ریڈیو لاہور کے 87سا ل


ن و القلم۔۔۔مدثر قدیر

لکشمی چوک سے ایبٹ روڈ کو مڑیں تو بائیں ہاتھ آخرپر ایمرس روڈ پر آتے ہوئے پہلی بلڈنگ ریڈیو پاکستان لاہور کی ہے جس سے میرا واسطہ آج سے تقریبا 40سال قبل ہوا جب میں اپنے گھر گوالمنڈی سے اپنی والدہ اور بہن کے ہمراہ ہر جمعتہ المبارک اور پھر کئ سال بعد اتوار کی صبح بچوں کے پروگرام روشن دنیا میں شریک ہوتا ان دنوں اس پروگرام کی کمپئیر ریحانہ صدیقی اور منور سعید جبکہ پروڈیوسر نسرین انجم بھٹی ہوتی تھیں جن کے توسط سے میں صداکار ابنا اور ریڈیو پاکستان لاہور کے ڈراموںاور فیچرزمیں چائلڈ اسٹار کام کرنے لگا، کئی سال میرا یہی مشغلہ رہا بعد میں جب پروڈیوسر برکت اللہ ریڈیو پاکستان راولپنڈی سے ٹرانسفر ہوکر آئے اور ڈرامہ سیکشن کے انچارج بنے تو انھوں نے مجھے ریڈیو لاہور کےڈراموںمیں کام دینا شروع کردیا جسے بعد میں پروڈیوسر آفتاب اقبال نے مزید بڑھایا اور پروگرام جمہور دی آواز جو اب سوہنی دھرتی کہلاتا ہے اس میں جاری پنجابی ڈرامے اور فیچرز میں کاسٹ کرنے لگے اور یہ سلسلہ دو دھائیوں تک جاری رہا ۔وقت گزرنے کے ساتھ میں صحافتی زندگی میں داخل ہوا اور قلم مزدوری کے تحت کام کرتے ہوئے ریڈیو لاہور کی خدمات پر آرٹیکلز بھی لکھنے شروع کیے اور 16دسمبر 2013میں ریڈیو لاہور کے 75سال پر ایک فیچر لکھا جو اسی دن نشر ہوا ۔ دسمبر 14 میں شادی کے ایک دن بعد مجھے ریڈیو پاکستان لاہور میں بطور گیسٹ پروڈیوسرکی نوکری ملی جس کی وجہ سے ریڈیو لاہور سے میری وابستگی آج بھی قائم ہے۔ بر صغیر پاک وہند میں براڈ کاسٹنگ کا آغاز 1923ء میں ہوا جب فلم نگری بمبئے میں پہلا پرائیویٹ ریڈیو کلب قائم ہوا ۔ریڈیو کلب کے اس نئے تجربے نے جلد ہی عوام میں مقبولیت حاصل کرلی اور لاہور میںبھی وائے ایم سی اے کی بلڈنگ میں بھی ایک پرائیویٹ ریڈیو لاہور ریڈیو کلب کے نام سے 1926ء قائم ہوگیا ۔حکومت برطانیہ نے ریڈیو کی عوام میں مقبولیت کے ہیش نظر ہندوستان میں 23جولائی 1927ء کو اپنے ایک حکم نامہ کو جاری کرتے ہوئے انڈین براڈ کاسٹنگ کمپنی کا آغاز کردیا اور 3سالوں میں اسکی مقبولیت کے پیش نظر اسے انڈین براڈ کاسٹنگ سروس کا نام دے دیا اور اسے تجرباتی طور پر محکمہ لیبر اور انڈسٹری کے ماتحت کردیا ۔1935ء میں پہلی بار کنٹرولر آف براڈکاسٹنگ کے عہدے کا آغاز ہوا اور لائنن فیلڈنگ کو پہلا کنٹرولر آف براڈ کاسٹنگ تعینات کیا گیا جبکہ ذولفقار علی بخاری ان کے اسسٹنٹ تعینات ہوئے۔8جون 1936ء کو انڈین براڈ کاسٹنگ سروس کا نام ایک بار پھر تبدیل کرکے آل انڈیا ریڈیو رکھ دیا گیا اور اسے اب منسٹری آف کمیونیکیشن کے ماتحت کردیا گیا ۔اس وقت تک برصغیر میں 3ریڈیو اسٹیشنز قائم ہوچکے تھے جبکہ لاہور کی ثقافت اور تہذیب کو مدظر رکھتے ہوئے یہاں پر بھی آل انڈیا ریڈیو کا اسٹیشن قائم کرنے کا فیصلہ ہوا اور فیلڈن کے اسسٹنٹ ذوالفقار علی بخاری کی سربراہی میں لاہور میں 5کلو واٹ میڈیم ویو کے ریڈیو اسٹیشن کوگورنر ہائوس کے نزدیک سر فضل حسین کی کوٹھی میں16دسمبر 1937ء میں آل انڈیا ریڈیو کا لاہور اسٹیشن قائم ہوگیا جبکہ اے اے ایڈوانی اس کے پہلے اسٹیشن ڈائریکٹر تعینات ہوئے ۔