مندوبین کی موجودگی میں معاہدے کی دستاویزات پر دستخط کیے۔ اس تعاون کا مقصد پائیدار توانائی کے حل میں تحقیق اور ترقی کو فروغ دینا ہے، جو پاکستان کے توانائی کی بچت اور ماحولیاتی استحکام کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔ یہ مشترکہ لیبارٹری گرین ٹیکنالوجی میں اختراعات کے لیے ایک پلیٹ فارم فراہم کرے گی، جس سے تعلیمی ادارے اور صنعت دونوں فائدہ اٹھا سکیں گے۔
=======================

سانحہ آرمی پبلک سکول کے شہداء کی یاد میں لاہور کالج فار ویمن یونیورسٹی میں شمعیں روشن کی گئیں اور سانحے کے حوالے سے طالبات اور اساتذہ کی تیار کردہ پینٹگ کی نمائش کی گئی۔ وائس چانسلر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی، ایمبیسیڈر وزیراعظم یوتھ پروگرام رضوان انور، ڈائریکٹر سپورٹس سمیرا ستار، چیئرپرسن جینڈر سٹڈیز ڈاکٹر عظمیٰ عاشق، چیف پروکٹر ڈاکٹر غزالہ نورین، رجسٹرار عظمیٰ بتول اور دیگر فیکلٹی ممبرز نے شمعیں روشن کیں۔ اس موقع پر وائس چانسلر ڈاکٹر عظمیٰ قریشی نے کہا کہ سانحہ آرمی پبلک سکول پشاور کو دس سال گزر چکے لیکن دکھ آج بھی زندہ ہیں۔ 16 دسمبر 2014 کا صدمہ بھولا نہیں جب دہشت گردوں نے 147 معصوم بچوں اور ان کے اساتذہ کو سفاکیت کا نشانہ بنایا۔ننھے طلبہ جو علم کی روشنی سے اس ملک کے مستقبل کو روشن کرنا چاہتے تھے،درندگی کی نذر ہوگئے۔سانحہ 16دسمبر صرف سکول پر ہی نہیں بلکہ انسانیت، تعلیم اور پاکستان کے روشن مستقبل پر حملہ تھا۔ معصوم طلبہ اور اساتذہ کی قربانی نے ہمیں یہ سبق دیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ از حد ضروری ہے- واحس چانسلر نے کہاکہ اے پی ایس شہداء ہماری قوم کے ہیرو ہیں۔سانحہ اے پی ایس کے والدین اور اہل خانہ کا حوصلہ اور صبر قابل تحسین ہے۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت کرکے ہی دم لیں گے۔
=========================

متروکہ وقف املاک بورڈ کے گریڈ 18کے سینئر آفیسر محمد مصطفی اپنی مدت ملازمت پوری ہونے پر ریٹائرڈ ہو گئے سیکرٹری بورڈ فرید اقبال و دیگر افسران نے انکی کی خدمات کو سراہتے ہوئےخراج تحسین پیش کیا،ریٹائرمنٹ کے موقع پر انکے اعزاز میں ہیڈ آفس میں الوداعی عشائیہ دیا گیا جس میں سیکرٹری بورڈ فرید اقبال مہمان خصوصی تھےجبکہ ایڈیشنل سیکرٹری شرائنز سیف اللہ کھو کھر ،سٹاف آفیسرظفر اقبال، سپریٹنڈنٹ انجینئر حق نواز ، کنٹرولر آف اکاونٹس احمد نواز ،عظمی شہزادی، شبانہ آفرین ، باسط خان ، اسسٹنٹ آڈٹ صدام حسن،علی اصغر ،پی آر او غلام محی الدین ، راحیل مغل، سمیت دیگر افسران و ملازمین کی بڑی تعداد نے شرکت کی سیکرٹری بورڈنے محمد مصطفی کو خصوصی شیلڈ اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا،جبکہ دیگر سٹاف کی جانب سے بھی انہیں خصوصی تحائف کے ساتھ الوداع کیا ۔ سیکرٹری بورڈ نےالوداعی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محمد مصطفی نے شعبہ حسابات میں لگن اور عزم کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیں جنہیں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ۔ محمد مصطفی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ میں نے متروکہ وقف املاک میں نے اپنی ذمہ داری شفافیت سے انجام دی ہے بورڈ میں میرا گزار ہوا وقت مثالی تھا ،ماتحت افسران و سٹاف نے دفتری امور میں میرے ساتھ مکمل تعاون کیا جس پر میں انکا شکر گزار ہوں ۔تقریب کےشرکانے انکی خدمات کو سراہتے ہوئے مستقبل میں انکے لیے اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا جبکہ سیکرٹری بورڈ نے خدما ت کے اعترف میں تعریفی شیلڈ پیش کی.
============================

شری آتما رام جی کی سمادھی: ایک تاریخی ورثہ اور اس کی بحالی

شری آتما رام جی کی سمادھی نہ صرف ایک مذہبی مقام ہے بلکہ پاکستان کے تاریخی ورثے کا ایک قیمتی جزو بھی ہے۔ یہ عمارت جین مت کے مشہور راہب آچاریہ وجے آنند سوری، جنہیں آتما رام جی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کی یادگار ہے۔ آتما رام جی 1837 میں پنجاب کے قصبے لیہڑا میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق ایک برہمن خاندان سے تھا اور آپ کی والدہ آپ کو لے کر ہوشیارپور منتقل ہو گئیں جہاں آپ نے جین مت کی تعلیمات کو اپنایا اور اپنی زندگی اس مذہب کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔ آپ نے پنجاب بھر میں جین مندروں کی تعمیر کی اور ہزاروں لوگوں کو جین مت کی تعلیمات سے روشناس کرایا۔

آتما رام جی کی زندگی میں کئی اہم موڑ آئے۔ آپ نے اپنی عمر کے بہترین سال جین مت کی تبلیغ میں گزارے اور اپنے پیروکاروں کے لیے کئی اہم مذہبی مقامات کی بنیاد رکھی۔ آپ کی وفات کے بعد، آپ کے پیروکاروں نے آپ کی باقیات کو دفن کرنے کے لیے یہ سمادھی تعمیر کی تاکہ آپ کی روحانی اور مذہبی اہمیت کو ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا جا سکے۔ یہ عمارت نہ صرف جین مت کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ اس کی تاریخی حیثیت بھی بے شمار ہے۔ اس عمارت کا طرزِ تعمیر، اس کے گنبد، نقش و نگار اور تاریخی فرش نے اس عمارت کو ایک بے مثال تاریخی مقام بنا دیا۔

مندر کی قدیم ساخت، اس کے گنبد، نقش و نگار اور اس کے دیگر اجزاء اس کی اصل خوبصورتی کا حصہ ہیں، جنہیں جدید دور کی تعمیراتی مہارت کے ساتھ محفوظ کیا گیا ہے۔ اس تاریخی عمارت کی تزئین و آرائش کے لیے متروکہ وقف املاک بورڈ نے ایک ماہر ٹیم تشکیل دی، جس نے اس کی اصل ساخت اور خصوصیات کو برقرار رکھتے ہوئے اس کی مکمل بحالی کی۔ اس عمل کے دوران قدیم تعمیراتی تکنیکوں کو جدید معیارات کے مطابق درست کیا گیا تاکہ اس کی تاریخی حیثیت کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔

یہ عمارت اب صرف ایک تاریخی عمارت نہیں رہی، بلکہ اس کا ہر گوشہ گواہ ہے اس جدوجہد کا جس میں حکومتِ پاکستان اور متروکہ وقف املاک بورڈ نے مل کر اس کی حفاظت اور بحالی کے لیے ایک شاندار قدم اٹھایا ہے۔ اس کی بحالی کا مقصد نہ صرف جین مت کی تاریخ کو محفوظ کرنا ہے بلکہ اس کی موجودہ شکل میں اس عمارت کو دنیا کے سامنے پیش کرنا بھی ہے۔ اس کے بعد نہ صرف جین مت کے پیروکاروں کو اپنے مذہبی عقائد کی پیروی کرنے کا ایک محفوظ مقام ملا ہے، بلکہ اس عمارت کی بحالی نے پاکستان کی تاریخ کے ایک اہم حصے کو دوبارہ زندہ کر دیا ہے۔

متروکہ وقف املاک بورڈ کی قیادت میں اس عمارت کی حفاظت کا مکمل انتظام کیا گیا ہے تاکہ یہاں کسی بھی قسم کے غیر قانونی قبضے کو روکا جا سکے۔ اس کی حفاظت کے تمام تر انتظامات ایک ایسا سنگ میل ثابت ہوئے ہیں جس کے ذریعے پاکستان نے اپنے تاریخی ورثے کو بچانے کے لیے ایک شاندار قدم اٹھایا ہے۔ اسی دوران، والڈ سٹی اور متروکہ وقف املاک بورڈ کے درمیان ایک اہم معاہدہ طے پایا جس کے تحت اس تاریخی مندر کو مزید تزئین و آرائش کی جائے گی تاکہ اس کی خوبصورتی اور تاریخی اہمیت کو مزید اجاگر کیا جا سکے۔ اس معاہدے کا مقصد نہ صرف اس عمارت کی حفاظت کو بڑھانا ہے بلکہ اس کی تاریخ کو عالمی سطح پر پیش کرنا بھی ہے تاکہ دنیا بھر سے آنے والے زائرین اس کی اہمیت کو سمجھ سکیں۔

پاکستان کی حکومت اور متروکہ وقف املاک بورڈ کی قیادت میں اس تاریخی عمارت کی بحالی کا عمل نہ صرف جین مت کے پیروکاروں کے لیے ایک اہم موقع فراہم کرتا ہے بلکہ اقلیتی کمیونٹی کے حقوق کا بھی تحفظ کرتا ہے۔ یہاں آنے والے زائرین اپنے مذہبی عقائد کو آزادی سے اور دل جوئی کے ساتھ ادا کر سکتے ہیں، اور انہیں کسی بھی قسم کی مشکلات یا رکاوٹوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ اس عمارت کی تزئین و آرائش نے نہ صرف گوجرانوالہ بلکہ پورے پاکستان میں تاریخی ورثے کے تحفظ کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔

یہ عمارت ایک روشن مثال ہے کہ حکومت اور مختلف اداروں کی مشترکہ کوششوں سے نہ صرف تاریخی عمارتوں کو بچایا جا سکتا ہے بلکہ ان کی خوبصورتی کو بڑھا کر انہیں دنیا کے سامنے ایک نئی روشنی میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ متروکہ وقف املاک بورڈ کی قیادت میں اس عمارت کی بحالی اور اس کے تاریخی ورثے کو محفوظ رکھنے کی یہ کوشش پاکستان کی تاریخ کے ایک اہم حصے کو دوبارہ زندہ کرنے کا باعث بنی ہے، اور اس عمل سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ تاریخی ورثے کو بچانا اور اس کی حفاظت کرنا ہماری اجتماعی ذمہ داری ہے۔