اس ریڈیو اسٹیشن نے جلد ہی عوام میں اپنی مقبولیت قائم کرلی جس کے بعد حکومت انگلستان نے آل انڈیا ریڈیو کو ایک نئی وزارت انفارمیشن اینڈ براڈ کاسٹنگ کے ماتحت کرتے ہوئے لاہور میں 10 کلو واٹ میڈیم ویوکا نیا ٹرانسمیٹر بھی لگا دیا۔تاکہ اس اسٹیشن کی نشریات کا دائرہ وسیع کیا جائے اور امرتسر،جالندھر،سیالکوٹ ، فیروز پور جیسے بڑے شہروں کے لوگ بھی ریڈیو لاہور کی نشریات سن سنیں۔اس دور میں لاہور ریڈیو سے اوم پرکاش،میراجی،کامنی کوشل ،سعادت حسن منٹو،راجندر سنگھ بیدی،شوکت تھانوی ،امتیاز علی تاج،پران جیسے فن کار وابستہ ہو چکے تھے ۔ آل انڈیا ریڈیو اسٹیشن لاہور سے جہاں راجندر سنگھ بیدی کے ڈرامے مقبول ہورہے تھے وہیں دوسری جانب اوم پرکاش،کامنی کوشل کی آوازیں ہوا کی لہروں پر اپنا رنگ جمائے سنائی دیتی تھیں یہی نہیں بلکہ امرتا پریتم کی شاعری بھی اپنا آہنگ قائم کررہی تھی اور افسانہ نگاری کے شہنشاہ سعادت حسن منٹو کے مسودات کی گونج بھی اسی ریڈیو لاہور سے ہی صوتی رنگ بناکے نکلی ۔ ریڈیو لاہور کے اوائل دنوں میں جہاں راجندر سنگھ بیدی کا ڈرامہ خواجہ سراء اور نکل مکانی کامیاب ہوا وہیں دوسری جانب شعبہ موسیقی میں مقبول گھرانوں سے تعلق رکھنے والے فن کاروں اور قوالوں کی آوازوںکوبھی ہوا کے دوش پر سامعین تک پہنچایا گیا ۔ان فن کاروں میں بھائی چھالیہ پٹیالہ والے ، دینہ قوال آف جالندھر،مبارک علی ،فتح علی ،دلیپ سنگھ ترویدی،امرائو ضیاء بیگم ،نواب بائی ،دلشاد بیگم ،مختار بیگم،ذینت بیگم،پرکاش کور،ملکہ موسیقی روشن آراء بیگم،محمد رفیع،اوپی نئیرجبکہ کلاسیکی موسیقی کے فنکار بڑے غلام علی خان، ماسڑرتن،برکت علی خان،صداقت علی خان ، نزاکت علی خان،فتح علی خان اور امانت علی خان شامل تھے ۔جنہوں نے اپنی آوازوں کی بلند لے اور تال کو سامعین تک پہنچایا۔ 1937ء سے لے کر 1947ء تک ریڈیو لاہور برصغیر کا واحد اسٹیشن تھا جو 3بڑے مذاہب اور ان کے کلچر کے حوالے سے پروگرام نشر کرتا تھا اس دور میں تحریک پاکستان اپنے عروج پر تھ اور ملک تقسیم ہونے کا کام اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہا تھا 14اگست کو جیسے ہی ملک تقسیم ہوا ویسے ہی آل انڈیا ریڈیو کا بٹوارہ ہوگیا اور نوزائیدہ مملکت پاکستان کے حصے میں لاہور،پشاور اور ڈھاکہ کے ریڈیو اسٹیشنز آئے ۔ریڈیو لاہور کی زندگی کا دوسرا دور 13 اور 14 اگست کی درمیانی شب شروع ہوا اس وقت لاہور ریڈیو اسٹیشن کے اسٹیشن ڈائریکٹر جے کے مہرہ تھے جنہوں نے اعلی حکام کے کہنے پر چارج سلمان احمد کو دے دیا ۔رات 11بجکر 50منٹ پر یہ اعلان کیا گیا ہم آل انڈیا ریڈیو لاہور سے بول رہے ہیں ہمارے اگلے اعلان کا انتظار فرمائیے اور پھر 0 آورز میں مصطفے علی ہمدانی نے جوش سے یہ اعلان کیا ۔ یہ ریڈیو پاکستان ہے۔ آپ کو آزادی مبارک ہو۔15اگست کی صبح کو تلاوت کے بعد بانی پاکستان کی تقریر کو نشر کیا گیا اور ریڈیو پاکستان کے پہلے ڈائریکٹر جنرل کی حثیت سے ذوالفقار علی بخاری نے اپنا چارج سنبھالا۔ تقسیم کے بعد مہاجرین کی آمد اور لاہور سے بڑی تعداد میں صداکاروں کی ہندوستان رخصتی ہوئی جنکی جگہ ہندوستان سے آئے صداکاروں اور تکنیکی افراد نے مکمل کی اور ریڈیو پاکستان لاہور سے پروگراموں کے شیڈیول کو بھی تبدیل کیا گیا ۔ اب سب سے پہلے تلاوت کلام مجید فرقان حمید کو نشر کیاجانے لگا اس کے بعد مختلف تعلیمی ،اصلاحی پروگرام نشر کیے جانے لگے ان دنوں میں ریڈیو پاکستان لاہور کو جو ٹیلنٹ میسر آیا وہ اپنی مثال آپ تھااگر ڈرامہ سیکشن کی بات کی جائے تو صداکاروں کی طویل فہرست تھی جن میں ایک سے بڑھ کر ایک نایاب اپنے فن میں یکتانگینہ موجود تھا کس کس کا نام لیں یہاں تو ایک طویل ہجوم تھا جن میں ایس ایم سلیم،نذیر حسینی،عامر خان، محمد حسین،سلطان کھوسٹ،رفیع پیر، واسطی،آفتاب احمدشامل تھے وہیں دوسری جانب نئے لکھنے والوں کو بھی خوش آمدید کہا گیا جنہوں نے ریڈیو لاہور سے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا ۔ان نئے لکھنے والوں میں اشفاق احمد،ڈاکٹر انور سجاد،اے حمید،مرزا ادیب ،انتظار حسین،جبکہ سید امتیاز علی تاج ، شوکت تھانوی اور چراغ حسن حسرت کا نام سئینیرز میں لیا جاتا تھا۔اسی طرح کمپئیرنگ کے حوالے سے ابی ایک طویل فہرست تھی جن میں نظام دین،قائم دین ،عبدل لطیف مسافر اور اخلاق احمد دہلوی سمیت کئی نام تھے اور اگر شعبہ موسیقی کو لیا جائے تو استاد امانت علی خان۔فتح علی خان،روشن آراء بیگم، فریدیہ خانم ،آئرن پروین،کوثر پروین،نسیم بیگم،ذینت بیگم، محمد عالم لوہار،عنایت حسین بھٹی ،سائیں اختر حسین اور سب سے بڑھ کر ملکہ ترنم نورجہاں شامل تھیں ،اور اگر اس فہرست میں شعراء حضرات کا نام نہ لیا جائے تو یہ فہرست مکمل نہیں ہوتی شعراء کرام میں حفیظ جالندھری ،فیض احمد فیض،صوفی تبسم،ناصر کاظمی ،احمد ندیم قاسمی ،حفیظ ہوشیار پوری،احسان دانش،استاد دامن،عدل حمید عدم،ن م راشد اور مولانہ ظفر علی خان جیسے جید فاضل سمیت کئی اہل علم ہستیاں موجود تھیں جنہوں نے آنے والے دنوں میں ملکی تعمیر وترقی کی خاطر اپنا کردار ادا کیا ۔ ریڈیو لاہور سے ایک طرف تو جشن بہاراں کے نام سے ایک طرف تو میوزیکل شوز کا اہتمام کیا جانے لگا جس میں ہر گلوکار اپنی پرفارمنس دینے کو بے قرار رہتا تو دوسری جانب ڈرامہ سیکشن میں جشن تمثیل کے نام سے ڈراموں کا آغاز کیا ۔ جشن بہاراں اور جشن تمثیل کی وجہ سے ریڈیو پاکستان لاہور میں آرٹ وفن کے نئے زاویے تخلیق ہوئے اور صداکاروں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور ریڈیو پاکستان لاہور کی عوام میں مقبولیت کے پیش نظر ریڈیو پاکستان لاہور کی موجودہ عمارت کو تعمیر کرنے کا اعلان ہو اور 28اگست 1965 ء کو اس موجودہ عمارت کا افتتاح صدر پاکستان فیلڈ مارشل جنرل محمد ایوب خان نے کیا اس موقع پر موسیقی کے پروگرام کا اہتمام کیا گیا جس میں نامور فن کاروں نے اپنی آواز کا جادو جگایا اور شو کا اختتام سائیں اختر کی پرفارمنس پر ہوا ۔اس نئی عمارت میں آئے ابھی ایک ہفتہ بھی نہ گزرا تھا کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت نے رات کی تاریکی میں حملہ کردیا اور 17روز تک جاری رہنے والی جنگ میں ریڈیو پاکستان لاہور کا جو کردار سامنے آیا اس کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا ۔6ستمبر 1965ء کو دن 12بجے صدر پاکستان جنرل محمد ایوب خان نے ریڈیو پاکستان کے ذریعے میں ملک پر ہندوستان کے بزدلانہ حملے سے آگاہ کیا اور حالت جنگ کا اعلان کیا اسی لمحے ریڈیو پاکستان لاہور نے اپنے وسائل ،قوت اور توانائی کے ساتھ جنگ کے اس محاز پر اپنے فوجی بھائیوں کے شانہ بشانہ چلنے کا عزم کیا اور 17روزہ جنگ کے دوران یہ بتا دیا کہ قوم کی خدمت بلند کرنے اور جزبہ حب الوطنی ابھارہ نے میں ریڈیو بھی عظیم خدمت سرانجام دے سکتا ہے کاور یہی ہوا اس نشریاتی ادارے سے تعلق رکھنے والا ہر شخص چاہے وہ شعبہ خبر میں تھا یاں انتظامیہ میں ،تخلیق کار تھا یا صدا کار،موسیقار تھا یاں گلوکار،افسر تھا یا پھر محض ادنہ ملازم،جزبہ حب الوطنی کے تحت اپنی افواج کے ہمراہ دشمن کے سامنے سینہ تان کر کھڑا ہوگیا ۔ریڈیو پاکستان لاہور سے ندائے حق جیسے پروگراموں کے علاوہ ،تلقین شاہ کی باتیں ،جمہور کی آواز جس میں نظام دین ،قائم دین اور مسافر کی گرماگرم گفتگو،اعجاز حسین بٹالوی کا پروگرام آج کی بات اور اس جیسے دوسرے پروگراموں کے ذریعے جنگ کی خبروں کو عوام تک پہنچایا گیاانہی دنوں میں ملک بھر کے تخلیق کار،شاعر ایک ہی مرکز ریڈیو پاکستان لاہور میں جمع تھے جہاں سے ہر روز موسیقی کا نیا فن پارہ تخلیق کیا جاتا جسے ملکہ ترنم نورجہاں اور دیگر فن کار اپنی آوازسے حقیقت کی شکل دیتے ۔1965ء کی جنگ کے بعد بھی ریڈیو پاکستان لاہور نے ہر مصیبت اور دکھ کی گھڑی میں اپنے ہم وطنوں کی پاسبانی اور رہنمائی ،چاہے وہ 1971ء کی پاک بھارت جنگ ہو یا پھر لاہور میں ہونے والی اسلامی سربرہی کانفرنس ،کرکٹ کے ورلڈ کپ کا سیمی فائنل،فائنل ہو یا میڈیکل ایجوکیشن کی کانفرنس کسی دکھی حادثے کی انفارمیشن ہو یا پھر کسی غیر ملکی سربراہ کی آمد ریڈیو پاکستان لاہور ہر جگہ ملکی خدمت کے پیش نظر اپنی موجودگی کا احساس دلاتا رہا ہے اور اس کے سامعین آج بھی اس کی نشریات کو سن کر اسی طرح لطف اندوز ہوتے ہیں جیسے ماضی میں نظام دین دیاں گلاں ،ہیر وارث شاہ دے قصے ،ظفر علی خان کی نعتیہ شاعری اور حفیظ جالندھری کے شاہ نامہ اسلام کو سنتے تھے اور اس نشریاتی ادارے کے پروڈیوسرز آج بھی اسٹیشن ڈائریکٹر کی زیر نگرانی ایسے پروگرامز بنانے میں مصروف عمل ہیں جس سے عظیم سے عظیم تر کے سفر کو جاری رکھا جاسکے۔